ماہ دسمبر کے ستم ، پاکستان لہو لہو


 محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔!

ماہ دسمبر پاکستان کے لیے نہایت دکھ اور رنج و الم کا مہینہ ہے جس میں سقوطِ ڈھاکہ، سانحہ آرمی پبلک سکول اور محترمہ بینظیر بھٹو کی الم ناک شہادت جیسے دلخراش واقعات پیش آئے۔ زندہ قومیں ملک کی قسمت پہ اثر انداز ہونے والے لیڈروں اور شخصیات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔

10اپریل 1986 کو اپنی پہلی جلا وطنی سے واپسی پر محترمہ بینظیر بھٹو لاہور تشریف لائیں تو ملک بھر سے آئے لاکھوں جمہوریت پسندوں نے لاہور ائیر پورٹ سے لیکر مینار پاکستان تک ان کا ایسا فقید المثال استقبال کیا کہ جس کی مثال پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اپنی سیاسی تقریر کے آخر میں انہوں نے ایک شعلہ نواء نظم پڑھی "میں باغی ہوں" مگر ترتیب کچھ یوں تھی کہ اس نظم کا آخری بند سب سے پہلے پڑھا۔ شاید یہ چیز ان کے وجدان میں سماء گئی تھی کہ وہ بھی جمہوریت پسندوں کے لیے قربان ہو جائیں گی اور وہ آخری بند کچھ یوں تھا۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے۔۔۔

میرے سر پہ ظلم کا پھندا ہے۔۔۔

میں مرنے سے کب ڈرتی ہوں۔۔۔

میں موت کی خاطر زندہ ہوں۔۔

میرے خون کا سورج چمکے گا۔۔

تو بچہ بچہ پھر بولے گا۔۔۔۔۔

میں باغی ہوں،،،میں باغی ہوں۔۔۔

جو چاہے مجھ پر ظلم کرو۔۔۔۔

محترمہ بینظیر بھٹو کا عہد ،سیاست اور تاریخ کا انتہائی خطر ناک اور مشکل ترین دور تھا۔ نہ صرف یہ کہ عالمی سوشلسٹ تحریک کمزور ہو گئی تھی بلکہ ترقی پسند اور لبرل قوتیں پہلے کی طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل بھی نہیں تھیں۔جبکہ پاکستان کے حالات تو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ خطرناک تھے۔اس عہد کے ڈکٹیٹر حکمرانوں نے امریکہ اور اس کے سامراجی اتحادیوں کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