Posts

کامرس ایجوکیشن کا زوال ،وجوہات اور تدارک

Image
  تحریر و آئیڈیا: رانا آصف شہزاد علی  شعبہ تعلیم کامرس کا زوال ۔۔۔ لمحہ فکریہ! تعلیمی شعبہ کامرس کی کم ہوتی ہوئی ڈیمانڈ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کی وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کامرس ایجوکیشن کا گرتا ہوا معیار اور ڈیمانڈ اصل میں غیر منطقی ایجوکیشنل پالیسیز ، غیر معیاری کامرس سلیبس ، پروفیشنل ٹریننگ کی کمی ، رائج ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی ، اور سکہ رائج الوقت مارکیٹ میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پیکجز کی بنیادی آگاہی نہ ہونا اور اداراجاتی سطح پہ ان کا نہ پڑھایا جانا ہی کا شاخسانہ ہے ۔ حالیہ دور میں پچھلے ہفتے گورنمنٹ آف پنجاب کے ایک فیصلے کے مطابق صوبے بھر میں تقریباً 90 گورنمٹ کالجز اور انسٹیٹیوٹ کامرس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ جن کو کامرس کی گرتی ہوئی ڈیمانڈ کے عوض انفارمیشن ٹیکنالوجی کالجز میں تبدیل کرنے کا پروپوزل دیا گیا ہے کیونکہ کامرس کی تعلیم مہیا کرنے کے عوض ہر لیکچرار کی مد میں گورنمنٹ کا تقریباً 3 لاکھ روپے خرچ آ رہا ہے اور پرفارمینس اور آؤٹ پٹ بہت کم ہو چکی ہے ۔ جو کہ کامرس کے شعبہ تعلیم کے لیے ایک الارمنگ سیچوئشن ہے ۔ ہمیں بحیثیت کامرس ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ...

پاکستان میں پاور سیکٹر کے کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی

Image
  اصل مدعاء کیا ہے ؟ تحریر و تحقیق: رانا آصف شہزاد علی   ان دنوں آئی پی پیز  کے کیپیسٹی چارجز کے بارے میں ایک عوامی سطح پہ تنازعہ کھڑا ہو گیاہے۔ آئیے اس کے حقائق اور فیکٹس اینڈ فگر پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ آپ کو فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا ۔ پاکستان میں 31 جنوری 2024 تک 46,035 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت ہے جس میں 28,811 میگاواٹ تھرمل، 10,635 میگاواٹ پن بجلی، 1,838 میگاواٹ ہوا، 882 میگاواٹ سولر، 249 میگاواٹ بیگاس اور 3,620 میگاواٹ نیوکلیئر شامل ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں کے دوران آئی پی پیز کو 8.344 ٹریلین روپے کی صلاحیت کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران آئی پی پیز کو 2.1 ٹریلین روپے کی صلاحیت کی ادائیگی کی جائے گی۔ پاکستان اکنامک سروے 2023-24 کے مطابق، 2024 میں نصب بجلی کی پیداواری صلاحیت 46,035 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ رہائشی اور صنعتی اسٹیٹس سے آنے والی زیادہ سے زیادہ کل طلب تقریباً 35,000 میگاواٹ ہے، جب کہ ترسیل اور تقسیم کی صلاحیت تقریباً 24,000 میگاواٹ پر تعطل کا شکار ہے۔ حالیہ دہائیوں میں، پاکستان مختلف وجوہات کی بنا پر ...

Power sector Capacity Charges payment... !

