عمران خان پہ عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی ، معاشرتی اور اور قانونی صورتحال کا طائرانہ جائزہ
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
عمران خان کی نا اہلی سے دوبارہ عوامی عدالت تک کے ملکی، معاشرتی اور سیاسی ماحول پہ تازہ تجزیہ
بغض نواز شریف میں ملک کا بیڑا غرق اس طرح سے کروایا کی ایک نالائق ، فاشسٹ، مینٹلی انسین ، بد زبان اور کینہ پرور شخص کے ہاتھ ملک تھما دیا اور حکومت ، معیشیت، اقدار، اخلاقیات، روایات اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل کو تباہ و برباد کروا دیا ۔۔۔۔
اگر نواز شریف کا توڑ لانا تھا تو کم از کم کسی قابل، تعلیم یافتہ، سیاسی سمجھ بوجھ اور پرو ڈیموکریٹ شخصیت کو ہی لے اتے۔۔۔۔ ناکہ ذہنی مریض قوم پہ مسلط کر دیں۔
یہ سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ پاؤں مروڑنے کا کام جن محکموں کے پاس ہے قوم اسے بہتر جانتی ہے اور ہمارے سلامتی کے زمہ دار ادارے مجرم ہیں اس قوم کے ۔۔۔ سماج کے اور نوجوان نسل کے۔۔۔
اگر جمہوریت یہاں نہیں پنپ سکی اس کی زمہ داری یقینی ساری اسٹیبلشمنٹ پہ ڈالی جاسکتی ہے۔ ۔۔۔۔
جو لوگ 2018 الیکشن میں ڈیوٹی کر چکے ہیں اور وہ حلفاً کہتے ہیں کہ جتنی بدترین دھاندلی اس عمران خان کو لانے کے لیے کی گئی اتنی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں نہیں ہوئی۔۔۔ ہمارے دفاعی اداروں کے اہلکاروں نے جتنی کھلی دھاندلی اپنی نگرانی میں کروائی۔۔۔قانون کی دھجیاں اڑائی۔۔۔ میں آئی وٹنیس ہوں اس دو نمبری کا۔۔۔
آج عمران کھل کے ان طاقتوں کے نام بھی نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ان کی دخل اندازی سے فایدہ اٹھایا ہوا ہے۔
اب اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد دیوانے کی بڑھکیں سنیں ۔۔۔۔ جو ہم جیسے ذہنی غلام سماج کی قسمت ہیں ۔۔۔
المیہ تو یہ ہے کہ عمران خان اقتدار سے برطرفی کے بعد ان کرداروں کا نام لینے کی ہمت بھی نہیں کررہے جنہوں نے انہیں اقتدار کے پرآسائش ایوانوں سے واپس سڑکوں چوراہوں پر دھکیل دیا ہے۔ عمران خان اپنے اقتدار کے قاتلوں کی بجائے امریکہ کو گالی دے رہے ہیں۔ یہ گالی مشہور بھی بہت ہورہی ہے کیونکہ ہمیں بچپن سے پڑھایا گیا ہے کہ پاکستان میں جو واقعات سمجھ نہ آئیں وہ یا تو ایجنسیوں کی کارروائی ہوتے ہیں اور ایسا نہ ہو تو امریکہ اس میں ضرور ملوث ہوتا ہے۔
اب ہمارے ہاں ایجنسیوں کا نام لینے پر کوئی تیار نہیں لہٰذا امریکہ کو گالی دے کر سیاسی دکان چمکانا آسان ہے۔ وہی کام ہورہا ہے۔
اس کو اسوقت اقتدار نہیں لینا چاہئیے تھا جب بیساکھیوں کے سہارے مل رہا تھا ۔۔۔۔ آج ساڑھے تین سال کی پرفارمنس یہ ہے کہ عوام کا سامنا کرنے کے لیے سازش کے مفروضے کا سہارہ لینا پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔
عوامی اجتماع میں عوام سے پوچھا جا رہا ہے کہ میں نے کونسا قانون توڑا ۔۔۔اور آس کے جواب میں لوگوں کے گروہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ کہہ سکیں ۔۔۔۔۔ خان صاحب آپ نے صرف قانون نہیں بلکہ آئین توڑا ہے جو ایک مقدس دستاویز ہے۔ اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کہ ہے ۔یہان کوئی بادشاہت نہیں ہے کہ جو آپ کے دل آئے کرتے پھریں اور کوئی آپ سے پوچھ نہ سکے۔ ڈھٹائی کی حد ہے۔
فاشسٹ لیڈر کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو بزور طاقت دباتا ہے۔ کیا پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے؟ لوگ پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے اکتائے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ سب کو پیچھے چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی کے فاونڈنگ ممبر حامد خان کہاں ہے؟
جسٹس وجیہ الدین احمد کے ساتھ کیا ہوا ؟
اسرار شاہ کے ساتھ کیا معاملات ہوئے ؟
جاوید ہاشمی کے ساتھ کیا کیا؟
جس نے اختلاف کیا وہ پارٹی سے فارغ کر دیا گیا اور سوشل میڈیا پہ اس کی ٹرولنگ کروائی گئی۔۔۔۔۔۔ فاشسٹ سوچ یہی تو ہوتی ہے۔
