بحثیت معلم ۔۔۔ ! احساس، زمہ داریاں اور خصوصیات
تحریر و تحقیق ۔۔۔!رانا آصف شہزاد علی

بحثیت معلم ۔۔۔۔ !
احساس اور زمہ داریاں
میرے مطابق علم مثبت سوچ ، آگہی ،منطق اور سچائی کے ادراک کے دریچے کھلے رکھنے کا نام ہے جو انسان میں شعور کے فروغ، زبان و عمل کے تسلسل میں تال میل پیدا کرتا ہے ۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ذہنی جسمانی اور اخلاقی قوتوں کی نشوونما کا نام یے۔ مختلف فلاسفرز اور ماہرین تعلیم نے اس کی تعریف کچھ یوں بیان کی یے۔
سقراط: “تعلیم سچائ کی تلاش کا نام ہے.
ارسطو: “تعلیم جسمانی اور اخلاقی نشوونما کا عمل ہے."
جان ڈیوی: “تعلیم تجربے کی مسلسل تعمیر نو اور تنظیم نو کا عمل ہے”.
کانٹ: “تعلیم اس عمل کا نام یے جو آدمی کو صحیح انسان بناتی ہے.”
اِبن خلدون: “تعلیم افراد میں معاشرتی اہلیت پیدا کرتی ہےتاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر طور پر گزار سکیں بلکہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے بھی ضامن ہوں.”
سر سید احمد خاں: “تعلیم انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کو دین کے تحت رکھتے ہوۓ جدید و قدیم علوم سکھاتی ہے تاکہ وہ اچھا مسلمان بننے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اچھا اعلی مقام حاصل کر سکے.”
اکثر لوگوں کو حکومت اور نظام تعلیم پر تنقید کرتے سنا ہے، اور بض اوقات یہ برحق بھی ہوتی ہے. لیکن ہم تمام کوتاہیوں اور غلطیوں کو حکومت پر تھوپ کر اور نظام تعلیم پر تبرا کرکے خود کو بری الزمہ نہیں کر سکتے۔ حکومت اور نظام تعلیم پر تنقید کرنے میں سب سے زیادہ پیش پیش ہمارے ٹیچر حضرات ہوتے ہیں جن کا کام ہی ماہرین تعلیم کی طرف سے بنائی گئی پالیسیوں کو سکولوں میں لاگو کرنا یے جب کہ پالیسی بنانے والی ہر کمیٹی میں ٹیچرز کی نمائندگی ہوتی ہے۔ استاد کو کسی بھی تعلیمی نظام میں بہت اہم حثیت حاصل رہی ہے اور تعلیم خاص طور پر رسمی تعلیم استاد کے بغیر ممکن ہی نہیں. لیکن بچوں کا پرائمری یا ایلمنٹری سطح پر تعلیم کا چھوڑ جانا ہو یا بچوں کی اخلاقی اور ذہنی نشوونما کا فقدان ہو، اس میں حکومت اور نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا کردار ہمیشہ بہت اہم رہا ہے۔
جدید تعلیمی فلسفے کے مطابق کلاس میں استاد کا کردار صرف مددگار اور معاون کی حد تک ہے۔ ابن خلدون نے بچوں کو جسمانی سزا دینے سے منع کیا ہے جب کہ امام غزالی نے بھی ناگزیر حالات میں بس دو چھڑیاں مارنے تک کی سزا متعین کی ہے۔ میں اساتذہ کے خلاف نہیں کیونکہ میں بھی ایک استاد کی شفقت کی وجہ سے ہی اس مقام پر پہنچا ہوں لیکن میں اس سزا کے خلاف ضرور ہوں جس میں بچوں پہ تشدد کیا جائے جس سے نہ صرف بچے کی جسمانی بلکہ ذہنی حالت بالکل تباہ ہو جاتی ہے۔
ڈبہ بند طرز تعلیم