Image
Written & Researched by: Rana Asif Shahzad Ali These days, a public controversy has arisen regarding the capacity charges of IPPs. Let's take a look at its facts and figures. It will be easy for you to decide. Pakistan has a total electricity generation capacity of 46,035 MW as of January 31, 2024, which includes 28,811 MW thermal, 10,635 MW hydro, 1,838 MW wind, 882 MW solar, 249 MW bagasse and 3,620 MW nuclear. In recent decades, Pakistan has failed to meet the increasing demand for energy for various reasons, including an over reliance on fossil fuels for power generation, swelling oil prices, climate variation, inadequate alternative energy sources and insufficient technological advancement. In Pakistan, 41 thermal independent power producers (IPP's) with a total installed capacity of 17 642 MW and 8 hydro IPP's with a total installed capacity of 472 MW are operational. According to National Electric Power Regulatory Authority's (NEPRA) 2023 yearly report, Pakis...

باجوہ ڈاکٹرائن کی مجموعی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ

Image
تحریر و تحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی   ڈاکٹرائن باجوہ کی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ ۔۔۔۔  ا ز راہ قلم ۔۔۔ رانا آصف   ہمیشہ سے ہی نرگسیت اور بے عملی کے شکار پاکستان کے معاشرے نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ ہر دور کے قومی قسمت بدلنے کے کھوکھلے نعرے، سیاسی جمالیات اور شخصیت پرستی نے اسے لیڈر اور لیڈرشپ کے تقاضوں سے بے بہرہ کردیا ہے ۔ سیاسی معاملات ، عوامی مسائل کو چھو منتر سے حل کرنے ،پرا من معاشرہ اور صاف شفاف ایڈمنسٹریشن 1947 سے ہی اس قوم کا خواب رہا ہے ۔ مختلف ادوار میں تحفے کے طور پر اسے مختلف سلوگن دئے گئے جیسا کہ ۔۔۔  جمہوریت نہیں جدت ۔۔۔ روٹی ،کپڑا اور مکان ۔۔۔ نظام مصطفیٰ کا نفاذ ۔۔۔ قرض اتارو ،ملک سنوارو ۔۔۔ سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔۔ اور پھر نیا پاکستان ۔۔۔۔ مداری نے اپنی پٹاری سے کون کون سے کبوتر نکال کر اس بدقسمت قوم کو نہیں دکھائے اور اس قوم نے شوق سے نہیں دیکھے ۔ اور جس کا شاخسانہ یہ قوم مہنگائی ، غربت، منصوبہ بندی کا فقدان ، انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی اور سب سے بڑا نقصان ۔۔۔ اس قوم نے Hope یعنی امید کرنا یا لگانا ہی کھو دیا ہے ۔ آج کے کالم ...

"ایمان،یقین اور اللہ پہ توکل"ذہنی کشمکش اور فرسٹریشن کا ممکنہ حل

Image
  تحریر ۔۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی ا یک متوازن اور خوشحال زندگی گزارنے کے لئے بطور ایک ذی شعور انسان ،میرے کرنے کے کیا کام ہیں ؟ سیانے کہتے ہیں کہ جسے نقصان اٹھانا نہیں آتا ۔۔ اسے نہیں معلوم کہ کہ فایدہ کسے کہتے ہیں ۔اور جو ہار نے کے تجربات سے نہیں گزرا ۔۔۔ وہ جیت کی حقیقی لزت سے کبھی فیضیاب نہیں ہوسکتا ۔۔۔ موجودہ نظام حیات کی حقیقت ریل کی دو پٹڑیوں کی مانند ہے جو ہمیشہ ساتھ ساتھ تو چلتی ہیں مگر ایک دوسرے سے مل نہیں سکتی ۔۔۔۔ اور اگر مل جائیں تو ریل گاڑی کا چلنا ممکن نہیں رہے گا۔  اختلاف ایک زندہ معاشرے کی علامت اور فطری ہے۔انسانوں کی حیاتیاتی ساخت یکساں ہونے کے باوجود،ان کے فکری اور ذہنی رجحانات یکساں نہیں ہوتے۔ یہی عدم یکسانیت مختلف خیالات کو جنم دیتی ہے۔یہ خیالات نظام ہائے فکر میں ڈھلتے اور نظری تنوع اور ذہنی کشادگی کا سبب بنتے ہیں۔یہی تنوع علم کی دنیا کا جمال ہے۔مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے رسالے ''وحدتِ امت'' میں لکھا ہے کہ ایک معاشرے میں اگر لوگ اختلاف نہیں کرتے تواس کے دو سبب ہو سکتے ہیں ۔ایک یہ کہ سب کے سب غبی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔دوسرا سبب...

