پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، معاشی مس مینجمنٹ افواہ یا حقیقت
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
دنیا میں اور ملک خداداد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، بین الاقوامی مالیاتی کرائسز اور انرجی مس مینجمنٹ میں حکومت کیا رول پلے کرتی ہے۔ریگولیٹر کیا رول پلے کرتے ہیں۔
مقدمہ
بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور مہنگائی آج پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے۔ گورنمنٹ اس کو بہتر فنانشیل مینجمنٹ اور پالیسی سازی کافی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے۔
پاکستانی عوام کا تقریباً نوے فیصد طبقہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو نہیں جانتا، مگر اس ایشو پہ گفتگو کرنا اور سیاسی رنگ دینا اپنا لازمی فرض سمجھتا ہے۔ اور یقیناً ملک میں جاری سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا کے بے مہابا استعمال نے پبلک کو ایک پلیٹ فارم ضرور مہیا کیا ہے۔مگر عوامی دلائل میں منطق کم اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا زیادہ عمل دخل نظر آتا ہے۔ بے شک ترقی پذیر معیشتیں اور ممالک بنیادی فیکٹرز آف پروڈکشن کو اپنے مالی اور بجٹری خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔
یہ آرٹیکل اسی تناظر میں طلباء وطالبات ، عام شہری اور جنرل یوزرز کی آگاہی کے لئے لکھا گیا ہے کہ اس نظام کو سمجھ سکیں کہ حکومتوں کا رول اس سلسلے میں کیا ہوتا ہے۔ اور معاشی مس مینجمنٹ کے الزام میں کوئی حقیقت ہے یا نہیں ۔
قارئین سے التماس ہے کہ آرٹیکل پڑھنے کے بعد اپنی قیمتی رائے سے ضرور مستفید فرمائیے گا ۔
بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوتا ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمینٹل اکنامکس نے اس کا طریقہ کار جاننے کے لیے ماہرین سے بات کی جس سے پتہ چلا کہ 1999 تک حکومت خود ان قیمتوں کا تعین کرتی تھی، لیکن 2001 کے بعد یہ اختیار اوگرا کو دے دیا گیا۔
پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے ایک تحقیقاتی مقالے کے مطابق 2001 سے پہلے حکومتیں ان مصنوعات کی قیمتوں کا تعین معاشی صورتحال کو بالائے طاق رکھ کر کرتی تھیں اور اس کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما تھے جس سے کبھی کبھار حکومت کو معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑتا تھا۔
لیکن 2001 کے بعد تیل کی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا ایک آزاد ادارے یعنی اوگرا کو سونپ دیا گیا۔ مقالے کے مطابق پاکستان میں تیل کی ضرورت پورا کرنے کے لیے حکومت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ معاہدے کرتی ہے جو کہ امریکی ٹیکنالوجی کی بنیاد پہ نکالا اور پراسیس کیا جاتا ہے۔ اور پیداواری لاگت اور سپورٹ کاسٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔
اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے یا کمی کی سفارش آئل مارکیٹنگ کمپنیز کی ایڈوائزری کمیٹی کو کی جاتی ہے اور بعد میں قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں تیل کی مصنوعات کی پیدوار، چاہے وہ خام تیل ہو یا فنیشڈ پراڈکٹ جیسے پیٹرول یا ڈیزل، اتنی نہیں ہے کہ ملکی ضرورت کو پورا کر سکیں تو وہ اسے دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہمارے ہاں دستیاب ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر اسے پراسس کرنے کی کیا اور کتنی اہلیت رکھتا ہے ۔
پہلے مارکیٹ کی پچھلے ایک مہینے کی قیمتوں کی اوسط ڈیلی قیمت نکال کر آئندہ ماہ کے لیے قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا۔ ’لیکن اب درآمد شدہ تیل کے دس ٹینکروں کی اوسط قیمت لگا کر آئندہ ماہ کے لیے قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ یعنی مارکیٹ میں مئی کے مہینے میں 10 ٹینکروں کی جو اوسط قیمت ہوگی اس کی بنیاد پر جون کے لیے قیمت کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘
جبکہ اب پاکستان میں ہر پندرہ دن کے بعد نئی قیمتوں کا تعین اسی فارمولے کو لاگو کرنے سے ہو رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا پاکستان پر اثر
عالمی مارکیٹ میں روزانہ قیمتیں بدلتی ہیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر وہاں قیمتیں بڑھیں گی تو پاکستان میں بھی بڑھیں گی، یا وہاں کم ہوں گی تو پاکستان میں بھی کم ہوجائیں گی۔
’چونکہ ہم اوسط نکال کر قیمت کا تعین کرتے ہیں تو اسی اوسط کے حساب سے قیمت کم بھی ہو سکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے، اس سے قطع نظر کے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کتنی بڑھی ہیں یا کم ہوئی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ترقی پذیر معیشتیں بنیادی فیکٹرز آف پروڈکشن کی سپلائی، ڈیمانڈ اور دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمت کا تعین کرتی ہے۔
مثلاً اگر 13، 12 اور 11 مئی کو عالمی مارکیٹ میں قیمیتیں زیادہ ہوگئی ہوں اور پھر 25،26 مئی کو کم تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جون میں پاکستان میں قیمتوں میں کمی ہوگی۔
رائج پالیسی کے مطابق پہلے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول کی بنیادی قیمت کیا ہوگی۔ اس کے بعد سیلز ٹیکس، پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی، فریٹ چارجز یعنی ٹرانسپورٹ کے چارجز اور خریداروں کے کمیشن کو ملا کر اس کو ملک بھر میں قائم 29 ڈیپوز پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
