Posts

Showing posts from March, 2022

تحقیقی مقالے کے لیے خلاصہ کیسے لکھا جائے ؟

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی How to write an Abstract for your Research Paper? اپنے ریسرچ پیپر کے لیے خلاصہ کیسے لکھیں۔ ایک پروجیکٹ یا مقالہ لکھنا واقعی مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہے کہ یہ تخلیق کرنا کتنا تکنیکی ہوسکتا ہے۔ ایک خلاصہ لکھنا مقالہ یا مقالہ لکھنے کے سب سے مشکل حصوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ اس مضمون میں، ہم لوگ ایک خلاصہ لکھنے کا طریقہ سیکھیں گے۔ خلاصہ کیا ہے؟ ایک خلاصہ ایک طویل تحریر کا مختصر خلاصہ ہے (جیسے مقالہ یا تحقیقی مقالہ)۔ خلاصہ واضح طور پر آپ کی تحقیق کے اہداف اور نتائج کا خلاصہ کرتا ہے تاکہ قارئین یہ سمجھ سکیں کہ مقالہ کس چیز کے بارے میں ہے۔ جب آپ باقی متن مکمل کر لیں تو اختتام پر خلاصہ لکھیں۔ اس میں درج ذیل چار اجزاء ہونی چاہئیں۔ آپ کا تحقیقی سوال اور مقاصد آپ کی حکمت عملی آپ کے اہم نتائج یا دلائل آپ کا آخری خیال خلاصہ کب لکھا جائے؟ ایک مقالہ، مقالہ، تحقیقی مقالہ لکھتے وقت، یا کسی علمی جریدے میں مضمون جمع کرواتے وقت، آپ کو تقریباً ہمیشہ ایک خلاصہ شامل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ عام طور پر، خلاصہ ہمیشہ آخری چیز ہونی چاہیے جو آپ لکھتے ہیں۔ یہ ا...

"مضمون نویسی" تعارف ، اصول اور وضاحت

Image
  تحریر ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی لفظ ’’ Essay ‘‘ لاطینی لفظ ’’ Exagium ‘‘ سے لیا گیا ہے، جس کے لغوی معنی کسی مسئلہ کو عام لفظوں میں پیش کرنا ہے۔ اس حوالے سے مضمون نویسی کی تعریف کچھ یوں ہوگی  ’’یہ تحریر کا ایک ایسا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو کسی موضوع، خیالات یا واقعات پر معلومات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایک لکھاری کی رائے بھی بیان کرتا ہے‘‘۔ عام طور پرمضمون نویسی کی دو اقسام ہیں، روایتی اور غیر روایتی۔ روایتی مضامین،عام طور پر تعلیمی فطرت یا پھر سنجیدہ موضوعات سے نمٹنے کا درس لیے ہوتے ہیں جبکہ غیر روایتی مضامین ذاتی اور مضاحیہ عنصر پر مبنی ہوتے ہیں ۔عنوان اور مواد کی تیاری مضمون لکھنے کے پہلے مرحلے میں عنوان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس عنوان پر مضمون لکھنے جارہے ہیں وہ بہترین اور دلچسپ ہے۔ اس حوالے سے اساتذہ، دوست احباب اور سینئر لکھاریوں کی رائے حاصل کی جاسکتی ہے۔اگلا مرحلہ تحقیق کا ہے، جس کے متعلق تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عنوان پر لکھنے سے قبل اس عنوان پر پہلے سے موجود کم ازکم 10مضامین لازمی پڑھیں، تاکہ آپ اپنی تحریر میں پختگی لا سکیں اور اپنی ت...