بد قسمتی سے تعلیم کو نصاب کے ڈبے میں بند کردیا گیا ہے۔ تعلیم کی روح کو پانے کے لیے نصاب سے باہر نکلنا اور بچوں کو نکالنا بہت ضروری ہے۔ ایک اچھا استاد بچوں کو نصابی کتب کے علاوہ مطالعے سے آشنا کرواتا ہے اور پوری دنیا کی سیر کرواتا ہے۔ مروجہ طرز تعلیم میں استاد اور طالبعلم کے تعلق میں فاصلوں کو لازمی سمجھا جاتا ہے تاکہ
احترام اور ادب برقرار رہ سکے۔ طے یہ کرنا ہے کہ کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟ فاصلہ نہ صرف ایک دوسرے کی بات سمجھنے اور سمجھانے میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ ایک ایسے تکلف اور تکلیف کو جنم دیتا ہے جو آسان چیزوں کو مشکل بنا دیتا ہے۔
استاد شاگرد اور شاگرد استاد
ایک حدیث مبارکہ میں علم کو مومن کی کھوئی ہوئی میراث کہا گیا ہے۔ اس حدیث کا اصل مقصد علم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، علم صرف استاد کی میراث نہیں ہوتا اور نہ صرف کتاب میں بند ہوتا ہے۔ علم روشنی کی طرح ہر طرف پھیلا ہوتا ہے ، اگر اسے سیکھنے کے دروازے بند نہ کرلئے جائیں یا خود سے ہی فیصلہ نہ کر دیا جائے کہ یہ جگہ اور یہ شخص تو اس قابل ہی نہیں کہ کچھ سکھاسکے تو سیکھنے کے لا متناہی رستے کھل سکتے ہیں۔ سیکھنے کے عمل کا کو ئی بھی ذریعہ ہوسکتا ہے اور کسی طرح بھی سیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ مشہور موسیقار فل کولنز کہتے ہیں:’’ سیکھنے میں آپ سکھاتے ہیں اور سکھانے میں آپ سیکھتے ہیں۔‘‘
تدریس ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ پیشہ وارانہ تدریسی فرائض کی انجام دہی کے لئے استاد کا فن تدریس کے اصول و ضوابط سے کم حقہ واقف ہوناضروری ہے۔ ایک باکمال استاد موضوع کو معیاری انداز میں طلبہ کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کے فن سے آگاہ ہوتا ہے۔ معیاری اور نفسیاتی انداز میں نفس مضمون کو پیش کر نا ہی تدریس ہے۔ موثر تدریس کے لئے ،کسی بھی موضوع کی تدریس سیقبل، استاد کا موضوع سے متعلق اپنی سابقہ معلومات کا تشفی بخش اعادہ ا ور جائزہ بے حد ضروری ہے۔ سابقہ معلومات کے اعادہ و جائزہ کے علاوہ موضوع سے متعلق جدید تحقیقات و رجحانات سے لیس ہوکر اساتذہ اپنی شخصیت کو باکمال اور تدریس کو بااثر بنا سکتے ہیں۔
تدریسی اصولوں کا علم اساتذہ کو تدریسی لائحہ عمل کی ترتیب اور منظم منصوبہ بندی کا عادی بناتا ہے۔کیوں، کب ، اورکیسے پڑھا نے کااصو ل اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کے علاوہ تدریسی باریکیوں کی جانکاری بھی فراہم کرتا ہے ۔ تدریسی اصولو ں پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ موثر اور عملی تدریس کو ممکن بناسکتے ہیں۔
