پاکستان میں پاور سیکٹر کے کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی
اصل مدعاء کیا ہے ؟
تحریر و تحقیق: رانا آصف شہزاد علی
ان دنوں آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز کے بارے میں ایک عوامی سطح پہ تنازعہ کھڑا ہو گیاہے۔ آئیے اس کے حقائق اور فیکٹس اینڈ فگر پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ آپ کو فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا ۔
پاکستان میں 31 جنوری 2024 تک 46,035 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت ہے جس میں 28,811 میگاواٹ تھرمل، 10,635 میگاواٹ پن بجلی، 1,838 میگاواٹ ہوا، 882 میگاواٹ سولر، 249 میگاواٹ بیگاس اور 3,620 میگاواٹ نیوکلیئر شامل ہیں۔
گزشتہ 10 سالوں کے دوران آئی پی پیز کو 8.344 ٹریلین روپے کی صلاحیت کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران آئی پی پیز کو 2.1 ٹریلین روپے کی صلاحیت کی ادائیگی کی جائے گی۔ پاکستان اکنامک سروے 2023-24 کے مطابق، 2024 میں نصب بجلی کی پیداواری صلاحیت 46,035 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ رہائشی اور صنعتی اسٹیٹس سے آنے والی زیادہ سے زیادہ کل طلب تقریباً 35,000 میگاواٹ ہے، جب کہ ترسیل اور تقسیم کی صلاحیت تقریباً 24,000 میگاواٹ پر تعطل کا شکار ہے۔
حالیہ دہائیوں میں، پاکستان مختلف وجوہات کی بنا پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس میں بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل فیول پر زیادہ انحصار، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، موسمی تغیرات، توانائی کے ناکافی ذرائع اور ناکافی تکنیکی ترقی شامل ہیں۔
پاکستان میں، 41 تھرمل انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) جن کی کل نصب صلاحیت 17 642 میگاواٹ ہے اور 8 ہائیڈرو آئی پی پیز جن کی کل نصب صلاحیت 472 میگاواٹ ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 46035 میگاواٹ ہے، جس میں سے 59 فیصد توانائی تھرمل (فوسیل فیول) سے، 25 فیصد ہائیڈرو سے، 7 فیصد قابل تجدید (ہوا) سے آتی ہے۔ شمسی اور بایوماس)، اور 9% جوہری توانائی سے۔
پاکستان مہنگی بجلی پیدا کرتا ہے، کیونکہ ملک اپنی نصف توانائی تھرمل توانائی سے حاصل کرتا ہے۔ درآمدی مصنوعات جیسے مشینری اور ایندھن کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے پاکستان کا توانائی کا شعبہ بڑی حد تک بین الاقوامی منڈی پر منحصر ہے۔
اب ہم اپنے متعلقہ ایشوز کو ڈسکس کرتے ہیں ۔
مثال کے طور پہ اگر آپ 3 سال کے لیے کار لیز یا کرایہ پر لیتے ہیں اور ایک سال کے بعد آپ کو ادائیگی کرنا بہت مشکل لگتا ہے، تو آپ کرایہ ادا کرنا بند کر کے گاڑی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم یکطرفہ طور پر آئی پی پیز کو ادائیگی کرنا بند کر دیں تو کیا آئی پی پیز ہمیں بجلی کی فراہمی بند نہیں کر دیں گے؟
پچھلے سال آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی کل ادائیگیاں 1,893 بلین روپے تھیں۔ اس میں سے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، جو مکمل طور پر حکومت پاکستان کی ملکیت ہے، کو 3300 میگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت کے لیے 388 ارب روپے ادا کیے گئے۔ لیکن PAEC نے یہ رقم اپنے پاس نہیں رکھی۔ اس نے اسے پاکستان میں جوہری پاور پلانٹس لگانے کے لیے غیر ملکی بینکوں اور کمپنیوں سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی PAEC چشمہ 5 ایٹمی بجلی گھر تعمیر کروا رہا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ چینی سپلائرز ہمیں ٹیکنالوجی اور آلات کی فراہمی جاری رکھیں گے اگر ہم انہیں ان پلانٹس کی ادائیگی بند کر دیں جو انہوں نے پہلے لگائے ہیں؟
ایل این جی پر چلنے والے 4800 میگاواٹ کے پلانٹس کے لیے 150 ارب روپے ادا کیے گئے۔ ان میں سے دو پاور پلانٹس حکومت پاکستان اور دو حکومت پنجاب کے پاس ہیں۔ ایک بار پھر ان کو ادا کی گئی رقم ان پاور پلانٹس کے قیام کے لیے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کی گئی۔
10,000 میگاواٹ سے زیادہ کی ہائیڈل پاور کے لیے زیادہ تر واپڈا اور کچھ نجی اداروں کو 229 بلین روپے ادا کیے گئے، جس میں پاکستان کا سب سے مہنگی۔ بجلی بنانے والا پاور پروجیکٹ نیلم جہلم بھی شامل ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ادائیگیاں واپڈا کو ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے گئیں جو اس نے مقامی اور غیر ملکی بینکوں سے لیے ہیں۔ یاد رہے کہ آج بھی واپڈا چین کی مدد اور پیسے سے پاکستان میں دوسرے ڈیم بنا رہا ہے۔
