تبدیلی کا عمل (پوسٹ مارٹم)

 تبدیلی کا عمل (نظریات اور تصورات کی راست بازی)

از رانا آصف شہزاد علی


ہم زندگی میں بہت سے انگریزی کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جن کا مقصد یا تو اردو کے ساتھ انگریزی کا تڑکا لگانا ہوتا ہے یا اپنی بات میں کشش , زور یا وزن پیدا کرنے کے لیے ہم  ایسا کرتے ہیں۔ انگریزی کا ایک لفظ انٹیگریٹی عام طور پہ اس کا ترجمہ دیانتداری یا امانتداری کیا جاتا ہے۔ جس سے گزارہ تو ہو جاتا ہے مگر ناتواں دل کی تسلی نہیں ہوتی۔کیونکہ دیانتداری "Honesty" کا ترجمہ ہے اور یوں یہ "Integrity" کے لیے یہ لفظ موزوں نہیں لگتا۔ "Integrity" کےلئے راست بازی اچھا متبادل ہو سکتا ہے۔ یہاں فی الحال اس لفظ کا ترجمہ مقصد نہیں ہے بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ زندگی میں راست بازی کی اہمیت کتنی ہے اور اصل میں اس سے مراد کیا ہے؟

راست بازی کو جانچنے کا معیار یہ نہیں کہ آپ کتنی مرتبہ اپنا موقف تبدیل کرتے ہیں۔بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنا موقف یا ذہن کیوں بدلتے ہیں۔ محض ذاتی اناء کی تسلی کے لیے یا عوامی خوشنودگی کی خاطر اپنی بات کو بدل دینا کھوکھلے پن کی نشانی ہے۔البتہ اپنے موقف کا نئے حقائق کی روشنی میں جائزہ لینا،  سیکھنا کہلاتا ہے۔ راست بازی اپنے فرسودہ خیالات سے چمٹے رہنے کا نام نہیں بلکہ سچائی کی جستجو کا نام ہے۔

ایک دانشمند شخص کے لیے راست باز ہونا ضروری ہوتا ہے اور راست بازی کی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ مسلسل اپنے موقف کی پڑتال کرتے رہیں۔ اور جب آپ کا موقف غلط ثابت ہو جائے تو خندہ پیشانی اور کھلے دل سے اسے تسلیم کر لیں۔

  پاکستان کے عوام کو تبدیلی کے ڈیزائنرز نے بھی کچ ایس مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اور جمہور کے سامنے اس مجوزہ  تبدیلی کے محرکات میں راست بازی، ایمانداری،اور سچائی کو بنیاد بنا کر ایک مصنوعی بیانیہ بنیا گیا تاکہ عوام اس کی مخالفت نہ کریں۔اور اس بیانیے میں حکومت چلانے کا تجربہ، گورنیس، معشیت کی بحالی و ترقی، سیاسی رواداری، اداروں کے درمیان تعلقات کی نوعیت و اہمیت کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔تبدیلی کا منجن بیچنے والے اب چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہےہیں۔کیونکہ تبدیلی کا نظریہ قوم کے اقتصادی حالات، غربت، مہنگائی اور افراط زر سے میل نہیں کھا رہا۔اور عوام کی قوت خرید کو نگل چکا ہے۔

معاشی حالات جو ہو چکے ہیں اس سے عوام پوری طرح متاثر ہیں اور یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ نواز شریف نے اپنا قد کاٹھ آسی سبب قائم کیا کہ ان کے پاس معیشیت چلانے کی صلاحیت دیگر سیاسی جماعتوں یا بلکہ اداروں کے چنتخب افراد سے زیادہ ہے۔

حال ہی میں جرمنی کے نو منتخب چانسلر اولف شلز  کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ بطور وزیر خزانہ بہت کامیاب تصور کیے جاتےتھے۔

پبلک ایڈمنسٹریشن کے نظریات کے مطابق کسی بھی انسانی سوسائٹی کو مینج کرنے میں کچھ پہلو لازمی مد نظر رکھنے ہوتے ہیں جن میں معاشرت، معیشت،تحقیق و جستجو، یکساں و متفقہ قومی بیانیہ اور وسائل کی فراہمی و ترقی لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔

مگر ملک پاکستان میں تبدیلی کے انقلاب کو برپاء کرنے کے لیے 

 "Impact Analysis"

نہیں کیا گیا اور تبدیلی کے کینوس پہ متوقع عوامی رد عمل کے بارے میں نہ سوچے جانے اور لاپرواہی و بغض کے رنگ واضح دکھ رہے ہیں۔

انسانی سوسائٹی میں نئے نظریات کے ارتقاء اور ان کو لاگو کرنے کے لیے چینج مینجمنٹ کے عمل(جو کہ سوشیالوجی کے تحقیق کاروں کا آزمودہ ہے) کو لازمی مد نظر رکھنا چاہیے تھا جو کہ تقاضا کرتاہے تبدیلی ایک بتدریج پراسیس کا نام ہے جو ان مراحل پہ مشتمل ہوتا ہے۔

  • تبدیلی کی ضرورت یا تقاضا
  • تبدیلی کے اثرات کا جائزہ
  • تبدیلی کی اجازت یا انکار حقائق کی روشنی میں
  • تبدیلی کے عمل کو لاگو کرنا
  • تبدیلی کے فائدے،نقصانات،اور عوامی ردعمل کا جائزہ

صد افسوس کہ ان تمام باتوں میں سے کسی کا خیال نہیں رکھا گیا مثلآ۔۔۔۔۔ تبدیلی عوامی مطالبے پہ نہیں بلکہ زورآورں نے ٹھوسی، تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی، طاقت اور قانون کے غلط استعمال سے لاگو کی گئی۔ تو اس کا یہی نتیجہ آنا تھا جو آیا۔۔۔ عوامی امنگوں اور مطالبے کے برعکس کسی لاحاصل سوچ، نظریئے کی ترویج عوامی رجحان و روایات کو جانے بغیر لاگو کرنے کا تیجہ قومی انتشار، اقتصادی زبوں حالی، سیاسی و معاشرتی بےچینی، قومی اختلاف رائے کی صورت میں ہی آتا ہے۔ تبدیلی کے ڈیزائنرز کو اپنی سوچ، اپروچ ، اہلیت، طریقے کار ، اور فائدے نقصانات کے دوبارہ جائزے کی ، ترمیم کی اشد ضرورت ہے۔

اصلاح احوال وقت کا تقاضا بھی ہے اور صحیح شروعات کی نوید بھی۔ یہ جسارت موقف کی تبدیلی نہیں کہلائے گی بلکہ درست قومی و معاشرتی بیانیے کی راہ ہموار کرے گی۔ عقل مند اور دانشور لوگ سوچ اور نظریات کے جائزے کو اناء کا مسلہ نہیں بناتے اصل میں آہمیت سچائی اور حق کی ہوتی ہے اور حق کی تلاش میں انا آڑے نہیں آنی چاہئے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