اسے کہیں کہ اگر اتنا بہادر ہے تو کھل کے کہے اس کی حکومت کس نے گرائی ہے۔۔۔۔ میں اور آپ سب جانتے ہیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی کارستانی ہے۔ اور معاملہ صرف ایک اہم تعیناتی کا ہے جو کہ ایک دفاعی ادارے کے ہیڈ کے طور پہ ہونی ہے۔ مگر ناجائز فائدے لینے والا کھل کے نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔
جب تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حکومتیں لیں گے اسوقت تک یہی کچھ ہو گا۔ نواز شریف بھی یہی کرتا رہا ہے اور اب عمران خان بھی یہی کر رہا ہے۔ جب عوامی اور جمہوری بن جائیں گے تو طیب رجب ایردوآن کی طرح عوامی ہر دل عزیز بھی ہو جائیں گے۔
جمہوریت کے لیے کیا قربانی اور کیا کنٹریبیوشن ہے عمران خان کی۔۔۔۔ ؟
پلیٹ میں رکھ کر اقتدار ملا ہے اسے ۔۔۔۔2018اس کے لیے میں انتخابی جوڑ توڑ کس نے کی،۔۔۔میڈیا کی ٹانگیں کون کھینچتا رہا ۔۔۔۔ عدالتیں کس نے مینج کیں ۔۔۔۔
نہیں بولے گا کبھی بھی نہیں ۔۔۔ابھی جب خود گاجریں کھائی ہوئی ہیں تو کیسے بولے گا ۔۔۔۔
جائے عوام کے پاس ۔۔۔اپنے گناہوں کا اعتراف کرے ۔۔۔معافی مانگے ۔۔۔۔پھر بات بنے گی۔۔۔ابھی بھی قوم سے جھوٹ اور فراڈ کر رہا ہے ۔
یہاں بات نواز شریف کے صحیح یا غلط ہونے کی نہیں ہو رہی۔۔۔ کم از کم مرض کی تشخیص صحیح ہونی چاہئیے ۔۔۔۔ قوم کو جو صحیح بیماری لاحق ہے اس کا ذکر عمران خان جیسے موقع پرست نہیں کر سکتے کیونکہ آپ یعنی خان صاحب پریکٹیکل مائینڈڈ نہیں ہیں۔ جب آپ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے تھے تو سب کچھ صحیح تھا ۔۔۔ مگر جیسے ہی نالائق کی حکومت گئی ۔۔۔۔ تو قوم بھی غلام ہو گئی۔۔۔۔
امریکہ سے ورلڈ کپ جیت کر لانے والے کے خلاف امریکہ ہو گیا ۔۔۔
ساری سیاسی جماعتیں غدار ہو گئیں۔۔۔۔۔
احتساب کرنے والے ادارے اور عدالتیں اس وقت ٹھیک تھیں جب اپوزیشن کی ٹانگیں مروڑ رہیں تھی۔مگر اب جب علامہ مغربی کی سرزنش کرنے لگیں تو جانبدار ہو گئیں ۔۔۔۔
تف ہے ایسی سوچ اور اپروچ پہ۔۔۔۔
کبھی آپ نے عمران خان کی زبان سے تعمیری گفتگو سنی ہے۔ کبھی آپ نے اس شخص کی زبان سے یہ سنا ہے کہ میں نے پاکستان کی عوام کے لیے یہ کیا۔حکومت میں انکے دکھوں کا کیسے مداوا کیا۔ ہمیشہ قوم کو تقسیم کرنے اور توڑ پھوڑ کی سیاست کی۔
میری زندگی بھر کا تجربہ و مشاہدہ یہ ہے کہ تحفے کو لوگ بہ خوشی استعمال کرتے ہیں, یا اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں, یا exchange کر لیتے ہیں,یا آگے تحفہ دے دیتے ہیں۔
حلفا" کہتا ہوں, تحفہ فروشی کا یہ پہلا واقعہ دیکھا ہے۔
واہ خان صاحب!!!
پی ٹی آئی کی نئی پٹیشن جو الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی ہے ، الیکشن کمشن سے17 سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ پر ایک ماہ میں فیصلہ دینے کامطالبہ کیا گیا ہے ۔ مقام حیرت نہیں کہ اپنا حساب تقریباً آٹھ سال میں نہیں دے سکے، دوسروں کا حساب ایک مہینے میں مانگتے ہیں۔
اب تو اسد مجید خان سابق سفیر کابیان سامنے آگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مراسلہ میں میں نےکسی بیرونی سازش کازکر نہیں کیامراسلے میں کہیں بھی عمران خان کازکر نہیں نہ عمران خان کی حکومت گرانے کا کہا گیا ہے عمران خان غلط بیانی کررہے ہیں
سفارت کاری میں ایسی گفتگو ہوتی رہتی ہے جو ہم وزارت خارجہ کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو انہی قوتوں نے اقتدار سے بے دخل کیا جن کی انگلی پکڑ کر وہ اقتدار میں آئے تھے۔ مگر انہیں اقتدار سے نکالنے کا منظرنامہ تیار کرنے والوں کے گمان تک میں نہیں تھا کہ عمران خان اپنا اقتدار بچانے کے لیے اتنا آگے نکل جائیں گے کہ آئین و قانون کو بھی روند ڈالیں گے
اب بھی اگر نارمل سیاسی حالات رکھنے ہیں تو سارے سٹیک ہولڈرز کو سچ اور سچائی کے بیانیے کو اپنانا ہو گا ۔اور ادارہ جاتی اختیارات کی حدود سے تجاوز کی روش کو چھوڑ کر آئین اور قانون کی تابعداری کرنی ہو گی تو ہی اس قوم کے جینئین مسائل کا مداوا ممکن ہے۔

سر آپ کی نظر میں نواز شریف کے علاؤہ پرو ڈیموکریٹ شخصیت اور کون ھو سکی تھی؟
ReplyDelete