پولیٹیکل اکنامک مینیجمینٹ وقت کی ضرورت ہے !
تحریر و آئیڈیا ۔۔رانا آصف شہزاد علی پاکستان کی نظریاتی اساس ، گھمبیر اقتصادی مسائل اور موجودہ معیشی ابتری کو دیکھتے ہوئے ایک تجزیاتی تحریر معاشی آسودگی خوش حال زندگی کی علامت ہے ۔ معاشی ترقی سے ہی معاشرہ فعال اور مستحکم ہو تا ہے ۔معاشی سرگرمیاں بہرحال فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی تفہیم سے ہی جڑی ہوتی ہیں ۔اس کو کسی خاص سوچ اور نظریے سے جوڑ دینا سراسر زیادتی تصور کیا جائے گا۔ مخصوص نظریاتی بنیاد مارکیٹ سٹرکچر میں تبدیلی کی راہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہوتی ہے ۔ نظریاتی ریاست ایک مخصوص سوچ ، نظریے اور طرز فکرکی محتاج ہوتی ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عہدوں ، افراد اور بالادست قوتوں کی اجارہ داری ،اور مزہب کی اولیت جمہوریت کی نفی ہے۔نظریاتی ریاستی بندوبست کبھی جمہوریت قائم نہیں کر سکتا ۔۔۔ مالیاتی و اقتصادی مینیجمینٹ میں لبرل نظریات کا فروغ ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز مشاہدے کی ہے کہ جن معیشتوں پہ کسی مخصوص نظریاتی اساس کی چھاپ نہیں ہے اسے کم مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم اس ضمن میں انڈیا اور جرمنی کی مثال سامنے رکھ سکتے ہیں۔ انڈیا لبرل نظریات پہ مشتمل ریاست سمجھیں جاتی ہے اور کسی مخصوص ...