Posts

Showing posts from December, 2021

Assignment Preparation (Guidelines and Important Tips)

Image
Student's Assignment Preparation Written By: Rana Asif Shahzad Ali   Assessment is a necessary part of the teaching and learning process, helping us measure whether our students have really learned what we want them to learn. While exams and quizzes are certainly favorite and useful methods of assessment, out of class assignments (written or otherwise) can offer similar insights into our students' learning.  The majority of students fail since they go directly to writing the assignment without some proper preparation for the writing process. As a rule, this is always a recipe for failure in the academic world. Don’t expect such bad results? Then, take into consideration our following tips at each writing stage. The steps below will help you plan, research, write and review your assignment. The most important thing is to start and start early. If you give yourself enough time to plan, research, write and revise your work you won't have to rush. Once you've started...

Hawthorne Studies in Management

Image
Written By: Rana Asif Shahzad Ali Professor George Elton Mayo (1880-1949) has secured fame as the leader in a series of experiments which became one of the great turning-points in management thinking. At the Hawthorne plant of Western Electric, he discovered that job satisfaction increased through employee participation in decisions rather than through short-term incentives. Mayo's importance to management lies in the fact that he established evidence on the value of a management approach and style which, although not necessarily an alternative to F W Taylor's scientific management, presented facts which Taylorism could not ignore. Key Takeaways: Hawthorne Effect The Hawthorne effect refers to the increase in performance of individuals who are noticed, watched, and paid attention to by researchers or supervisors. In 1958, Henry A. Landsberger coined the term ‘Hawthorne effect’ while evaluating a series of studies at a plant near Chicago, Western Ele...

تبدیلی کا عمل (پوسٹ مارٹم)

Image
 تبدیلی کا عمل (نظریات اور تصورات کی راست بازی) از رانا آصف شہزاد علی ہم زندگی میں بہت سے انگریزی کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جن کا مقصد یا تو اردو کے ساتھ انگریزی کا تڑکا لگانا ہوتا ہے یا اپنی بات میں کشش , زور یا وزن پیدا کرنے کے لیے ہم  ایسا کرتے ہیں۔ انگریزی کا ایک لفظ انٹیگریٹی عام طور پہ اس کا ترجمہ دیانتداری یا امانتداری کیا جاتا ہے۔ جس سے گزارہ تو ہو جاتا ہے مگر ناتواں دل کی تسلی نہیں ہوتی۔کیونکہ دیانتداری "Honesty" کا ترجمہ ہے اور یوں یہ "Integrity" کے لیے یہ لفظ موزوں نہیں لگتا۔ "Integrity" کےلئے راست بازی اچھا متبادل ہو سکتا ہے۔ یہاں فی الحال اس لفظ کا ترجمہ مقصد نہیں ہے بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ زندگی میں راست بازی کی اہمیت کتنی ہے اور اصل میں اس سے مراد کیا ہے؟ راست بازی کو جانچنے کا معیار یہ نہیں کہ آپ کتنی مرتبہ اپنا موقف تبدیل کرتے ہیں۔بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنا موقف یا ذہن کیوں بدلتے ہیں۔ محض ذاتی اناء کی تسلی کے لیے یا عوامی خوشنودگی کی خاطر اپنی بات کو بدل دینا کھوکھلے پن کی نشانی ہے۔البتہ اپنے موقف کا نئے حقائق کی روشنی میں جائزہ لینا،  سیکھنا...

پریزینٹیشن اور پبلک سپیچ (تعارف، اصول اور مراحل)

Image
عام طور پہ کسی بھی فارمل معلومات کو جس کو شئیر کرنا ہو، دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔  پریزینٹ کرنے کا ہنر ذاتی شخصیت کا تاثر پریزینٹیشن کے یہ دونوں پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کو وربل اور نان وربل  پریزینٹیشن کی تیاری، معلومات کا تبادلہ اور پریکٹس میں استعمال کرتے ہیں۔ پریزینٹیشن معلومات کے تبادلے کا نام ہے جس کو اس وقت اختیار کیا جاتا ہے کہ جب آپ نے مختلف سچوئشنز میں بولنا ہو ۔اور یہ پریزینٹیشن ایک گروپ، میٹنگ یا کسی ورکنگ ٹیم کو بریف کرنے کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ عوام کے سامنے کسی ایشو پہ بولنا کافی حد تک مختلف اس ڈسکشن سے جو کہ آپ بزنس گروپ ، ٹیم، یا پروفیشنلز کے سامنے کرتے ہیں۔ پبلک کے سامنے متاثر کن خطاب ایک آرٹ کہلاتا ہے۔جتنی اچھی اور متعلقہ سپیچ آپ کریں گے اتنی اس کی ریسپانس آپ کو ملتا ہے۔ پریزینٹیشن دینے کی ضرورت عمومی طور پر اس وقت پڑتی ہے کہ جب کسے نئی تحقیق، آرٹیکل، تکنیک یا ایشو پہ گفتگو کرنی ہوتی ہے۔ ایک اچھی اور متاثر کن پریزینٹیشن آپ سے تقاضا کرتی ہے کہ آپ کو ٹاپک کی مکمل سمجھ بوجھ ہو، جامع تیاری اور پریکٹس کر لی ہو، پریزینٹیشن دینے کا مقصد سننے والوں کو بہتری...

