"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
زکوٰۃ ایک اہم ترین عبادت ہے ، جس کا بنیادی مقصد ہے : غرباء کی ضرورتوں کو پوری کرنا ؛ لیکن زکوٰۃ خرچ کرنے کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ جس پر چاہیں ، اس رقم کو خرچ کردیں ؛ بلکہ خود زکوٰۃ کے مصارف متعین فرمادیئے ، سورہ توبہ کی آیت نمبر : ۶۰ میں اس کا ذکر موجود ہے ، رسول اللہ ا سے ایک صاحب زکوٰۃ کے طلب گار ہوئے تو آپ انے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کو زکوٰۃ کے معاملہ یہ بات پسند نہیں آئی کہ پیغمبر یا کوئی اور شخص اس کا مصرف متعین کرے ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی مستحقین زکوٰۃ کی آٹھ مدات متعین فرمادیں ، اگر تم اس میں سے ہوتو میں تمہیں اس میں سے دوں گا ۔
مصارف زکوٰۃ
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO
(التوبہ، 9 : 60)
زکوۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے :
”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔”
(بخاری شریف، کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،حدیث نمبر۸،ج۱،ص۱۴)
نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او ررُوح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کا شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
’’زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کے لئے جو محتاج اور نرے نادار (مسکین) ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے (اسلام کی طرف مائل کرنا ہو) اور (مملوکوں کی) گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا (مقرر شدہ) ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں آٹھ مصارفین کا ذکر موجود ہے۔
- فقراء
- مساکین
- عاملین زکوٰۃ (زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے)
- مؤلفۃ القلوب
- غلام کی آزادی
- مقروض
- فی سبیل اللہ
- مسافر
زکوة کا نصاب 7.5 تولہ یعنی 87.5 گرام سونا اور 52.5 تولہ یعنی 612 گرام چاندی ہے اگر ایک یا دونوں چیزیں مذکورہ مقدار میں آپ کے پاس ہوں یا دونوں چیزیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہوں جن کی قیمت ۶۱۲/ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے۔
یا تجارت کا سامان ۶۱۲/ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے یا نقد روپئے ۶۱۲/ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو یا سونا، چاندی، تجارت کا سامان، نقد روپئے یہ سب ملاکر ۶۱۲/ گرام چاندی کے برابر ہو جائے تو آپ صاحب نصاب ہیں ایک سال گذر جانے پر ان کی زکوٰة ادا کرنا آپ کے ذمہ لازم ہوگا۔
زکوٰۃکا حکم:
نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔
زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے-
یہ تو نصاب زکوٰة کا بیان تھا۔ اب زکوٰة کا حساب کرنے کو بتلایا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سال گذر جانے پر جس قدر سونا، چاندی، نقد روپئے، سامان تجارت آپ کے پاس موجود ہوں ان سب کی قیمت لگار کر سب کو جوڑ لیں نیز آپ نے کسی کو قرض دے رکھا ہے یا کسی اور طرح سے آپ کے پیسے دوسرے پر باقی ہیں تو اس رقم کو بھی مذکورہ میزان میں شامل کرلیں، نیز اگر آپ کے ذمہ کسی دوسرے کا قرض ہو یا کسی اور طرح کا اس کا پیسہ آپ کے ذمہ باقی ہو تو مذکورہ میزان میں سے اسے کم کردیں پھر جو میزان الکل بنے اس کا ڈھائی فیصد حساب کرکے متعین کرلیں یہ رقم زکوٰة کی ہوئی جسے آپ ایک مرتبہ میں بھی ادا کرسکتے ہیں تھوڑی تھوڑی کرکے حسب سہولت ادا کرتے رہیں یہ بھی جائز ہے۔
نوٹ:۔ (۱) زکوٰة کا حساب قمری (چاند) کے اعتبار سے سال پورا ہوجانے پر کیا جائے مثلاً محرم، رمضان جس ماہ میں سب سے پہلے سال آپ صاحب نصاب ہوئے تھے ہر سال اسی ماہ میں زکوٰة کا حساب کیا کریں۔
(۲) متعینہ ماہ میں زکوٰة کا حساب ضرور کرلیا کریں واجب مقدار ڈائری میں نوٹ کرلیں ادائیگی حسب سہولت کرتے رہیں اس میں حرج نہیں



Comments
Post a Comment