نظام انصاف کی بے حرمتی
اٍشتعال میں آ کر برطرف کر دینا اور بعد میں مُعاف
کرکے بحال کر دینا
یہ بادشاہوں کا رویہ تو ہو سکتا ہے کٍسی قانون کے رکھوالے یا قاضی کا ہر گز نہیں۔۔۔
کل مرتضیٰ وہاب کی سپریم کورٹ حاضری کے وقت عوام الناس نے یدلیہ عالیہ کا رویہ اک نیا تماشہ دیکھا۔۔۔۔
یاد کریں یدلیہ کے کلنک ثاقب ناسور کے الفاظ۔۔۔۔ قانون وہ نہیں جو آئین میں لکھا ہے ،،،،قانون وہ ہے جو میں کہتا ہوں۔۔۔
جس قانون میں "استحقاق "اور "توہین عدالت " کے الفاظ موجود ہیں وہ قانون نہیں بادشاہی فرمان ہوتا ہے۔
یہ سپریم کورٹ میں بیٹھے ہمارے قاضی القضاء ہیں جب بڑے منصب پر چھوٹے لوگ براجمان ہوجاتے ہیں
اسی کو پیار سے پاکستان کہتے ہیں۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
یہ قاضی، یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے آئین اور قانون، سمٹ کر عوام ان کی ہیبت سے رائی
یاد رکھیں۔۔۔۔! پاکستان میں کرسی کا مطلب ہی بادشاہت ہے، چاہے وہ ایک عام سا چپڑاسی ہی کیوں نہ ہو۔
Comments
Post a Comment