اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟
تحریر و آ ئیڈیا از رانا آصف شہزاد علی مقدمہ عنوان ۔۔۔۔ انسان نے جب بھی ہست کی تہہ تک پہنچنے کی جستجو کی ہے، وہ پیچیدگی سے سادگی اور انیک سے ایک کی طرف گامزن ہوتا چلا گیا۔ اس سے بعض اوقات یہ تاثر بھی مرتب ہوا کہ رنگوں اور پرتوں کی حامل یہ وسیع کائنات ،سمندر کی سطح پہ مچلتی ہوئی ان موجوں کی مانند ہے جن کی اپنی کوئی ہستی نہیں۔ مثلاً تصوف نے کائنات کے مظاہر کو رسی میں سانپ کے مماثل قرار دیتے ہوئے انہیں سراب یا مایا کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقیقی نہیں، محض حقیقت کی پرچھائیں ہے۔، اس کا مطلب ہے مقصود کی طلب، جستجو کی لگن ،سچائی کی تڑپ اور عمیق مشاہدہ صحیح راستے پہ لے جاتا ہے اور سچے ،کھرے،کھوٹے کی پہچان میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے. یہاں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے چند امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے. ورنہ یہ جہد بہت جلد ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے. ان امور میں سب سے اہم اپنی ذات، اپنے آپ اور اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں,کوالٹیز اور رجحانات کو پہچاننا ہے. نظام قدرت کے تحت دنیا میں آنے والا ہر ذی روح ،ہر بچہ کچھ نہ کچھ خصلت, صلاحیت ضرور لے کر آتا ہ...