سوشل میڈیا پروپیگنڈا کمپئین، ۔۔۔ کس طرح چلائی جاتی ہے اور اغراض و مقاصد کیا ہوتے ہیں

  !تحریر و تحقیق ۔۔۔رانا اصف شہزاد علی ر

آر اے شہزاد صاحب کی آئیڈیالوجی اور میری تحقیقاتی کاوش کا نچوڑ

سوشل میڈیا اشتہار کیا ہے؟

سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی ایک قسم ہے جہاں آپ اپنے کاروبار، نظریات، سیاسی آئیڈیالوجی کو اس کے بہت سے چینلز میں سے کسی پر فروغ دینے کے لیے ادا شدہ میڈیا پہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ میڈیا بہت سے فارمیٹس اور پلیسمنٹ میں آتا ہے اور تصاویر اور ویڈیو سے لے کر عمیق تجربات تک تخلیقی کی ایک حد کو سپورٹ کرتا ہے۔

اسے ادا شدہ سماجی پلیٹ فارم بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ بامعاوضہ تلاش کے ساتھ جہاں آپ کلیدی الفاظ اور اصطلاحات کو ہدف بناتے ہیں، سماجی طور پر، آپ سامعین، دلچسپیوں اور طرز عمل کو نشانہ بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا اشتہارات بھی عام طور پر زیادہ بصری اور برانڈڈ ہوتے ہیں، اور پلیٹ فارم کے لیے کافی مقامی ہوتے ہیں- اس لیے کہ بعض اوقات اشتہارات کے طور پر ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ستونوں میں سے ایک چینل ہے، لیکن جو چیز اسے دوسرے ستونوں، جیسے سرچ انجن اور ای میل سے مختلف بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے اندر بہت سارے پلیٹ فارم ہیں۔ اور بنگ بمقابلہ گوگل قسم کے طریقے سے نہیں۔ ہر پلیٹ فارم میں بڑے پیمانے پر سامعین ہوتے ہیں جو اشتہارات کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی تخریب کاریاں محض گنی چنی برائیوں تک محدود نہیں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا اثر صرف انفرادی طور پر پڑ رہا ہے مثلاً ہمارے بچے پڑھائی پر دھیان نہیں دے رہے ہیں، امتحانات میں ان کے نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں، ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ 

اگرچہ مندرجہ بالا مفاسد کی شرح اور شدت بھی کم ہولناک نہیں ، مگر بات اب اس سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ سوشل میڈیا انفرادی ذہن سازی کی بہت سی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ اس میں سب سے بڑا ذریعہ ہر شخص کے بارے میں مکمل تفصیلات حاصل کرنا ہے۔کس ملک کا شہری کس بات پر خوش ہوتا ہے، کس بات پر بھڑک جاتا ہے، کیا چیز پسند کرتا ہے اور کون سے چیز ناپسند کرتا ہے، کہاں آنا جانا چاہتا ہے اور کہاں نہیں۔ اس انفرادی کیس ہسٹری سے کسی قوم کا عمومی مزاج پتا چل جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف فردِ واحد بلکہ پوری قوم کی ذہن سازی کے مراحل آسان ہوگئے ہیں۔ کس کو کب اور کتنے میں خریدا جاسکتا ہے یا غیر محسوس طور پر اپنے استعمال میں لایا جاسکتا ہے اس پر عمل اب چنداں دشوار نہ رہا۔

ماہرین کی نت نئے علوم پر ریسرچ اور ان کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کے طریقوں نے کسی بھی ملک کی عوام کو کٹھ پتلی بنانے کا ہنر ہاتھ لگا دیا ہے۔ مثلاً subliminal messages کی تکنیک کو میک ڈونلڈ نے اپنے ایک اشتہار میں استعمال کیا۔ اس اشتہار میں دماغ کے شعور اور لاشعور کی کارکردگی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرکے عوام کو غیر شعوری طور پر اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے پر آمادہ کیا گیا۔

اور اس جیسی کتنی تکنیکیں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کے لیے استعمال ہورہی ہیں جن کا عوام تو کیا خواص کو بھی علم نہیں۔ لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ اپنے ان اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے ملک تباہ کیے جاتے ہیں، اپنی ناپسندیدہ حکومتوں کو گرایا جاتا ہے، ان ممالک کے عوام میں بغاوت و شورش اور اپنی حکومتوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے کر انارکی کی صورت حال پیدا کی جاتی ہے اور اس آگ کو یہاں تک بھڑکایا جاتا ہے جب تک اپنے مقاصد حاصل نہ کرلیے جائیں۔ اس کی مثال شام، یمن، مصر، تیونس،پاکستان اور لیبیا ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں عوام کی اس قدر ذہن سازی کی جاتی ہے کہ وہ لاشعوری طور پر ان کی پسند کے مطابق ووٹ کاسٹ کردیتے ہیں۔

