Posts

بحثیت معلم ۔۔۔ ! احساس، زمہ داریاں اور خصوصیات

Image
  تحریر و تحقیق ۔۔۔!رانا آصف شہزاد علی  بحثیت معلم ۔۔۔ ۔ ! احساس اور زمہ داریاں میرے مطابق علم مثبت سوچ ، آگہی ،منطق اور سچائی کے ادراک کے دریچے کھلے رکھنے کا نام ہے جو انسان میں شعور کے فروغ، زبان و عمل کے تسلسل میں تال میل پیدا کرتا ہے ۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ذہنی جسمانی اور اخلاقی قوتوں کی نشوونما کا نام یے۔ مختلف فلاسفرز اور ماہرین تعلیم نے اس کی تعریف کچھ یوں بیان کی یے۔   سقراط: “تعلیم سچائ کی تلاش کا نام ہے.   ارسطو: “تعلیم جسمانی اور اخلاقی نشوونما کا عمل ہے."   جان ڈیوی: “تعلیم تجربے کی مسلسل تعمیر نو اور تنظیم نو کا عمل ہے”.  کانٹ: “تعلیم اس عمل کا نام یے جو آدمی کو صحیح انسان بناتی ہے.”  اِبن خلدون: “تعلیم افراد میں معاشرتی اہلیت پیدا کرتی ہےتاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر طور پر گزار سکیں بلکہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے بھی ضامن ہوں.”   سر سید احمد خاں: “تعلیم انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کو دین کے تحت رکھتے ہوۓ جدید و قدیم علوم سکھاتی ہے تاکہ وہ اچھا مسلمان بننے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اچھا اعلی ...

آن لائن شاپنگ بمقابلہ روایتی شاپنگ ۔۔۔ مارکیٹ کے رجحان پہ تجزیاتی تحریر

Image
   ! تحریر و تحقیق ۔۔۔   رانا آصف شہزاد علی کیا آن لائن شاپنگ یا آی کامرس کا بیانیہ دم توڑ رہا ہے ۔ ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں، ای کامرس اور موبائل شاپنگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن خریداری کے دوران صارفین سامان کی بغیر کسی رکاوٹ کے ترسیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ صارفین کی سابقہ ​​تعریفوں اور صارفین کے رویوں کو دوبارہ لکھنے کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ صارفین فوری شپنگ اور مفت ایک دن کی خریداری کی تلاش میں ہیں۔ ای کامرس کی ترقی کے لیے ایک لچکدار واپسی کی پالیسی بھی ضروری ہے ۔ ‏آن لائن شاپنگ کے مثبت پہلو دیکھے جائیں تو موجودہ حالات میں ایک نعمت سے کم نہیں ۔۔ وقت اور  کرایہ  دونوں کی بچت ہے ، لیکن اسکی کسر برانڈز اور آنلائن سٹورز یکطرفہ قیمت کا تعین کرکے پوری کر دیتے ہیں ۔‏جبکہ ان پراڈکٹس کے معیار کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ، ‏انٹرنیٹ پر خوشنما تصویریں دیکھ کر کی گئی شاپنگ اکثر صارفین کو دھوکہ ہی دیتی ہے،‏اس سے سب سے زیادہ متاثر وہ پھیری والے اور چھوٹے دکاندار ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ پر اپنی پراڈکٹس بیچنے کی اہلیت اور سکت نہیں رکھ...