لیڈر اور لیڈر شپ کے تقاضے

Image
 پچھلی دو دہائیوں میں عالمی افق پر اجاگر ہونے والے گھمبیر مسائل کی ایک بڑی وجہ عالمی قیادت میں دور اندیشی کا فقدان، مسائل کے حل کیلئے غیر سنجیدہ رویہ اور غیر ضروری اہداف کا حصول ہے۔ جس طرح ہمارے سماجی اور معاشرتی رواج میں سے پنچائیت غائب ہو گئی ہے ‘ بالکل سی طرح دنیا میں چودھراہٹ کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ امریکہ کا اقوام عالم پر آہستہ آہستہ کنٹرول ختم ہورہا ہے۔ افغانستان ہو یا ماحولیاتی تبدیلیوں کیلئے کی جانے والی کوششیں ، یا ایران ، امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے باوجود ان مسائل کو اپنی غیر مؤثر پالیسیوں اور اندرونی حالات کی وجہ سے حل کرنے سے قاصر ہے۔عالمی سطح پر چھوٹے ممالک ، بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر بھی حکومتوں کے کئے گئے فیصلوں کی بازگشت ملک میں ہر طرف گونجتی ہے۔عوام کی سوچ ، سیاسی قیادت کی سوچ کا عکس ہوتی ہے۔ کمزور ہمیشہ رہنمائی کیلئے طاقت ور کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں کے اہداف میں ابہام ہو گا تو دنیا تلاطم کا شکار ہوگی۔  اسی طرح اگر ملکی اہداف واضح نہیں ہونگے تو عوام میں بے چینی اور بے یقینی بڑھ جائے گی۔ اور یہی بے چینی دہائی...

ماہ دسمبر کے ستم ، پاکستان لہو لہو

Image
 محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔! ماہ دسمبر پاکستان کے لیے نہایت دکھ اور رنج و الم کا مہینہ ہے جس میں سقوطِ ڈھاکہ، سانحہ آرمی پبلک سکول اور محترمہ بینظیر بھٹو کی الم ناک شہادت جیسے دلخراش واقعات پیش آئے۔ زندہ قومیں ملک کی قسمت پہ اثر انداز ہونے والے لیڈروں اور شخصیات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ 10اپریل 1986 کو اپنی پہلی جلا وطنی سے واپسی پر محترمہ بینظیر بھٹو لاہور تشریف لائیں تو ملک بھر سے آئے لاکھوں جمہوریت پسندوں نے لاہور ائیر پورٹ سے لیکر مینار پاکستان تک ان کا ایسا فقید المثال استقبال کیا کہ جس کی مثال پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اپنی سیاسی تقریر کے آخر میں انہوں نے ایک شعلہ نواء نظم پڑھی "میں باغی ہوں" مگر ترتیب کچھ یوں تھی کہ اس نظم کا آخری بند سب سے پہلے پڑھا۔ شاید یہ چیز ان کے وجدان میں سماء گئی تھی کہ وہ بھی جمہوریت پسندوں کے لیے قربان ہو جائیں گی اور وہ آخری بند کچھ یوں تھا۔۔۔۔ میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے۔۔۔ میرے سر پہ ظلم کا پھندا ہے۔۔۔ میں مرنے سے کب ڈرتی ہوں۔۔۔ میں موت کی خاطر زندہ ہوں۔۔ میرے خون کا سورج چمکے گا۔۔ تو بچہ بچہ پھر بولے گا۔۔۔۔۔ میں...