‏پولیٹیکل سوشل میڈیا کمپین کے تین حصے ہوتے ہیں۔

 1- سٹریٹجی بنانا 

2- اور دوسرا

content development  

3- اور تیسرا وہ میڈیم جو اس مواد کو پھیلائے گا۔

پی ٹی آئی کی لندن والی یہودی سوشل میڈیا بوسٹر فرم پاکستان کے انٹر نیٹ یوزر کے psychographic ڈیٹا کی بنیاد پر سٹریٹجی بناتی ہے ، پاکستانبکے اندر ان کے ایڈورٹائزنگ ایکسپڑٹ کانٹینینٹ ‏بناتے اور یوٹیوبر ، انٹرنیٹ ، فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹک ٹاک، ریگولر میڈیا پر مشتمل ان کا سوشل میڈیا سیل، مربوط سٹرکچر اسے micro targeting کئ تکنیک سے ٹارگٹ audience تک پہنچا دیتی یہ اتنا متحرک سسٹم ہے کہ چند منٹ میں کسی بھی بات کو کروڑوں لوگوں تک اتنے باوثوق اور تیز ترین ذرائع سے پہنچا کر ملک کے کسی بھی ادارے کو دباو میں لا سکتا ہے۔

‏سوشل میڈیا پروپیگنڈا ایک مارکیٹنگ ٹول ہے۔

پروپیگنڈہ ایک سائنس ہے اور اس کی جدید تیکنیک ایڈورٹائزنگ کی صنعت سے وابستہ آرگنائزیشنز اور ادارے استعمال کرتی ہیں۔اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے ایڈورٹائزنگ کے دو گُرو نیازی کے ایڈوائزر ہیں ۔

اس وقت ایڈورٹائزنگ میں برانڈ کی مشہوری کے لیے 7 سے 6مین ٹیکنیک استعمال ہوتی ہیں ۔نیازی کی ہر تقریر اور کمپین دونوں کا میں نے کنٹینٹ تجزیہ کیا ہے اور یہ تمام ٹیکنیکس وہاں موجود پائی گئی ہیں۔ 

‏اس کی کمپین ہو یا تقریر ، میٹنگ ہو یا سوشل کانٹیکٹنگ اس میں پروپیگنڈہ سائنس کی وہ ساری کی ساری تکنیک 

Dominant Factors 

 کے طور پہ موجود ہوتی ہیں ۔

Carefully Crafted Propaganda Techniques

  • 1- Card-Stacking
  • 2- Bandwagon Propaganda
  • 3- Plain Folks Propaganda
  • 4- endorsement Propaganda
  • 5- Testimonial Propaganda
  • 6- Name-Calling Propaganda

1- دو دن پہلے نیازی صاحب کا بیان تھا کہ پی پی اور نون لیگ نے معیشت ڈبو دی اور وہ مزے سے اپنا دور اور کارنامے گول کر گیا ۔ اسی طرح وہ اکثر باتوں میں کچھ فیکٹ اور حقائق گول کر دیتا اسے پروپیگنڈہ کی اصطلاح میں ‏Card-Stacking کہتے ہیں ۔ اشتہار بازی یعنی ایڈورٹائزنگ میں یہ کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔جیسے کہ اکثر برانڈ بڑا لکھتے ستر فیصد ڈسکاونٹ نیچے کونے میں لکھا ہوتا ہے منتحب آئٹم پر، یعنی مکمل حقائق کے نہی بتاتے ۔اوباما کے الیکشن میں یہ موازنہ card stacking تھا آپ کو تحریک انصاف والے اکثر ایسے موازنے یعنی کمپریزن کرتے نظر آتے ہیں۔ ‏جو مکمل حقائق پر مشتمل نہی ہوتے اور یک طرفہ biased اور مس لیڈنگ ہوتے ہیں مگر اس کے پیچھے یہی تکنیک ہے جو بروئے کار لائی جاتی ہے۔

2 - روح افزا کےلیے مشروب مشرق کا لفظ استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ ہر پاکستانی کی پسند بھی اکثر اشتہارات میں ہوتا جیسے کو کوکا کولا کا یہ اشتہار اس تیکنیک کو Bandwagon Propaganda کا نام دیا جاتا ہے۔

 ‏Bandwagon Propaganda پروپیگنڈہ میں آپ ایسا ماحول بناتے کہ لوگ ایک کراوڈ کا حصہ محسوس ہوں ایسے الفاظ استعمال ہوتے جیسے join the crowd یا trending now جیسے الفاظ ہوتے کیونکہ انسانی نفسیات بنیادی طور پر یہ کہ وہ سب کے ساتھ Fit in ہونا چاہتا ہے۔ تحریک انصاف بھی یہی کرتی ہے ان کے ‏نعرے اور سوشل میڈیا مہم اٹھا کر دیکھ لیجئے یوتھ کی پسند ، ہر محب وطن پاکستانی ، ہر مسلمان اور عاشق رسول وغیرہ یعنی مزہب کارڈ جو کہ ہمارے جیسے تقسیم شدہ اور Rigid سوسائٹی میں پاپولر ٹیکنیک ہے جیسے الفاظ بنیادی طور پر Bandwagon Propaganda ہوتے ہیں ۔

