Posts

Showing posts from May, 2022

عدالتی سیوموٹو ۔۔۔ جیوڈیشل ایکٹوزم ۔۔۔ پانامہ جے آئی ٹی پارٹ ٹو

Image
 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد ع لی جیوڈیشل ایکٹوزم ۔۔۔ پانامہ جے آئی ٹی پارٹ ٹو ‏مولانا فضل الرحمٰن صاحب ، خورشید شاہ صاحب اور محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے اپنی تقاریر میں نہایت اھم سوالات اٹھاۓ ھیں جو ھرپاکستانی کے دل کی آواز ھیں  حکومت کے خلاف چیف جسٹس کے از خود نوٹس میں کہا گیا ہے “ احتساب قوانین میں تبدیلی نظام انصاف کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے “ یہ بات تبھی مانی جا سکتی ہے جب ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا اختیار بھی نیب کو مل جائے ، 74 سالوں میں ثابت ہوچکا کوئی ادارہ اپنا احتساب خود نہیں کرسکتا. ‏کیا یہ ذیادہ بہتر نہ ہوتا کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لینے کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹس سے پراسیکویشن ٹیم کی تبدیلی پر رپورٹ طلب کرتی ؟ کیونکہ ٹرائیل کورٹس متعلقہ ہائیکورٹ کے برائے راست ماتحت ہوتیں ہیں پاکستان کے کریمنل جوڈیشل سسٹم کو اصل خطرہ نیب جیسے کالے قوانین، جانبدارانہ اور انتقامی پراسیکیوشن، عدلیہ پر سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ ، سیلیکٹڈ ججز اورنظریۂِ ضرورت کے تحت کئے جانیوالے فیصلوں سے ھے ۔ ‏بُزدلی دکھانے کی بجائے اگریسو ہوکر سیاست اور حکومت کرنے کا وقت ہے کہ پارلیمنٹ کا...

جب تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی پاکستان کے موجودہ سیاسی و آئینی بحران میں مقتدرہ کا چومکھی رول، عدلیہ کی قلا بازیاں ، سیاسی قیادت کے خلاف میڈیا وار کے تناظر میں ایک زبردست تجزیاتی تحریر  پاکستان ہمیشہ کی طرح اپنی تاریخ کے نازک موڑ پہ ۔۔🤔 جب تاج اچھالے جائیں گے جب تخت گرائے جائیں گے تب راج کرے گی خلق خدا اور نام رہےگا بس اللہ ک ا پاکستان میں پاور پالیٹکس ہو رہی ہے۔ ‏طاقت کے دو مراکز ہونے سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہونچ چکا ہے۔ ایک مرکز اصلی (De-facto)اور دوسرا دکھانے (De-jure) کا- کاش کبھی ایک پارٹی اور لیڈر اور کبھی دوسری پارٹی اور لیڈر کی محبت کے گیت گانے والے خرابی کے اس بنیادی سبب کو سمجھیں اور اس کا تدارک کریں۔ باقی سب مایا ہے۔ موجودہ یاسی حالات کا ڈاکٹرائن جس نے بھی لکھا تھا یا پورٹرے کیا ۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات اس کے ساتھ میل نہیں کھا رہے اور جو چیز ذہن میں رکھ کر خان کی حکومت ختم کی گئی یا کروائی گئی تھی ۔ اس پہ اتحادی حکومت کی فیصلہ سازی کی ستی نے یا جان بوجھ کر Delay کرنے نے ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ہرکاروں کو ایکسپو...

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال میں قومی ملکی منظرنامہ ‏انسان کے باشعور ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ ہر وابستگی کو پسِ پشت رکھ کر، غلط کو غلط اور درست کو درست کہے۔ اپنوں کی برائی کی تاویلیں اور غیروں کی اچھائی میں کِیڑے نہ تلاش کرے۔ مگر یہاں آپ کی اس مخلصانہ کاوش کو بھی سیاسی طرف داری یا تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سچائی اور زمینی حقائق پہ مشتمل تجزیہ نہیں بلکہ لوگ وہی بات سننا چاہتے ہیں جو ان کے موقف کو سپورٹ کرے۔ اختلاف رائے کی گنجائش رکھتے ہی نہیں کہ جو سوچ اور نظریات کو سدھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دو مختلف مکتبہ فکر کے درمیان مکالمہ اور منطقی دلائل درپیش حالات اور مشکلات کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ گفتکو میں یہی اصول کارفرما ہونا چاہئیے۔   ‏اگر ہم تحریک انصاف کے کسی ورکر یا رہنما سے شرط لگا لیں کہ وہ چند منٹ بغیر کسی پر الزام لگائے گفتگو کرے تو ہم دو منٹ میں ہی شرط جیت جائیں گے۔۔۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی پی ٹی آئی کے پاس مخالفین کو چور چور کہنے کے سوا کچھ نہیں ہے مگر یہ طے ہے کہ ساڑھے تین سال میں جبکہ تمام احتس...