فل کورٹ عدالتی بنچ ، عوامی و سیاسی مطالبہ جائز ہے

 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی

فل کورٹ عدالتی بنچ ،عدالتی انٹیگریٹی میں اضافی ہی کرے گا۔فریقین کا مطمئین کیا جانا عوامی سطح پہ اچھا تاثر دینے کا باعث بنے گا۔


‏‎‎اس قدر بڑے پیمانے پہ عوامی اضطراب،سیاسی بے چینی کی ایک وجہ ہے اور بڑی تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ میں پہنچا ہوں کہ ہم بچے میں سوال کرنے کے رحجان کی حوصلہ افزائ نہیں کرتے۔گھر میں، سکول میں ، مدرسہ میں۔۔ہر جگہ سوال کا مذاق اڑاتے ہیں 

سوال کبھی غلط نہیں ہوتا صاحب ۔۔۔۔! جواب غلط ہوسکتا ہے۔

چراغ بُجھتے چلے جارہے ہیں سلسلہ وار...!

میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

‏بلاشبہ عدلیہ کیلیے ایک بہت بڑا امتحان ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ انکو اس امتحان میں ڈالنے والا بھی اگر کوئی ہے تو وہ ججز صاحبان خود ہیں۔ایک طویل عرصے سے بینچز کی متنازعہ تشکیل موضوع بحث بنی ہوئی ہے،کئی ججز بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کر چکے مگر چیف جسٹس شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔

‏ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ نہیں پہنچا تھا کہ اکثر لوگوں کو پہلے سے یقین تھا، بینچ انہی مخصوص ججز پر مشتمل ہو گا جو کہ انکے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔جب کاز لسٹ جاری ہوئی تو معلوم ہوا انکی رائے درست تھی۔

‏حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے متنازعہ رولنگ دی تھی تب سپریم کورٹ کے جس پانچ رکنی لارجر بینچ نے انکے اس اقدام کو آئین کے منافی قرار دیا تھا اس بینچ میں وہ تین ججز بھی شامل تھے جن پر آج حکومتی شخصیات جانبداری کا الزام لگا رہی ہیں۔

‏دنیا کے کسی ملک میں آئینی تنازعات کا فیصلہ اس طرح نہیں ہوتا کہ چیف جسٹس 17 میں سے صرف تین ججوں کا بنچ بنا دے۔ مرضی کا بنچ بنانے کی گنجائش ہی نہیں ہونی چاہئیے۔ آئینی فیصلوں پر ہر جگہ اختلاف رہتا ہے لیکن جب مرضی کے بنچ بنتے ہیں تو انصاف یا قانون کا بھرم تک نہیں رہتا۔

آئین پاکستان کی سربلندی اور نظام انصاف کو سیاسی مینجمنٹ سے پاک ہونا چاہئیے۔

یہ ایک عمومی اور عوامی تاثر ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ خاص طور پہ اور صوبائی ہائیکورٹ پولیٹیکل مینیجمینٹ ایجنٹ کا رول پلے کر رہے ہیں ۔ یہ سلسلہ جس کا باقاعدہ آغاز مشہور 2014 پی ٹی آئی کے دھرنے سے ہوا تھا جس کی وضاحت مخدوم جاوید ہاشمی ے کر کے اس دھرنے کے تابوت میں کیل ٹھوکی تھی۔ ہاشمی صاحب کا کہنا تھا کہ اب ان معاملات کو عدالتی کاروائیوں سے کنٹرول کیا جائے گا۔ اور چیز ثبوت ہے کہ اس وقت سے لیکر آج تک جتنے بھی عدالتی بنچز بنے ہیں اس گلدستے کے تینوں ججز ہر بنچ میں پائے گئے ۔اگرتین کا بنچ ہے تو تینوں اور اگر پانچ کا بنچ ہے تو پھر بھی تینوں موجود ہوتے تھے۔ اور اگر ان کے ساتھ بنچ میں اگر کوئی اور جسٹس شامل ہوتا بھی تو وہ ان کی رائے سے ہمیشہ اختلاف ہی کرتا رہا۔ ۔۔۔ 

عوامی سطح پہ یہ تاثر زور پکڑ چکا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ تیرہ ججز کے ساتھ کام کرہا ہے جن میں آٹھ ججز کا تعلق پنجاب صوبے سے ہے۔ تو کیا وجہ ہی کہ ساری سپریم کورٹ کے اہم آئینی کیسز کی شنوائی میں یہ تین ججز ہی فرنٹ لائن میں نظر آتے ہیں تو کیا ججز نالائق ہیں یا وہ سارے توتلے بولتے ہیں اور عوام ان کی زبان سمجھ نہیں پاتی۔ وہ کسی قومی نوعیت کے اہم کیس میں نظر نہیں آتے ۔۔۔ اپنی انٹیگریٹی اور قابلیت کے لحاظ سے تین ججز جو کہ اس وقت نظر انداز ہیں یعنی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یہی' آفریدی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ 

مخالف نظریات رکھنے والے لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ چیف جسٹس پاکستان کا استحقاق ہے کہ وہ جسے چاہئیں بنچ میں شامل کریں تو اس چیز کی حوصلہ شکنی ضروری ہے کہ جس سے جانب داری کا تاثر محسوس ہوتا ہو۔ ۔۔۔

