پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال میں قومی ملکی منظرنامہ انسان کے باشعور ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ ہر وابستگی کو پسِ پشت رکھ کر، غلط کو غلط اور درست کو درست کہے۔ اپنوں کی برائی کی تاویلیں اور غیروں کی اچھائی میں کِیڑے نہ تلاش کرے۔ مگر یہاں آپ کی اس مخلصانہ کاوش کو بھی سیاسی طرف داری یا تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سچائی اور زمینی حقائق پہ مشتمل تجزیہ نہیں بلکہ لوگ وہی بات سننا چاہتے ہیں جو ان کے موقف کو سپورٹ کرے۔ اختلاف رائے کی گنجائش رکھتے ہی نہیں کہ جو سوچ اور نظریات کو سدھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دو مختلف مکتبہ فکر کے درمیان مکالمہ اور منطقی دلائل درپیش حالات اور مشکلات کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ گفتکو میں یہی اصول کارفرما ہونا چاہئیے۔ اگر ہم تحریک انصاف کے کسی ورکر یا رہنما سے شرط لگا لیں کہ وہ چند منٹ بغیر کسی پر الزام لگائے گفتگو کرے تو ہم دو منٹ میں ہی شرط جیت جائیں گے۔۔۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی پی ٹی آئی کے پاس مخالفین کو چور چور کہنے کے سوا کچھ نہیں ہے مگر یہ طے ہے کہ ساڑھے تین سال میں جبکہ تمام احتس...