اس کے علاوہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے 4500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس کے لیے 421 ارب روپے کی رقم ادا کی گئی۔ ان میں سے دو مکمل طور پر چینی اور قطری سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں، ایک 75% چینی سرمایہ کاروں کی ملکیت ہے اور صرف سب سے چھوٹے پلانٹ کی ملکیت مقامی سرمایہ کاروں کی ہے۔ تھر کے مقامی کوئلے پر چلنے والے 2000 میگاواٹ کے پلانٹس کے لیے 307 ارب روپے ادا کیے گئے۔یہ تمام پلانٹس غیر ملکی بینکوں کے قرضوں سے بنے ہیں
یہ 1893 بلین روپے میں سے 1495 بلین روپے بنتا ہے (یا 79%) جو ہم نے گزشتہ سال سرکاری یا غیر ملکی ملکیت والے اداروں کو ادا کیا۔
اس لیے مقامی نجی ملکیت والے آئی پی پیز کو کیپیسٹی کی ادائیگی نہ کر کے پیسے بچانے کے لیے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے
پی ٹی آئی حکومت نے اداروں کی مدد سے پہلے ہی 2021 میں مقامی، پرانے آئی پی پیز کے ساتھ کیپیسٹی کے چارجز کو کم کرنے کے لیے کامیابی سے معاہدہ کر لیا تھا۔
موجودہ حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کو دوبارہ کھولنے اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ادائیگیوں کو ری شیڈول کرنے اور تاخیر سے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور یہ بھی بہت غور سے دیکھیں کہ پچھلی حکومتوں نے آئی پی پی کے معاہدوں میں جو توسیع کی ہے اس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔
اس کے علاؤہ عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے یہ آپشن بھی غلط نہیں ہوگا کہ مختلف اداروں کو دی جانے والی فری سپلائی یا سبسڈی کو ختم کیا جائے کیونکہ ان کی آمدن اچھی ہوتی ہے تو وہ اس لاگت کے بوجھ کو برداشت کر سکتے ہیں ۔ اس سے تھوڑا لوڈ کم ہوگا ۔ مگر پھر بھی اصلاحات کی ضرورت رہے گی ۔
لیکن ان قرضوں کا ادا نہ کرنے کا مطلب ڈیفالٹ ہوگا اور یہ کبھی بھی بہتر آپشن نہیں ہونا چاہیے۔
مین پوائنٹس : وجوہات ، تفصیل اور تدارک
1- آخر میں، کوئلے کے پلانٹس کے لیے حکومت کو غیر ملکی حکام اور بینکوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ادائیگیوں کو دوبارہ ری شیڈیول اور تاخیر سے کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور ساتھ ہی ان پلانٹس کو درآمدی کوئلے سے مقامی کوئلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے بیرونی ادائیگی کم کرنی پڑے گی ۔
2- میری نظر میں اصل مسلہ ایک اور بھی ہے کہ ہر معاہدہ میں منسوخی کی شق ہوتی ہے،یہاں Termination Clauseکیوں نہیں رکھی گئی؟
شاید وجہ یہی ہو کر مجبوری میں شرائط ان کمپنیوں کی ہی ماننی پڑی ہونگی ۔
3- جوپلانٹ بند پڑے ہیں،انہیں ادائیگی کیوں کی جائے؟
بحران یہی ہے کہ ضرورت سے زیادہ بجلی گھرلگ گئے ہیں،اگر نجی پاور پلانٹ بجلی دینا بند کردیں گے تو پیداوار اور کھپت میں توازن آجائے گا تو بجلی کی پیداوار کم ہونے سے ہمیں بجلی کی کم قیمت دینی پڑے گی ۔۔۔ کیونکہ ایک جائزے کے مطابق اس دفعہ کھپت تو 47.67% ہوئی ہے مگر ادائیگی سو فیصد کرنی پڑی ہے ۔ اصل مسلہ یہی ہے کہ ہم ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کررہے ہیں تو انہیں بند کردیں ۔
4- اس کے علاؤہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کی ادائیگی میں اضافے کی مین وجہ یہ بھی ہے کہ جب معاہدے پہ لکھا گیا کہ پراگریس پیمنٹس کو ڈالر میں ادا کیا جائے گا ۔ اور جب معاہدے ہوئے تو ڈالر ایکسچینج ویلیو 104 روپے تھی جو کہ اب بڑھ کر 285 کو ٹچ کررہی ہے ۔ تو جناب من جب ڈالر ایکسچینج ویلیو تین گنا زیادہ بڑھ گئی ہے تو ادائیگی بھی تو تین گنا بڑھ ہی جائے گی ۔۔۔۔
5- غیر ضروری طور پر معاہدوں میں توسیع کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ کونسی مجبوری تھی کہ ان معاہدوں میں توسیع کرنی پڑی جبکہ ہماری ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زائد بجلی ہمارے اپنے ذرائع سے پیدا کردہ موجود تھی ۔۔۔ یہ بات بھی غور طلب ہے ۔ ان IPP's سے مزاکرات کرکے بجلی کی پروڈکشن اور استعمال کے درمیان فرق کو کم کیا جائے اور کوئی صورت نکالی جائے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گورنمنٹ ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے پیسے کاٹ کر 50 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی طرف جارہی ہے مگر معاہدوں کے ری وزٹ آپشن کو کیوں استعمال نہیں کررہی ۔
6- اس کے علاؤہ عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے یہ آپشن بھی غلط نہیں ہوگا کہ مختلف اداروں کو دی جانے والی فری سپلائی یا سبسڈی کو ختم کیا جائے کیونکہ ان کی آمدن اچھی ہوتی ہے تو وہ اس لاگت کے بوجھ کو برداشت کر سکتے ہیں ۔ اس سے تھوڑا عام عوام کے اوپر لوڈ کم ہوگا ۔ مگر پھر بھی اصلاحات کی ضرورت رہے گی ۔
Sources of Information :
Ministry of water and power,
Power sector division
Ministry of finance division
Nepra, IPP's consortium of mutual control and Management.

Comments
Post a Comment