اپنے تحقیقی مقالے کے لیے ادبی جائزہ (لٹریچر ریویو) کیسے لکھیں ؟

Image
  تحریر ۔۔۔۔ ! رانا آصف شہزاد علی لٹریچر ریویو کیا ہوتا ہے ؟ یہ کیسے کرتے ہیں ؟ اور اسکو ڈاکیومنٹ کیسے کرتے ہیں ؟ اپنے تحقیقی مقالے کے لیے لٹریچر ریویو کیسے لکھیں۔ ادب کا جائزہ بنیادی طور پر کسی مخصوص موضوع پر علمی ذرائع کا سروے ہوتا ہے۔ یہ موجودہ علم کا عمومی جائزہ پیش کرتا ہے، جس سے آپ متعلقہ نظریات، طریقوں، اور تحقیق میں موجود خلاء کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ادبی جائزہ ۔۔۔۔۔ یہ ایک مختصر عبارت ہے جس کا مقصد کسی کام یا تحقیق کی وضاحت کرنا ہے تاکہ اسے معلوم کیا جاسکے۔ اگرچہ اس کی معروضی نقطہ نظر کی خصوصیت یہ ہے ، لیکن اس میں اس شخص کی تشخیص یا تعریف شامل ہوسکتی ہے جو اسے انجام دیتا ہے۔ اسی طرح ، آپ کسی بھی مضمون پر جائزہ لے سکتے ہیں۔ چاہے وہ جائزہ ادبی کام ، کاروبار، معاشرتی پہلو، سائنسی تحقیقات ، فلم ، آرٹ و کلچر، یا دوسروں کے درمیان ہو۔ ہوسکتا ہے کہ جائزہ لینے کی ایک مختصر مثال ہوفطرت سے مربوط ہونا مصنف ایمیلیو لیال نے دوستانہ اور آسان طریقے سے وضاحت کی کہ جسمانی اور نفسیاتی فوائد جو انسان کو باہر ورزش کرتے وقت حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس متن میں ٹھوس سائنسی تعاون کا فقدان ہے ، لی...

سی وی کیا ہوتی ہے؟ اور اسے کیسے بناتے ہیں ؟

Image
  تحریر ۔۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی ملازمت کے حصول کیلئے اچھی CV بہت اہمیت کی حامل ہے۔ CV ایک شخص کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریئر کی مکمل تفصیل بیان کرتی ہے۔ یہ عام طور پر ملازمت کے حصول کیلئے تیار کی جاتی ہے۔اور یہ نقطہء خاص طور پہ مد نظر رکھنا چاہئیے کہ کہ اس میں پروفیشنل اور موزوں الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے اور غیر ضروری تفصیل درج کرنے سے اجتناب کریں۔ ایسی کسی بھی تفصیل دینے سے گریز کریں کہ جو جھوٹ پہ مبنی ہو یا جسے ثابت نہ کیا جا سکے۔ آج کی دنیا میں یہ کسی بھی ملازمت کیلئے اپلائی کرنے کا رائج طریقہ ہے۔ CV آجر کو درخواست گذار کی اہلیت، تجربہ اور صلاحیتوں سے آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ بہت سے نوجوان ایک اچھی CV کی تیاری میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ عام طور پر وہ نہیں جانتے کہ کون سی معلومات، کس ترتیب میں درج کرنی ہیں، ضروری معلومات کو نمایاں کرنا ہے اور غیر ضروری تفصیلات اور طوالت سے گریز کرنا ہے۔ سی وی ایک ایسی جامع دستاویز ہے، جو سامنے والے کو آپ کی ذاتی، علمی اور پیشہ ورانہ زندگی کا ایک تعارف پیش کرتی ہے۔ سی وی کی تیاری کے دوران آپ اپنی تمام تر معلومات مثلاً تعلیم، تجربہ، ...