‏اب معزز سپریم کورٹ کے پاس ایک ہی راہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی میں پارٹی ہیڈ کے فیصلے کو آئینی، قانونی اور بالادست قرار دے اور باقی جماعتوں میں ارکان اسمبلی کے۔

ورنہ یہ ہو نہیں سکتا کہ بطور پارٹی ہیڈ عمران خان جو فیصلہ کر سکتے ہوں وہی اختیار بطور پارٹی ہیڈ چوہدری شجاعت حسین کے پاس نہ ہو۔

‏‎سپریم کورٹ کا 63 اے کی تشریح غلط فیصلہ تھا کیونکہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آج جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ یے۔ شاید وہ اس وقت کسی خاص جماعت کو فائدہ دینا چاہتے تھے لیکن فیصلہ اسی جماعت کے گلے پڑھ گیا!

‏تریسٹھ اے کے تفصیلی اکثریتی فیصلے کو وقت پہ ا جانا چاہئیے تھا اور یہی تو پولیٹیکل مینیجمینٹ ہے کہ جس سے ابہام پیدا ہوا ، تین معزز ججوں کے پاس ٹی وی دیکھنے سے فرصت ہوتی اور تفصیلی فیصلہ لکھ لیا جاتا تو یہ بحران نہ ہوتا، جب جج سیاست میں گھستے ہیں تو سیاستدان عدالت میں،

اپنی نااہلی کا تماشہ ٹی وی سکرینوں پر دیکھنے والے منصفوں کو کیا نام دیا جائے۔

‏اعتزاز احسن ٹھیک کہتے ہیں کہ فل کورٹ ضروری نہیں، فیصلہ تین یا پانچ جج بھی کر سکتے ہیں۔ صاحب جو بات نہیں سمجھنا چاہتے وہ یہ ہے کہ بار بار وہی تین جج کیوں؟ کوئی اور تین یا پانچ جج کیوں نہیں؟ حالت یہ ہے کہ ان کے ساتھ چوتھا/پانچواں جو بھی بیٹھتا ہے، وہ اختلافی فیصلہ دے دیتا ہے۔

  • ‏کوئی ماہر قانون بتا سکتا ہے کہ پاکستان کے آئین میں کس جگہ” امانتی وزیر اعلیٰ” کا ذکر ہے؟ 
  • اس آئین میں “ محدود اختیارات” والے وزیر اعلیٰ کا ذکر کہاں لکھا ہے؟ 
  • اگر یہ سب کچھ آئین میں نہیں ہے تو عدالت کے پاس یہ اختیار کہاں سے آیا؟ کیا آئین میں تبدیلی کا اختیار عدالت کے پاس ہے؟

‏انہی 20 ارکان نے ایک ماہ پہلے PTI کے خلاف ووٹ دیا تو عدالت نے کہا  کاؤنٹ نہیں ہونگے  اور آج کہہ رہے ہیں کاؤنٹ ہونگے......

کیا یہاں 22 کروڑ  بھیڑ بکریاں رہتی ہیں ؟

یہ ہماری پولیٹیکل کلاس کی نااہلی ہے ‏ ملک کے سیاستدان اور حکمران اپنے آئینی معاملات کو خود پارلیمنٹ کے رہ کر حل نہیں کرتے اور سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لے جاتے ہیں۔ ہر دوسرے روز سپریم کورٹ کے تین ججز اور تین فوجی جرنیلوں کی طرف دیکھیں کہ وہ ان کی قسمت کا کیا فیصلہ کرتے ہیں ان کے ہاتھوں میں ہماری تقدیر ہے۔ 22 کروڑ لوگ انہیں حق حکمرانی دیتے ہیں لیکن یہ نالائق نکمے مل کر سارا سال SC اور GHQ گیٹ سامنے لیٹے رہتے ہیں۔۔

سارا ملبہ سیاستدانوں پہ ڈالنے کی بجائے عدالتوں کی اپنی اداؤں پہ زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی ججوں نے معاشرے میں جو عدالتوں کا، ان کے فیصلوں کا احترام ہونا چاہئیے ،ختم کر دیا ہے۔ عدلیہ کے کمزور اور کنفیوز فیصلوں کی وجہ سے سوسائٹی میں جو غیر یقینی صورتحال ہے ۔ اس کا اثر معیشیت، اقتصادیات، معاشرے کی تقسیم اور افراتفری کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ 2023 کے آخر میں شہباز شریف وزیراعظم نہیں ہو گا ۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ آرمی رہے گا یا چلا جائے گا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت چیف جسٹس کون ہو گا ۔ سوسائٹی کا یہ جو مبہم بیانیہ ہے اس کو ختم کرنے کے لیے عدلیہ ایک لارجر فل کورٹ بینچ تشکیل دے اور پچھلے دس سالوں کے سارے سیاسی فیصلوں کو ریویو کرے ۔لارجر پیمانے پر عوامی کنسینسز پیدا کیا جائے۔

‏اعلی عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے لیے pick and choose کی بجائے میرٹ کی بنیاد پر شفاف سلیکشن process کا نظام بنایا جانا چاہیے تاکہ بہترین پروفیشنلز جن کا ٹریک ریکارڈ بھی بہترین ہو صرف وہی جج بن سکیں۔موجودہ نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ججوں کے احتساب کا نظام بھی بہتر کیا جانا چاہیے۔


Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