فل کورٹ عدالتی بنچ ، عوامی و سیاسی مطالبہ جائز ہے

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی فل کورٹ عدالتی بنچ ،عدالتی انٹیگریٹی میں اضافی ہی کرے گا۔فریقین کا مطمئین کیا جانا عوامی سطح پہ اچھا تاثر دینے کا باعث بنے گا۔ ‏‎‎ اس قدر بڑے پیمانے پہ عوامی اضطراب،سیاسی بے چینی کی ایک وجہ ہے اور بڑی تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ میں پہنچا ہوں کہ ہم بچے میں سوال کرنے کے رحجان کی حوصلہ افزائ نہیں کرتے۔گھر میں، سکول میں ، مدرسہ میں۔۔ہر جگہ سوال کا مذاق اڑاتے ہیں  سوال کبھی غلط نہیں ہوتا صاحب ۔۔۔۔! جواب غلط ہوسکتا ہے ۔ ‏ چراغ بُجھتے چلے جارہے ہیں سلسلہ وار...! میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے ‏بلاشبہ عدلیہ کیلیے ایک بہت بڑا امتحان ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ انکو اس امتحان میں ڈالنے والا بھی اگر کوئی ہے تو وہ ججز صاحبان خود ہیں۔ایک طویل عرصے سے بینچز کی متنازعہ تشکیل موضوع بحث بنی ہوئی ہے،کئی ججز بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کر چکے مگر چیف جسٹس شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ ‏ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ نہیں پہنچا تھا کہ اکثر لوگوں کو پہلے سے یقین تھا، بینچ انہی مخصوص ججز پر مشتمل ہو گا جو کہ انکے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی...

عدالتوں کا آئینی رول انصاف مہیا کرنا ہے اور سیاسی و انتظامی کیسز سے اجتناب ضروری ہے۔

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی عدالتوں کا آئینی رول انصاف مہیا کرنا ہے  اور سیاسی و انتظامی کیسز سے اجتناب ضروری ہے۔ ایک ایسا ملک جو ڈیفالٹ کرنے کے دہانے پہ کھڑا ہے ۔اور اس کی انتظامیہ ،ائینی ادارے ،عسکری اسٹیبلشمنٹ اتنی نان سیریس ہو سکتی ہے کہ جو دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ جو ڈرامہ پورٹریٹ ہو رہا ہے ۔اس کے تانے بانے 2014 سے شروع ہوتے ہیں۔ 2014 سے 2018 کے دوران مملکت خداداد کے ساتھ اس ملک کی عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا ہے کیا اس کا کوئی جواز تھا ۔؟ ہم جیسے 2018 کے الیکشن میں ڈیوٹی دینے والے لوگ پہلے دن سے چینخ چینخ کر کہہ رہے تھے کہ پولیٹیکل مینیجمینٹ کے لیے کسی ایک جماعت کی بے جا سپورٹ حالات خراب کر دے گی۔ سیاسی کینوس پہ توازن ضروری ہوتا ہے مگر اس توازن کو بگاڑنے میں عدالت عظمٰی کا کردار واضح نظر آتا ہے۔ پہلے تو عمران خان کو غیر ضروری ، آئین پاکستان سے انحراف کرتے ہوئے سپورٹ کیا گیا اور اس کی حکومت بنوائی گئی۔ پھر ساڑھے تین سال تک ہر طرح کی جائز و ناجائز سپورٹ کرکے اس پارٹی کو من مانی کرنے روش ڈال دی گئی۔ اور یہ بات ہر زبان زد عام تھی کہ آئینی اداروں ک...

سوشل میڈیا پروپیگنڈا کمپئین، ۔۔۔ کس طرح چلائی جاتی ہے اور اغراض و مقاصد کیا ہوتے ہیں

Image
  !تحریر و تحقیق ۔۔۔رانا اصف شہزاد علی ر آر اے شہزاد صاحب کی آئیڈیالوجی اور میری تحقیقاتی کاوش کا نچوڑ سوشل میڈیا اشتہار کیا ہے؟ سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی ایک قسم ہے جہاں آپ اپنے کاروبار، نظریات، سیاسی آئیڈیالوجی کو اس کے بہت سے چینلز میں سے کسی پر فروغ دینے کے لیے ادا شدہ میڈیا پہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ میڈیا بہت سے فارمیٹس اور پلیسمنٹ میں آتا ہے اور تصاویر اور ویڈیو سے لے کر عمیق تجربات تک تخلیقی کی ایک حد کو سپورٹ کرتا ہے۔ اسے ادا شدہ سماجی پلیٹ فارم بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ بامعاوضہ تلاش کے ساتھ جہاں آپ کلیدی الفاظ اور اصطلاحات کو ہدف بناتے ہیں، سماجی طور پر، آپ سامعین، دلچسپیوں اور طرز عمل کو نشانہ بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا اشتہارات بھی عام طور پر زیادہ بصری اور برانڈڈ ہوتے ہیں، اور پلیٹ فارم کے لیے کافی مقامی ہوتے ہیں- اس لیے کہ بعض اوقات اشتہارات کے طور پر ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ستونوں میں سے ایک چینل ہے، لیکن جو چیز اسے دوسرے ستونوں، جیسے سرچ انجن اور ای میل سے مختلف بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے اندر بہت سارے پلیٹ فارم ہیں۔ اور ...