فلسفہ اور مقصدیت شہادت امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔ حقائق کی روشنی میں

Image
  تحریر و تحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی "بڑے اور عالی نسب لوگوں کے امتحان بھی بڑے ہوتے ہیں " حضورﷺ نے فرمایا ’’حسنؓ کے لیے میری ہیبت و سیادت ہے اور حسینؓ کے لیے میری جرأت و سخاوت ہے ۔‘‘ کربلا کا نام آج بھی ہمارے لبوں پر آتا ہے تو سیدنا حضرت امام حسینؓ بن علیؓ اور آپؓ کے مقدس جاں نثاروں کی جرأتوں، ہمتوں اور شہادتوں کا تذکرہ ہمراہ لاتا ہے۔ سماعت سے لفظ کربلا ٹکراتا ہے تو بے مثال قربانیوں کا تصور ازخود دل میں ابھرتا ہے۔ سرزمینِ کربلا کا کہیں بھی ذکر ہوتا ہے، تو وفا شعاریوں اور جاں نثاروں کی لازوال داستانوں کا خیال خود بخود دل و دماغ میں گونجنے لگتا ہے، کربلا کی فضائیں اور ہوائیں آج بھی انمول جذبوں کی امین ہیں،جو سیدنا حسین بن علیؓ اور آپؓ کے جاںنثاروں، جاںبازوں اور سرفروشوں کے سینوں میں موجزن تھے۔ جب کبھی اور جہاں کہیں شہادت کی تاریخ رقم کی جائے گی، کربلا کا نام نمایاں ہوگا۔ شہیدانِ حق کی انمول قربانیوں، بے مثال جاں نثاریوں، بے نظیر بہادریوں، لازوال جذبوں، حیران کن ہمتوں، قابلِ تقلید جرأتوں اور انمٹ داستانوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ جب بھی  ہمارے سامنے شہادت...

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جرات وشجاعت کا عملی اظہار ۔۔۔ دربار یزید میں شہادت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد تاریخی خطاب

Image
  تدوین و ترتیب ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی خلاصہ: تاریخ میں بڑے بڑے عالم و مبلغ صاحبان ذی وقار لوگوں کے خطبے ملتے ہیں لیکن ایک پاکدامن خاتون ۔۔۔ ہاں گفتگو میں فصاحت و بلاغت کے امام اور علم و آگہی کے گہوارے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نڈر اور پاکباز صاحبزادی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دربار یزید میں بھائی، بھتیجے، بیٹوں کے قاتلوں کے درمیان کھڑے ہو کر ایک ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ نہ ان سے پہلے کسی نے ایسے  ماحول میں خطبہ دیا اور نہ ہی کوئی تا قیامت دے سکے گا ۔ واقعہ کربلا پہ کئی حوالوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے، امت مسلمہ میں تقریباً ہر فرد اپنی فہم کے مطابق اس واقعہ کے متعلق علم رکھتا ہے لیکن یاد رکھیں!داستانِ کربلا اس وقت انسان کے دل پہ لکھی جاتی ہے جب اس کو معلوم ہو کہ  میدانِ کربلا میں کن عظیم نفوس قدسیہ نے ظلم سہے-  اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کو فرمایا کہ اے محبوب کریم (ﷺ)آپ ان لوگوں سے فرمائیے کہ مَیں فریضۂ رسالت کے ادا کرنے پہ تم سے کوئی اُجرت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا-اگر تم واقعتاً اس فریضہ کے عوض مجھے کچھ دینا چاہتے ہو تو وہ فقط اتنا ہے کہ میرے اقربا سے محبت کرو-...