Posts

Showing posts from June, 2022

پولیٹیکل اکنامک مینیجمینٹ وقت کی ضرورت ہے !

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔رانا آصف شہزاد علی پاکستان کی نظریاتی اساس ، گھمبیر اقتصادی مسائل اور موجودہ معیشی ابتری کو دیکھتے ہوئے ایک تجزیاتی تحریر معاشی آسودگی خوش حال زندگی کی علامت ہے ۔ معاشی ترقی سے ہی معاشرہ فعال اور مستحکم ہو تا ہے ۔معاشی سرگرمیاں بہرحال فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی تفہیم سے ہی جڑی ہوتی ہیں ۔اس کو کسی خاص سوچ اور نظریے سے جوڑ دینا سراسر زیادتی تصور کیا جائے گا۔ مخصوص نظریاتی بنیاد مارکیٹ سٹرکچر میں تبدیلی کی راہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہوتی ہے ۔ ‏نظریاتی ریاست ایک مخصوص سوچ ، نظریے اور طرز فکرکی محتاج ہوتی ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عہدوں ، افراد اور بالادست قوتوں کی اجارہ داری ،اور مزہب کی اولیت جمہوریت کی نفی ہے۔نظریاتی ریاستی بندوبست کبھی جمہوریت قائم نہیں کر سکتا ۔۔۔ مالیاتی و اقتصادی مینیجمینٹ میں لبرل نظریات کا فروغ ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز مشاہدے کی ہے کہ جن معیشتوں پہ کسی مخصوص نظریاتی اساس کی چھاپ نہیں ہے اسے کم مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم اس ضمن میں انڈیا اور جرمنی کی مثال سامنے رکھ سکتے ہیں۔ انڈیا لبرل نظریات پہ مشتمل ریاست سمجھیں جاتی ہے اور کسی مخصوص ...

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، معاشی مس مینجمنٹ افواہ یا حقیقت

Image
 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی دنیا میں اور ملک خداداد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، بین الاقوامی مالیاتی کرائسز اور انرجی مس مینجمنٹ میں حکومت کیا رول پلے کرتی ہے۔ریگولیٹر کیا رول پلے کرتے ہیں۔  مقدمہ بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور مہنگائی آج پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے۔ گورنمنٹ اس کو بہتر فنانشیل مینجمنٹ اور پالیسی سازی کافی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے۔  پاکستانی عوام کا تقریباً نوے فیصد طبقہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو نہیں جانتا، مگر اس ایشو پہ گفتگو کرنا اور سیاسی رنگ دینا اپنا لازمی فرض سمجھتا ہے۔ اور یقیناً ملک میں جاری سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا کے بے مہابا استعمال نے پبلک کو ایک پلیٹ فارم ضرور مہیا کیا ہے۔مگر عوامی دلائل میں منطق کم اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا زیادہ عمل دخل نظر آتا ہے۔ بے شک ترقی پذیر معیشتیں اور ممالک بنیادی فیکٹرز آف پروڈکشن کو اپنے مالی اور بجٹری خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ آرٹیکل اسی تناظر میں طلباء وطالبات ، عام شہری اور جنرل یوزرز کی آگاہی کے لئے لکھا گیا ہے ...