تمام ڈیپوز میں تقریباً ایک ہی قیمت پر تیل دیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ ڈیپوز پیٹرول پمپس کو تیل فراہم کرتے ہے اور قیمت میں مزید اضافہ ویلیو ایڈیشن کی بنیاد پہ ہوتا ہے۔ ’پیٹرول پمپ جتنا دور ہوگا اسی حساب سے پیٹرول کی قمیت بھی زیادہ ہوگی۔ مثال کے طور پر مانسہرہ اور سوات میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت پشاور میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت سے زیادہ ہوگی۔
پیٹرول کی قیمت طے کرنے میں حکومت کا کردار
جب اوگرا قمیتوں کا تعین کرتا ہے تو کیا حکومت کو انہیں کم کرنے کا اختیار ہے، تو سٹڈی بتاتی ہے کہ حکومت قیمتوں میں کمی نہیں کر سکتی جب تک اوگرا کی جانب سے سفارش نہیں کی جاتی۔
تاہم طریقہ کار میں پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی، جس کو سادہ لفظوں میں پیٹرولیم ٹیکس بھی کہا جا سکتا ہے، میں ایک مارجن رکھا جاتا ہے اور اسی کے حساب سے حکومت اسی ٹیکس کو کم اور زیادہ کر سکتی ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں حکومت کی جانب سے کمی ہو سکتی ہیں۔ اگر اس پیٹرولیم لیوی کو نہ چھیڑنا چاہیں تو حکومت ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں سے پیسے نکال کر آئل سبسڈی دے کر آئل کی قیمتوں میں کمی کر سکتی ہے مگر اس کا انحصار لقویڈیٹی پوزیشن پہ ہوتا ہے کہ پیسہ کہاں سے اور کیسے آئے گا۔
حالیہ فروری 2022 اضافے میں پیٹرول پر لیوی بڑھا کر 17 روپے 92 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے جب کہ قبل ازیں پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 13 روپے 92 پیسے تھی۔
حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ گزشتہ سال نومبر میں طے کیا تھا کہ پیٹرول پر عائد لیوی کو ہر مہینے چار روپے بتدریج بڑھا کر 30 روپے تک لے جایا جائے گا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہونے والے اس معاہدہ کے تحت پیٹرولیم لیوی سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر ملیں گے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے کی تین وجوہات ہیں جن میں یوکرین بحران کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچنا، یاد رہے روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے یورپ کو گندم کی دستیابی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔کیونکہ یوکرین رقبے کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے اور یورپ کی ضروریات کا غالب حصہ گندم یہیں سے آتی ہے۔
ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی (مقصد یہی تھا کہ ایکسپورٹ بڑھے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا)اور
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے سبب پیٹرولیم لیوی میں اضافہ شامل ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح کیا ہے؟
بیرون ملک سے تیل درآمد کرنے کے بعد جب اسے مقامی منڈی میں بیچا جاتا ہے تو اس پر مختلف ٹیکس بھی لگائے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 31 جنوری کو تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کی گئی تو حکومت نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کو عوام پر منتقل کرنے کی بجائے اس کا بوجھ خود سہا ہے۔
ملک کی وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق گذشتہ نظر ثانی جائزے میں تیل کی مصنوعات میں اضافہ نہ کر کے حکومت نے تیس ارب روپے کا نقصان خود برداشت کیا اور سالانہ بنیادوں پر کم سیلز ٹیکس وصول کر کے یہ 260 ارب کا نقصان ریونیو کی مد میں برداشت کر رہی ہے۔
31 جنوری 2022 میں اگر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسوں کا جائزہ لیا جائے تو سیلز ٹیکس کی شرح کو صفر کر دیا گیا تھا جو 16 جنوری 2022 کو ایک لیٹر پیٹرول پر 0.79 فیصد تھا۔
اسی طرح پیٹرولیم لیوی کی شرح 17.62 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 13.92 روپے فی لیٹر کر دی گئی تھی۔جبکہ نومبر 2021 آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق لیوی کو ماہانہ چار روپے بڑھا کر تیس روپے تک بڑھانا تھا۔جو کہ معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ ملک کے موجودہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں چھ سو ارب روپے ٹیکس جمع کر نے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ مگر سیل ٹیکس میں کمی کر کے پہلے 260 ارب کا نقصان کیا گیا اور پھر پیٹرولیم لیوی کی مد میں کمی کر کے یہ اہداف کیسے حاصل کرنے تھے ،اقتصادی ماہرین اس کا بہتر جواب دے سکتے ہیں ۔ حکمرانوں کے اقتصادی معاملات کے فیصلوں پہ جب سیاست غالب اجائے تو نتائج یہی ہو سکتے ہیں کہ جو پاکستانی عوام بھگت رہی ہے۔
حکومتی ٹیکسوں کے علاوہ صارفین کو جس قیمت پر تیل بیچا جاتا ہے اس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ ڈیلرز کا منافع بھی شامل ہے جو ایک لیٹر پٹرول پربالترتیب 3.68 روپے اور 4.90 ہے۔
اگرچہ پچھلی انصافی حکومت نے ٹیکس کم کر دیے تھے تاہم انھیں ٹیکس کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کو چلانے کے لیے زیادہ ٹیکس کی ضرورت ہے تاہم پھر بھی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے کو خود زیادہ برداشت کیا۔
ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کم قدر سے درآمدی تیل کے مہنگا ہونے کے بارے میں یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے کمزور ایکسچینج ریٹ نے بھی اس تیل کو مہنگا کیا ہے۔ پیسے کی قیمت گرا کر ایکسپورٹ بڑھانے کی پالیسی نے خاطر خواہ نتائج نہیں دیے کہ جتنی امید تھی۔

Comments
Post a Comment