Posts

Showing posts from April, 2022

عمران خان پہ عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی ، معاشرتی اور اور قانونی صورتحال کا طائرانہ جائزہ

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی عمران خان کی نا اہلی سے دوبارہ عوامی عدالت تک کے ملکی، معاشرتی اور سیاسی ماحول پہ تازہ تجزیہ بغض نواز شریف میں ملک کا بیڑا غرق اس طرح سے کروایا کی ایک نالائق ، فاشسٹ، مینٹلی انسین ، بد زبان اور کینہ پرور شخص کے ہاتھ ملک تھما دیا اور حکومت ، معیشیت، اقدار، اخلاقیات، روایات اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل کو تباہ و برباد کروا دیا ۔۔۔۔ اگر نواز شریف کا توڑ لانا تھا تو کم از کم کسی قابل، تعلیم یافتہ، سیاسی سمجھ بوجھ اور پرو ڈیموکریٹ شخصیت کو ہی لے اتے۔۔۔۔ ناکہ ذہنی مریض قوم پہ مسلط کر دیں۔  یہ سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ پاؤں مروڑنے کا کام جن محکموں کے پاس ہے قوم اسے بہتر جانتی ہے اور ہمارے سلامتی کے زمہ دار ادارے مجرم ہیں اس قوم کے ۔۔۔ سماج کے اور نوجوان نسل کے۔۔۔ اگر جمہوریت یہاں نہیں پنپ سکی اس کی زمہ داری یقینی ساری اسٹیبلشمنٹ پہ ڈالی جاسکتی ہے۔ ۔۔۔۔  جو لوگ 2018 الیکشن میں ڈیوٹی کر چکے ہیں اور وہ حلفاً کہتے ہیں کہ جتنی بدترین دھاندلی اس عمران خان کو لانے کے لیے کی گئی اتنی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں نہیں ہوئی۔۔۔ ہمارے دفاعی اداروں کے ...

عمران خان صاحب ۔۔۔! اب قوم کا گھبرانا بنتا ہے۔

Image
   !تحریر و ترتیب ۔۔۔  رانا آصف شہزاد علی عمران خان کا قوم کے سامنے خطاب میں بار بار یہ کہنا  کوئی بہتر اور زیادہ تاثر نہیں قائم کر رہا بلکہ عوام میں ان کے نظرئے اور تمسخر کا باعث بن رہا ہے کہ میں امریکہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ، میں مغرب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں کیونکہ میں وہاں جاتا رہتا ہوں اور میرے بچے وہاں رہائش پذیر ہیں ۔میں کرکٹ کھیلتا تھا تو مجھے سب جانتے تھے۔ مگر خان صاحب یاد رکھیں اگر آپ نہیں جانتے تو پاکستانی قوم کو نہیں جانتے ۔ہم لوگ اپنے ہیروز کو عزت دیتے ہیں ،پیار کرتے ہیں مگر یہی لوگ پھر رہزن بنتے ہیں عوام کے جزبات کا مزاق اڑانے والے ، خود پسندی کا شکار ہونے والے نظریاتی بونے بن کر عوام کی آرزوؤں اور امنگوں کی تضحیک کرتے ہیں تو ان کے ساتھ وہی کچھ کرتے ہیں جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم نے تو آپ کی محبت میں مقتدرہ کی سیاسی دراندازی کو بھی فراموش کر دیا تھا ۔ مگر اپ پھر بھی نہ پرفارم کر سکے اور غربت اور مہنگائی میں کسی قوم کو اور مشکلات میں پھینک دیا گیا۔ 2018 کے الیکشن سے پہلے آپ نان ٹیسٹڈ تھے اب قوم نے آپ کو آزما لیا ہے۔ اور آپ فیل ہو گئیے ہیں ۔ قابلیت اگ...

تحریک عدم اعتماد کا مسترد ہونا ، قانونی پہلو، سازش یا وقت کی ضرورت

Image
  تحریر و ترتیب ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی  سیاسی صورتِ حال اور اتوار کو قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کی اسپیکر کی رولنگ پاکستان پر پاکستان   قانونی ماہرین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بیشتر وکلا کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے پاس تحریکِ عدم اعتماد کی کارروائی کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا جب کہ بعض وکلا اسے قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں کیا ہوا تھا؟ پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اتوار کو ایوان کی مختصر کارروائی کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف حز ب اختلاف کی پیش کردہ تحریکِ عدم اعتماد کو بغیر ووٹنگ کروائے غیر آئینی قرار دے کر مستر کر دیا تھا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں کہا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ اس لیے نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ اسے مبینہ طور پر ایک بیرونی ملک کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت نے پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر کےفیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ س...

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی زکوٰۃ ایک اہم ترین عبادت ہے ، جس کا بنیادی مقصد ہے : غرباء کی ضرورتوں کو پوری کرنا ؛ لیکن زکوٰۃ خرچ کرنے کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ جس پر چاہیں ، اس رقم کو خرچ کردیں ؛ بلکہ خود زکوٰۃ کے مصارف متعین فرمادیئے ، سورہ توبہ کی آیت نمبر : ۶۰ میں اس کا ذکر موجود ہے ، رسول اللہ ا سے ایک صاحب زکوٰۃ کے طلب گار ہوئے تو آپ انے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کو زکوٰۃ کے معاملہ یہ بات پسند نہیں آئی کہ پیغمبر یا کوئی اور شخص اس کا مصرف متعین کرے ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی مستحقین زکوٰۃ کی آٹھ مدات متعین فرمادیں ، اگر تم اس میں سے ہوتو میں تمہیں اس میں سے دوں گا ۔ مصارف زکوٰۃ ارشاد باری تعالیٰ ہے : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO  (التوبہ، 9 : 60) زکوۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے : ”ا...

پارلیمانی جمہوریت کیا ہوتی ہے ؟اس کا فلسفہ کیا ہے؟ اور نظام کیسے کام کرتا ہے ؟

Image
 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی جمہوریت حکومت کی ایک قسم ہے جس میں ایک جائز میکانزم کی ایک سیریز کے ذریعے شہریوں کی شرکت کو فروغ دیا جاتا ہے ، تاکہ وہ سیاسی ، معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی فیصلے کرسکیں۔ جمہوریت حکومت کا ایک ایسا نظام ہے جو انسانی حقوق ، اظہار رائے کی آزادی اور مساوی مواقع کا احترام کرتا ہے۔ اسی طرح ، یہ ایک منصفانہ نظام بننے اور معاشرے کی عمومی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ جمہوریت کا تصور "جمہوریت" کا تصور ، لفظی معنی "لوگوں کی طاقت" ، قدیم دور میں بھی پیدا ہوا۔ آج یہ دنیا کی سب سے وسیع سیاسی حکومت ہے۔ تاہم ، جمہوریت کی ابھی تک کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔ مختلف ماہرین اس تصور کے انفرادی اجزاء پر زور دیتے ہیں: اکثریت کی حکمرانی ، انسان اور شہری کے حقوق اور آزادیاں ، مساوات وغیرہ۔ جمہوریت کے اصول اور اقدار کیا ہیں؟ اس لفظ کا کیا مطلب ہے؟ آئیے اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ پہلے ہی بیان ہوا ہے ، مورخین اس موضوع پر ایک ہی رائے نہیں رکھتے ہیں۔ "جمہوریت" کے معنیٰ کو کئی طرف سے دیکھنا ضروری ہے۔ وسیع معنوں میں ، اس اصطلا...