حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جرات وشجاعت کا عملی اظہار ۔۔۔ دربار یزید میں شہادت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد تاریخی خطاب
تدوین و ترتیب ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی خلاصہ: تاریخ میں بڑے بڑے عالم و مبلغ صاحبان ذی وقار لوگوں کے خطبے ملتے ہیں لیکن ایک پاکدامن خاتون ۔۔۔ ہاں گفتگو میں فصاحت و بلاغت کے امام اور علم و آگہی کے گہوارے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نڈر اور پاکباز صاحبزادی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دربار یزید میں بھائی، بھتیجے، بیٹوں کے قاتلوں کے درمیان کھڑے ہو کر ایک ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ نہ ان سے پہلے کسی نے ایسے ماحول میں خطبہ دیا اور نہ ہی کوئی تا قیامت دے سکے گا ۔ واقعہ کربلا پہ کئی حوالوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے، امت مسلمہ میں تقریباً ہر فرد اپنی فہم کے مطابق اس واقعہ کے متعلق علم رکھتا ہے لیکن یاد رکھیں!داستانِ کربلا اس وقت انسان کے دل پہ لکھی جاتی ہے جب اس کو معلوم ہو کہ میدانِ کربلا میں کن عظیم نفوس قدسیہ نے ظلم سہے- اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کو فرمایا کہ اے محبوب کریم (ﷺ)آپ ان لوگوں سے فرمائیے کہ مَیں فریضۂ رسالت کے ادا کرنے پہ تم سے کوئی اُجرت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا-اگر تم واقعتاً اس فریضہ کے عوض مجھے کچھ دینا چاہتے ہو تو وہ فقط اتنا ہے کہ میرے اقربا سے محبت کرو-...