پاکستان کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ 1906 سے لیکر 2022تک

Image
  تحریر۔۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی مربوط سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز 1906 میں مسلم لیگ کے قیام سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس طویل سیاسی سفر کو ہم آسانی کے لئے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں پہلا حصہ جو شدید پر خلوص اور پرعزم سیاسی جدوجہد کا ہے جو 1906 سے لیکر 1947 پاکستان کے معرض وجود میں آنے تک کا ہے جبکہ دوسرا حصہ ڈگمگاتا سیاسی سفر کہلائے گا جو 1947 سے لیکر 2022 تک ہے ۔ سیاسی سفر کا مقدمہ 1947 میں جب برصغیر پاک وہند کی تقسیم ہوئی تو بحثیت مجموعی قوم پاکستانی منظم قوم تھے۔ آج قوم منتشر اور منقسم ہوچکی ہے۔ قیادت اہل، دیانت دار اور پرعزم تھی۔ آج کی قیادت زوال پذیر ہے ابھی تک مستحکم جمہوری سیاسی نظام منصفانہ معیشت اور عدل اور انصاف کا قابل رشک نظام پاکستان کے عوام کو نہیں دیا جاسکا۔ جس کی وجہ بار بار کا سیاسی عمل کا روکا جانا اور کچھ عالمی طاقتوں کا حاشیہ نشین بننے کی سنگین غلطی کا بھی عمل دخل تھا۔سیاسی سفر کا کوئی دور ایسا نہیں جسے گڈ گور نینس اور قانون کی حکمرانی کا دور کہا جاسکے۔ پاکستان کے حکمران مختلف پس منظر اور شعبوں سے تعلق رکھتے تھے مگر ان میں سے ایک...

اسٹیبلشمنٹ کیا ہے اور پاکستانی سیاست میں اس کا کیا کردار ہے ؟

Image
 تحریر ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار، اس کے اجزائے ترکیبی، اور اس کی رولنگ پالیسی پہ سیر حاصل بحث کستان کی سیاست اور اقتدار کی جنگ میں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ وہ کیوں ملک میں حقیقی اور آزادانہ جمہوریت کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے یا یوں کہیں کہ پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتی ؟   سٹیفن پی کوہن کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے کلب کی ممبر شپ کےلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے ذاتی مفادات اور بین الاقوامی سامراجی ایجنڈے کے مطابق ایک دوسرے سے مشترکہ سوچ و فکر اور اصول و نظریہ کے حامل ہوں۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب “آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے کوہن کے مطابق پاکستان کی یہ انصرامی قوت دراصل درمیانی راستے کے نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے جیسے، بھارت کے ہر قدم اور ہ...

سیاسی و معاشی عدم استحکام ، وجوہات اور تدارک

Image
  تحریر ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی سپیشل رپورٹ پاکستان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات سیاسی عدم استحکام ، وجوہات اور تدارک سیاسی عدم استحکام اور اس کی وضاحت کم از کم تین مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ ایک پہلا نقطہ نظر یہ ہوگا کہ اسے حکومت یا حکومت میں تبدیلی کی پیش کش کے طور پر بیان کیا جائے۔ دوسرا نقطہ نظر معاشرے ، جیسے مظاہرے ، قتل وغارت وغیرہ پر تشدد یا سیاسی بغاوت کے واقعات پر ہوگا۔ تیسرا نقطہ نظر حکومتوں میں عدم استحکام سے بالاتر ہوکر پالیسیوں کے عدم استحکام پر مرکوز ہوگا۔ مثال کے طور پر ، جس حد تک بنیادی پالیسیاں ، مثال کے طور پر املاک کے حقوق ، میں بار بار تبدیلی آتی ہے۔ میکس ویبر سکول آف بیوروکریسی کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔اس کے سیاسی نظریات کے مطابق ، سیاسی استحکام کا انحصار ریاست کی اتھارٹی ،قانون کی حکمرانی اور اختیارات کے جائز استعمال میں ہے جو حکومتیں عوامی طاقت کا استعمال کرتی ہیں تو اس کا انحصار ریاستی اخلاقیات اور اس کی عوامی پزیرائی میں منحصر ہے۔ سیاسی عدم استحکام انتخابی سیاست میں اتار چڑھاؤ کی نمائندگی کرنے والی ایک ناکام ریاست کے تصور سے بہت قریب سے وابستہ ہے ۔ س...