کامرس ایجوکیشن کا زوال ،وجوہات اور تدارک
تحریر و آئیڈیا: رانا آصف شہزاد علی
شعبہ تعلیم کامرس کا زوال ۔۔۔ لمحہ فکریہ!
تعلیمی شعبہ کامرس کی کم ہوتی ہوئی ڈیمانڈ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کی وجوہات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کامرس ایجوکیشن کا گرتا ہوا معیار اور ڈیمانڈ اصل میں غیر منطقی ایجوکیشنل پالیسیز ، غیر معیاری کامرس سلیبس ، پروفیشنل ٹریننگ کی کمی ، رائج ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی ، اور سکہ رائج الوقت مارکیٹ میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پیکجز کی بنیادی آگاہی نہ ہونا اور اداراجاتی سطح پہ ان کا نہ پڑھایا جانا ہی کا شاخسانہ ہے ۔
حالیہ دور میں پچھلے ہفتے گورنمنٹ آف پنجاب کے ایک فیصلے کے مطابق صوبے بھر میں تقریباً 90 گورنمٹ کالجز اور انسٹیٹیوٹ کامرس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ جن کو کامرس کی گرتی ہوئی ڈیمانڈ کے عوض انفارمیشن ٹیکنالوجی کالجز میں تبدیل کرنے کا پروپوزل دیا گیا ہے کیونکہ کامرس کی تعلیم مہیا کرنے کے عوض ہر لیکچرار کی مد میں گورنمنٹ کا تقریباً 3 لاکھ روپے خرچ آ رہا ہے اور پرفارمینس اور آؤٹ پٹ بہت کم ہو چکی ہے ۔ جو کہ کامرس کے شعبہ تعلیم کے لیے ایک الارمنگ سیچوئشن ہے ۔
ہمیں بحیثیت کامرس ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہوتے ہوئے اس شعبہ تعلیم کی کی جدید تقاضوں کے مطابق ترویج اور اپگریڈیشن میں ایک مثبت اور ترجیحی رول پلے کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم نے بحیثیت ٹیچر آج تک کی سلیبس یا کورس اسٹرکچر کی Innovation، اور مارکیٹ کے ڈیمانڈ اور رائج پریکٹسز کی مد میں کیا اصلاحات لانے کی کوشش کی ہے ۔یہ محاسبہ کرنا ہوگا ۔۔۔
اگر بنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہ ہمارا بحیثیت ٹیچر کام نہیں ہے بلکہ کورس ڈیزائنرز اور Syllabus Curriculum Committee کا کام ہے کہ وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کورس ڈیزائن کریں ۔۔۔ بچوں کی بنیادی پروفیشنل ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بہت ضروری ہوتی ہے اگر دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ۔۔۔۔۔ ہمارا کام ان ساری کمی بیشیوں اور کوتاہیوں کا ادراک کرنا اور ان کی بہتری کی سفارشات بناکے متعلقہ حکام بالا تک پہنچانا ہے اگر ہم اس شعبے کو تنزلی سے بچانا چاہتے ہیں ۔
یہ تمام گزارشات ہم لوگ ایک میٹنگ میں لاہور ایجوکیشنل بورڈ کے سامنے رکھ چکے ہیں کہ ان کو انٹرمیڈیٹ کی سطح پر متعارف کروائیں ۔
اب انڈسٹری کی سطح پر جو سافٹ ویئر پیکجز سسٹم ہینڈلنگ کے استعمال ہو رہے ہیں جیسا
ERP, SAP, or Customized softwares
وغیرہ کیا ہمارے اداروں میں پڑھائے جارہے ہیں ؟
نہیں ۔۔۔۔!
اسی طرح اگر بچوں میں بزنس کی فیلڈ کی دلچسپی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اسے پروفیشنل ٹچ دینا پڑے گا یعنی انڈسڑی وزٹ تاکہ حقیقی دینا میں کام کیسے ہوتا ہے بچے دیکھیں ۔۔۔ اور اسی طرح ریگولیٹری اداروں کا وزٹ جیسے کہ چیمبر آف کامرس ، سٹاک ایکسچینج اور ریجنل ریگولیٹری اتھارٹی کا وزٹ تاکہ سسٹم کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
یہاں صرف کتابیں رٹا دی جاتی ہیں جبکہ پروفیشنل لیول پر کام کیسے کرنا ہے کوئی نہیں سکھا رہا ۔۔۔
کامرس کے بچوں کو بنیادی کالج اور یونیورسٹی کی سطح پہ ہی اکاؤنٹنگ کے سافٹ ویئرز کی ٹریننگ دی جائے جیسے کہ
- Zero Accounting
- Quick-Book
- Peachtree
- SAP
- ERP etc.
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو کامرس اور مینجمنٹ کورسسز کے کرتا دھرتا اس طرف توجہ ہی نہیں کررہے یا شاید اتنا Vision ہی نہیں رکھتے کہ آج کی دنیا میں کتابیں پڑھنے سے زیادہ ٹریننگ اور ڈویلپمنٹ اہم ہیں ۔
بہتری کے لیے تجاویز/ مجوزہ اصلاحات / سفارشات
1-طلباء وطالبات کی پروفیشنل ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پروگرامز کا اجراء۔۔۔ اس کے لیے مارکیٹ سے بہترین تربیت یافتہ ٹرینر لیے جائیں ۔
2-دوران تعلیم طلبہ وطالبات کے لیے انٹرن شپ کو لازمی قرار دیا جائے اور اداروں سے معاہدے کریں کہ یہ انٹرن شپ پیڈ ہوگی ۔
3-انسٹیٹیوٹس کی کمپیوٹر لیب کو اپ گریڈ کیا جائے اور تمام انفراسٹرکچر، سٹیٹ آف دی آرٹ کمپیوٹرز، سسٹم ہینڈلنگ سافٹ ویئرز وغیرہ مہیاء کیے جائیں ۔
4-ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کو سختی سے لاگو کیا جائے تاکہ وہ بھی مارکیٹ کے جدید رجحانات اور پریکٹسز کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔
5- دوران تعلیم طلبہ وطالبات کے لیے انڈسٹری وزٹ، ریگولیٹری باڈیز کے مطالعاتی دورے لازمی قرار دئیے جائیں ۔
6- تعلیمی اداروں کی مینیجمینٹ انڈسٹری کے ساتھ معاہدے کریں تاکہ تعلیم مکمل کرنے والے سٹوڈنٹس کو باعزت روزگار پہ لگوایا جائے ۔
7- طلباء وطالبات کی کمیونیکیشن سکلز کا بہتر بنایا جائے، پروفیشنل رپورٹ سازی کی تربیت دی جائے ۔
ہمیں اپنے اداروں کہ جہاں ہم ایجوکیشنل سروسز دیتے ہیں ان کو جگانا ہے کہ اس طرف توجہ کریں ۔ سسٹم اپگریڈیشن کی جائے اور لیب کو ڈویلپ کرکے ان بنیادی ٹیکنالوجی بیسڈ ٹریننگز کو ممکن بنائیں ۔ اور خود کو بھی یعنی اپنی ٹیچنگ میتھڈولوجیز کو بھی امپروو کرنا ہے تاکہ بچوں کو بہتر گائیڈ کر سکیں ۔ اور ایک بہتر اور ٹیکنیکلی سکلڈ جنریشن پیدا کرسکیں ۔

Excellent words, Rana Sb.
ReplyDelete