نظام انصاف کی بے حرمتی

Image
  ‏اٍشتعال میں آ کر برطرف کر دینا اور بعد میں مُعاف  کرکے بحال کر دینا یہ بادشاہوں کا رویہ تو ہو سکتا ہے کٍسی قانون کے رکھوالے یا قاضی کا ہر گز نہیں۔۔۔ کل مرتضیٰ وہاب کی سپریم کورٹ حاضری کے وقت عوام الناس نے یدلیہ عالیہ کا رویہ اک نیا تماشہ دیکھا۔۔۔۔ یاد کریں یدلیہ کے کلنک ثاقب ناسور کے الفاظ۔۔۔۔ قانون وہ نہیں جو آئین میں لکھا ہے ،،،،قانون وہ ہے جو میں کہتا ہوں۔۔۔ ‏‎جس قانون میں "استحقاق "اور "توہین عدالت " کے الفاظ موجود ہیں وہ قانون نہیں بادشاہی فرمان ہوتا ہے۔ ‏‎یہ سپریم کورٹ میں بیٹھے  ہمارے قاضی القضاء ہیں  جب بڑے منصب پر چھوٹے لوگ براجمان ہوجاتے ہیں  اسی کو پیار سے پاکستان کہتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ ‏‎یہ قاضی، یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی دونیم ان کی ٹھوکر سے آئین اور قانون، سمٹ کر عوام ان کی ہیبت سے رائی یاد رکھیں۔۔۔۔! ‏‎‎پاکستان میں کرسی کا مطلب ہی بادشاہت ہے، چاہے وہ ایک عام سا چپڑاسی ہی کیوں نہ ہو۔

جمہوریت کا مقدمہ

Image
جمہوریت کا مقدمہ۔       از رانا آصف شہزاد علی ‏‎یہ سابقہ لاحقے، کرپٹ، آئین کے دشمن، اب کھل کے سامنے آ رہے ہیں ۔ جمہوریت پہ شب خون مارنا ان کی عادت بن گئی ہے۔اس سوچ اور اپروچ کا سد باب کرنا جمہوری قوتوں کی پہلی زمہ داری ہے۔ ان کی اصلاح   کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ اب ضروری ہو گیا ہے ۔۔۔۔ صحیح معنوں میں جمہوریت کےدشمن ہیں یہ ۔۔۔ اور صدارتی سسٹم کی آڑ میں پھر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں. جیسا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے دم چھلے جنرل ایوب خان نے نوکر شاہی کو ساتھ ملا کر واردات ڈالی تھی اور محترمہ فاطمہ جناح کو غدار تک کہا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی نوے دن کا کہہ کے قوم کے گیارہ سال کھا لیے۔اگر طیارہ حادثہ نہ ہوتا شاید اب تک ضیا الحق کی شخصیت سے یہ قوم نجات نہ پاتی۔ اور پھر مشرف کہ جو سیدھی سادھی دھونس دھاندلی سے ایک منتخب سیاسی لیڈر کو ہٹا کر زبردستی اقتدار پہ قابض ہو گیا۔ جب ہم جمہوریت اور جمہوری سوچ کے نہ پنپنے کا نوحہ پڑتے ہیں تو اس میں سارا قصور عسکری اسٹبلشمنٹ کا بھی نہیں ہے۔پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ میں عدلیہ کا رول بھی کوئی آئیڈیل ی...

Organizational Planning, Types, Criticism & Related Issues

Image
  Planning Planning involves defining the organization’s goals, establishing an overall strategy for achieving these goals, and developing a comprehensive set of plans to integrate and coordinate organizational work. The term planning as used in this chapter refers to formal planning. The quality of the planning process and appropriate implementation probably contribute more too high performance than does the extent of planning. S.P. Robbins:     “A process that involves defining the organization’s goals, establishing an overall strategy for achieves those goals and developing a comprehensive set of plans to integrate and coordinate organizational work”. Levels of Planning: The most popular ways to describe organizational plans or levels by their breadth, time frame, specificity, and frequency of use. Following are the levels of planning and management who make such plans are as under. Strategic Plans: “Plans that apply to the entire organization, establish th...

Accounting from history perspective

Image
How humans invented this thing called Accounting (A brief history) The concept of currency Somewhere between 10,000 and 15,000 years ago, human communities learnt to cooperate with one another in a way that gave them access to a wider range of resources. Trade was no longer limited to those who had goods that were valuable to each other, allowing people to benefit from the fruits of many other types of labor.  For this to work, they needed something to symbolize the exchange of resources; something offering a common measure of value. Early money came in a variety of formats, from feathers and vodka, to cow dung and grains. Coins didn’t emerge until between 500 and 700 BC. Abstract counting Both currency and accounting began through ‘concrete counting’, which means counting being object-specific. So five boats would be represented by a different word or object than five apples. It was only when objects, words and symbols began to be used to represent abstract numbers, such a...