پولیٹیکل اکنامک مینیجمینٹ وقت کی ضرورت ہے !

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔رانا آصف شہزاد علی پاکستان کی نظریاتی اساس ، گھمبیر اقتصادی مسائل اور موجودہ معیشی ابتری کو دیکھتے ہوئے ایک تجزیاتی تحریر معاشی آسودگی خوش حال زندگی کی علامت ہے ۔ معاشی ترقی سے ہی معاشرہ فعال اور مستحکم ہو تا ہے ۔معاشی سرگرمیاں بہرحال فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی تفہیم سے ہی جڑی ہوتی ہیں ۔اس کو کسی خاص سوچ اور نظریے سے جوڑ دینا سراسر زیادتی تصور کیا جائے گا۔ مخصوص نظریاتی بنیاد مارکیٹ سٹرکچر میں تبدیلی کی راہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہوتی ہے ۔ ‏نظریاتی ریاست ایک مخصوص سوچ ، نظریے اور طرز فکرکی محتاج ہوتی ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عہدوں ، افراد اور بالادست قوتوں کی اجارہ داری ،اور مزہب کی اولیت جمہوریت کی نفی ہے۔نظریاتی ریاستی بندوبست کبھی جمہوریت قائم نہیں کر سکتا ۔۔۔ مالیاتی و اقتصادی مینیجمینٹ میں لبرل نظریات کا فروغ ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز مشاہدے کی ہے کہ جن معیشتوں پہ کسی مخصوص نظریاتی اساس کی چھاپ نہیں ہے اسے کم مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم اس ضمن میں انڈیا اور جرمنی کی مثال سامنے رکھ سکتے ہیں۔ انڈیا لبرل نظریات پہ مشتمل ریاست سمجھیں جاتی ہے اور کسی مخصوص ...

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، معاشی مس مینجمنٹ افواہ یا حقیقت

Image
 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی دنیا میں اور ملک خداداد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، بین الاقوامی مالیاتی کرائسز اور انرجی مس مینجمنٹ میں حکومت کیا رول پلے کرتی ہے۔ریگولیٹر کیا رول پلے کرتے ہیں۔  مقدمہ بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور مہنگائی آج پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے۔ گورنمنٹ اس کو بہتر فنانشیل مینجمنٹ اور پالیسی سازی کافی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے۔  پاکستانی عوام کا تقریباً نوے فیصد طبقہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو نہیں جانتا، مگر اس ایشو پہ گفتگو کرنا اور سیاسی رنگ دینا اپنا لازمی فرض سمجھتا ہے۔ اور یقیناً ملک میں جاری سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا کے بے مہابا استعمال نے پبلک کو ایک پلیٹ فارم ضرور مہیا کیا ہے۔مگر عوامی دلائل میں منطق کم اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا زیادہ عمل دخل نظر آتا ہے۔ بے شک ترقی پذیر معیشتیں اور ممالک بنیادی فیکٹرز آف پروڈکشن کو اپنے مالی اور بجٹری خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ آرٹیکل اسی تناظر میں طلباء وطالبات ، عام شہری اور جنرل یوزرز کی آگاہی کے لئے لکھا گیا ہے ...