تدریسی اصول بامقصد تدریس،نئے تعلیمی رجحانات ، تجزیہ و تنقید، مطالعہ و مشاہدہ ،شعور اور دلچسپی کو فروغ دیتے ہیں۔ تدریسی اصولوں پر قائم تعلیمی نظام نتیجہ خیز اور ثمر آورثابت ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پرکاربند استا د معلم سے زیادہ، ایک رہنما اور رہبرکے فرائض انجام دیتاہے۔حروف کی ترتیب و صوتیات سے واقف فرد استاد نہیں ہوتا ہے بلکہ استاد طلبہ کے نفسیاتی ،معاشرتی مسائل کا ادراک رکھتا ہے ان کی سابقہ معلومات اور ذہنی صلاحیتوں اور استعداد کو ملحوظ رکھ کر اپنی تدریسی حکمت عملی وضع کرتا ہے۔بہتر ،کامیاب اور موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے استاد کا لائق ،قابل اور تربیت یافتہ ہونابہت ضروری ہے
ذیل میں اہمیت کے حامل چند نمایاں تدریسی اصولوں کو بیان کیا جارہاہے ۔
(2)درس و تدریس استاد اور طالب علم پر مبنی ایک دوطرفہ عمل ہے۔موثر تدریس اور کامیاب اکتساب کے لئے تعلیمی عمل میں استاد اور شاگرد دونوں کی سرگرم شرکت لازمی تصور کی جاتی ہے۔
(3)دوران تدریس استاد جو حکمت عملی اختیار کرتا ہے اسے تدریسی حکمت عملی یا طریقہ تدریس کہتے ہیں۔تدریسی طریقہ کار معلومات کی منتقلی اورطلبہ میں علم سے محبت و دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
(4)اختیار کردہ تعلیمی پروگرام اور سرگرمیوں کے پہلے سے طئے شدہ مقاصد ہونے چاہیئے۔ اور ان مقاصد کے حصول کے لئے مناسب لائحہ عمل کے تحت اساتذہ کو تعلیمی سرگرمیوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(5)اساتذہ تدریسی تنوع کے لئے جہاں مختلف سرگرمیوں سے کام لیتے ہیں وہیں تدریس کے دوران انھیں ایک بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہو تی ہے اور یہ توجہ تدریس کا سب سے اہم اصول ہے اور وہ ہے بچہ کی انفرادیت کا احترام ۔بچے کی انفرادیت اور اس کی شخصیت کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر اساتذہ کو تدریسی خدمات انجام دینی چاہیئے۔
(6)موثر تدریس ،بہتر اکتساب اور طلبہ میں تخلیقیت اور اختراعی صلاحیتوں کی نمو و فروغ کے لئے اساتذہ تخلیقی اور اختراعی طریقہ ہائے تدریس کو بروئے کار لائیں۔
(7)سابقہ معلومات کا موجودہ علم سے تعلق بنانا،نامعلوم کو معلوم سے مربوط کرنا،معلومات زندگی کو عملی زندگی سے جوڑنا ہی علم ارتباط (principal of correlation)کہلاتا ہے۔
(8)تدریس کو معقول موثر اور طلبہ کے لئے دلچسپ بنانے کے لئے اساتذہ ، بہتر سے بہتر طریقہ تدریس(Teaching methods)،تدریسی حکمت عملی(teaching strategies)،تعلیمی معاون اشیاء (Teadching aids)اور دیگر وسائل کا بر موقع استعمال کرنے میں غایت درجہ کی احتیاط سے کام لیں۔
(9)تعلیم و تدریس کا اہم مقصد طلبہ میں صحت مند اقدار کی منتقلی ،صحت مند رویوں ، عادات کی تشکیل و استحکام،نظم و ضبط(discipline) کا فروغ ،کردار سازی، زندگی میں معاون مہارتوں اور عزت نفس کا فروغ ہے۔
(10)اعادہ (Recapitulation)اور تعین قدر ،جانچ (Evaluation)کے ذریعے اکتساب کی ترقی اور تدریس کی تاثیر کا پتا چلتا ہے۔ اسی لئے ایسی تدریس کامیاب تصور کی جاتی ہے جس میں طلبہ کی مسلسل جانچ اور اعادہ کی کنجائش فراہم کی جاتی ہے۔

Comments
Post a Comment