‏3- آپ نے اکثر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر ہر جلسے وغیرہ کے بعد بچوں کے پلے کارڈ، یا کسی بوڑھی عورت کا انٹرویو، یا کسی مزدور کے پیسے دینے کی فوٹو نظر آتی ہو گی اس تکنیک کو Plain Folks Propaganda کہا جاتا ہے۔ جس میں عام لوگوں کے استعمال سے لوگوں کو persuad یعنی ذہن سازی کی جاتی ہے اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا سوسائٹل امپیکٹ بڑا گہرا ہوتا ہے ۔

‏4- آپ کو ہر دوسرا فنکار یا ٹک ٹاکر وغیرہ تحریک انصاف کا حامی نظر آتا یہ لوگ معاوضے پر endorsements کرتے ہیں یعنی معاوضہ لیکر پارٹی ایمبیسیڈر یا ائکونک پوزیشن لیتے ہیں۔ پروپیگنڈہ کی زبان میں اسے Testimonial Propaganda کہا جاتا ہے ۔تاکہ عام عوام کو لگے کہ ہر طرف ان کی ہی مقبولیت ہے۔ اور ان کے بیانئے کو لوگ پسند کر کے اس کا حصہ بن رہے ہیں ۔ سیلیبریٹیز اور ائیکون پرسنیلیٹیز کو اس مقصد کی لیے ہائیر کیا جاتا ہے ۔

‏5- آپ کو عمران خان نیازی اپنی تقریروں میں اکثر مخالفین کے نام رکھ کر ان کی تذلیل کر کے مذاق اڑاتا نظر آتا ہے جیسے ڈیزل ،ککڑی ،چور ، ڈاکو ،زرداری بیماری وغیرہ، یہ بنیادی طور پر  کی تکنیک ہے جسے Name Calling Propaganda کہتے ہیں آپ اگر اشتہار بازی کی اس صنعت کو دیکھیں تو بڑے برانڈ ‏آپ کو یہ تکنیک استعمال کرتے نظر آہیں گے مثال کے طور پر برگر کنگ اس اشتہار میں میکڈانلڈ کا مذاق اڑا رہا ہے ان کا نام نہی لیا مگر انکے بگ میک کا signature box لیا اور کہا کہ ہمارا برگر تو ان کے بڑے برگر کے ڈبے تک میں نہی آتا ۔عمران کی تقریر میں یہی تکنیک ہوتی ہے ۔

‏میں اس ٹاپک پر گھنٹوں لکھ سکتا ہوں مگر چند مثالوں سے یہ بتایا کہ تحریک انصاف کئ جس کمپین اور باتوں کا ہم مذاق اڑاتے وہ بنیادی طور پر carefully crafted propaganda techniques ہیں۔ جو جدید ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں بکثرت استعمال ہوتی ہیں اور انہیں پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کمپینرز ماہرین نے تحریک انصاف کے لیے بنایا ہوتا ہے۔ اوراس سلسلے میں انگلینڈ سے ایک مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا بوسٹر فرم کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔ 

‏یہی وجہ ہے کہ ہمیں جتنی مرضی سطحی اور عجیب لگے مگر پاکستان تحریک انصاف کو وہ payback کر رہی ہیں ۔ کیونکہ جزباتی عوام کئ نفسیات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔

اب آپ یہ سوچیں کہ نون لیگ ،پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتیں کہاں کھڑی ہیں اس ضمن میں؟

کیا وہ اتنی سائنسی بنیادوں پر بنی پروپیگنڈہ کمپینز کا مقابلہ رشتے داروں کو سوشل میڈیا آرگنائزیشن کے عہدے دے کر کرسکیں گی ؟

سوچئے گا ضرور اس ضمن میں ۔۔۔

اس کی ایک مثال امریکہ کے انتخابات تھے جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کو منتخب کروایا گیا۔ یہ فیس بک کی تاریخ کا بدترین اسکینڈل تھا۔ اس اسکینڈل کے ذریعے لوگوں تک یہ بات پہنچی کہ سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ نے کس طرح اپنے صارفین کے قیمتی ڈیٹا کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں استعمال ہونے دیا۔ جس پر کمپنی کو نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اُس کے صارفین نے اس پر اعتماد کرنا بھی کم کر دیا۔جس کے باعث فیس بک کو زبردست خسارہ برداشت کرنا پڑا اور اس کے شیئرز کی قیمتیں بھی گر گئیں۔ یہ معاملہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو عوام سے باقاعدہ معافی مانگنا پڑی۔


Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