Posts

Showing posts from September, 2023

باجوہ ڈاکٹرائن کی مجموعی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ

Image
تحریر و تحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی   ڈاکٹرائن باجوہ کی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ ۔۔۔۔  ا ز راہ قلم ۔۔۔ رانا آصف   ہمیشہ سے ہی نرگسیت اور بے عملی کے شکار پاکستان کے معاشرے نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ ہر دور کے قومی قسمت بدلنے کے کھوکھلے نعرے، سیاسی جمالیات اور شخصیت پرستی نے اسے لیڈر اور لیڈرشپ کے تقاضوں سے بے بہرہ کردیا ہے ۔ سیاسی معاملات ، عوامی مسائل کو چھو منتر سے حل کرنے ،پرا من معاشرہ اور صاف شفاف ایڈمنسٹریشن 1947 سے ہی اس قوم کا خواب رہا ہے ۔ مختلف ادوار میں تحفے کے طور پر اسے مختلف سلوگن دئے گئے جیسا کہ ۔۔۔  جمہوریت نہیں جدت ۔۔۔ روٹی ،کپڑا اور مکان ۔۔۔ نظام مصطفیٰ کا نفاذ ۔۔۔ قرض اتارو ،ملک سنوارو ۔۔۔ سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔۔ اور پھر نیا پاکستان ۔۔۔۔ مداری نے اپنی پٹاری سے کون کون سے کبوتر نکال کر اس بدقسمت قوم کو نہیں دکھائے اور اس قوم نے شوق سے نہیں دیکھے ۔ اور جس کا شاخسانہ یہ قوم مہنگائی ، غربت، منصوبہ بندی کا فقدان ، انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی اور سب سے بڑا نقصان ۔۔۔ اس قوم نے Hope یعنی امید کرنا یا لگانا ہی کھو دیا ہے ۔ آج کے کالم ...

"ایمان،یقین اور اللہ پہ توکل"ذہنی کشمکش اور فرسٹریشن کا ممکنہ حل

Image
  تحریر ۔۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی ا یک متوازن اور خوشحال زندگی گزارنے کے لئے بطور ایک ذی شعور انسان ،میرے کرنے کے کیا کام ہیں ؟ سیانے کہتے ہیں کہ جسے نقصان اٹھانا نہیں آتا ۔۔ اسے نہیں معلوم کہ کہ فایدہ کسے کہتے ہیں ۔اور جو ہار نے کے تجربات سے نہیں گزرا ۔۔۔ وہ جیت کی حقیقی لزت سے کبھی فیضیاب نہیں ہوسکتا ۔۔۔ موجودہ نظام حیات کی حقیقت ریل کی دو پٹڑیوں کی مانند ہے جو ہمیشہ ساتھ ساتھ تو چلتی ہیں مگر ایک دوسرے سے مل نہیں سکتی ۔۔۔۔ اور اگر مل جائیں تو ریل گاڑی کا چلنا ممکن نہیں رہے گا۔  اختلاف ایک زندہ معاشرے کی علامت اور فطری ہے۔انسانوں کی حیاتیاتی ساخت یکساں ہونے کے باوجود،ان کے فکری اور ذہنی رجحانات یکساں نہیں ہوتے۔ یہی عدم یکسانیت مختلف خیالات کو جنم دیتی ہے۔یہ خیالات نظام ہائے فکر میں ڈھلتے اور نظری تنوع اور ذہنی کشادگی کا سبب بنتے ہیں۔یہی تنوع علم کی دنیا کا جمال ہے۔مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے رسالے ''وحدتِ امت'' میں لکھا ہے کہ ایک معاشرے میں اگر لوگ اختلاف نہیں کرتے تواس کے دو سبب ہو سکتے ہیں ۔ایک یہ کہ سب کے سب غبی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔دوسرا سبب...