فلسفہ اور مقصدیت شہادت امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔ حقائق کی روشنی میں

 تحریر و تحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی


"بڑے اور عالی نسب لوگوں کے امتحان بھی بڑے ہوتے ہیں"

حضورﷺ نے فرمایا ’’حسنؓ کے لیے میری ہیبت و سیادت ہے اور حسینؓ کے لیے میری جرأت و سخاوت ہے۔‘‘

کربلا کا نام آج بھی ہمارے لبوں پر آتا ہے تو سیدنا حضرت امام حسینؓ بن علیؓ اور آپؓ کے مقدس جاں نثاروں کی جرأتوں، ہمتوں اور شہادتوں کا تذکرہ ہمراہ لاتا ہے۔ سماعت سے لفظ کربلا ٹکراتا ہے تو بے مثال قربانیوں کا تصور ازخود دل میں ابھرتا ہے۔ سرزمینِ کربلا کا کہیں بھی ذکر ہوتا ہے، تو وفا شعاریوں اور جاں نثاروں کی لازوال داستانوں کا خیال خود بخود دل و دماغ میں گونجنے لگتا ہے، کربلا کی فضائیں اور ہوائیں آج بھی انمول جذبوں کی امین ہیں،جو سیدنا حسین بن علیؓ اور آپؓ کے جاںنثاروں، جاںبازوں اور سرفروشوں کے سینوں میں موجزن تھے۔ جب کبھی اور جہاں کہیں شہادت کی تاریخ رقم کی جائے گی، کربلا کا نام نمایاں ہوگا۔ شہیدانِ حق کی انمول قربانیوں، بے مثال جاں نثاریوں، بے نظیر بہادریوں، لازوال جذبوں، حیران کن ہمتوں، قابلِ تقلید جرأتوں اور انمٹ داستانوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔

جب بھی  ہمارے سامنے شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے  یا تاریخ اسلام کے سر فروشوں کے واقعات ہماری سماعت تک پہنچتے ہیں  تو اول وقت میں،  سب سے پہلے ہمارا ذہن وفکر جس  شخصیت عظمی، یکتائے زمانہ  کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے وہ ذات نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے۔ مذہب اسلام میں شہادتیں تو بہت سے جانثاروں نے پیش کی، بہت سے جانثاروں نے اپنے خون جگر سے مذہب اسلام کی کھیتی کو سیراب کیا ہے ، لیکن امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام سب سے نمایاں اور نرالہ ہے اور آپ کی شہادت تمام شہادتوں  میں افضل و اعلیٰ ہے۔

61 ہجری کو میدان کربلا میں جو الم و اضطراب سے پر واقعہ پیش آیا، پوری  اسلامی تاریخ  اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ چشم فلک نے شہادت کے بے شمار واقعات کو ملاحظہ کیا ہوگا ، اس روئے زمین نے اپنی پشت پر نہ جانے کتنے شہیدوں کے مبارک جسموں  کے بوجھ کو برداشت کیا ہوگا، لیکن شہادت امام حسین  دیکھ کر چشم فلک سے بھی آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا، زمین اہل بیت اطہار کے خون کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے اپنے وجود پر نادم و پشیمان تھی، آہ وہ میدان کربلا! آہ وہ شہادت امام حسین۔

تمام بنی نوع انسان کو بلا امتیاز مذہب و ملت رنگ و نسل زبان و علاقہ انسانیت کی بنیاد پر یکساں سیاسی سماجی و مذہبی آزادیوں کا حق تھا۔ جن کی ضمانت بانی اسلام ﷺ نے دنیا کو دی تھی۔ انسانیت کو نشیب سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں اور رفعتوں تک پہنچانے والا وہ قانون اور اعلان تھا جسے پہلے اور آخری حج سے واپسی پر صحرا کے ایک مقام پر کھڑے ہو کر نبی اسلام ﷺ نے پوری دنیا کو دیا تھا۔ جسے آج کی مہذب دنیا بھی انسانیت کا سب سے بڑا چارٹر تسلیم کرتی ہے، امام حسین ؑ کی شہادت نے ان ٖضمانتوں پر مہر تصدیق ثبت کی تھی۔ آج بھی پوری دنیا کے حریت پسند امام حسین ؑ کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ جو انسان جو مسلمان اپنے اپنے وقت کی ظالم جابر اور استحصالی قوتوں سے نبرد آزما ہے وہ قافلہ حسینی کا مسافر ہے۔

رسولِ اکرمﷺ کے وصال کے وقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  کی عمر مبارک تقریباً 6 سال تھی اور واقعہ کربلا کے وقت تقریباً 57  سال تھی، ہمیں یا تو چھ سال کی عمر تک کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں یا پھر میدان کربلا کے،

 یہ جو درمیانی 51 سال ہیں، کہاں چلے گئے کیوں بیان نہیں کیے جاتے۔۔؟؟

 اگر ہمارے علماء یہ 51 سال کی سیرتِ عام کر دیں تو کہیں صدیق اکبر حسنین کریمین رضی اللہ عنھم کو ممبر کے دائیں بائیں بٹھا کر خطبہ دیتے نظر آئیں گے ___

کہیں فاروق اعظم خانوادہ رسول ﷺ کے شہزادوں کا کھڑے ہو کر استقبال کرتے ملیں گے___

کہیں دونوں جنتی شہزادے ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے تلواریں اٹھاۓ کھڑے ہوں گے __

تو کہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر مبارک سے شہزادگانِ رسول ﷺ کے جوتے مبارک صاف کرتے ملیں گے۔۔۔۔!!!!

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے بچوں میں کچھ کپڑے تقسیم کئے لیکن ان کپڑوں میں کوئی کپڑا ایسا نہ تھا جو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہو لہذا آپ نے ان شہزاد گان کیلئے یمن سے کپڑے منگوائے اور پھر کہا: اب میرا دل خوش ہوا ہے۔

(تاریخ الاسلام للذہبی، 5/101)

سبحان اللہ تعالیٰ!

سنہ 61 ہجری محرم الحرام یوم عاشورہ پہ جب با قاعدہ جنگ کا آغاز ہوا حسب مراتب ایک ایک جانباز امام سے اجازت لیتا اور رن کی جانب روانہ ہوتا ، اس مقام پر سب سے پہلے  امام نے اپنے فرزند علی اکبر کو جانے کے لئے کہا ، مگر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اصحاب کے ہوتے ہوئے اہل حرم کا ایک فرد بھی میدان جنگ میں چلا جائے ، لہذا سب سے پہلے جناب حر آگے بڑھے اور جنگ پہ جانے کی اجازت لیکر میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے لیکن خود جانے سے پہلے اپنے فرزند کو بھیجا ، اس طرح ایک ایک کر کے انصار شہید ہوئے ، پھر اہل حرم اور جوانان بنی ہاشم کا سلسلہ رہا ، اس سلسلہ کے آخری شہید میں اختلاف ہے کہ جناب ابوالفضل العباس ہیں یا جناب علی اکبر ، شاید درست یہی ہے کہ سب سے  آخر میں جناب علی اکبر جنگ کے لئے روانہ ہوئے ، آپ کے بعد جناب علی اصغر شہید ہوئے ، اس کے بعد امام حسین کی شہادت واقع ہوئی ، اسی دوران کمسن جناب عبداللہ ابن حسن بھی امام کے  سینہ پر شہید ہوئے ، لیکن روز عاشور سب سے آخری شہید کا نام مورخین سوید بن ابی المطاع بتاتے ہیں۔

مگر ایک حقیقت میں بیان کروں کہ آج تک ہم شہدا کربلا کا ذکر اگر سنا ہے تو صرف ذکر اہل بیت ، ان کی معصومیت ، شہادت اور رنج و الم کا نوحہ ۔۔۔  مگر کسی صحابی رسول اور حسین کے دیوانے ماسوائے حضرت حر کے ۔۔۔ کسی کی جانثاری کے متعلق نہیں سنا ۔کیوں ان کا ذکر نہیں ہے ؟

ان کی وفا شعاری ، حسین ابن علی سے محبت، شجاعت و دلیری کے ذکر سے واقعات خالی کیوں ہیں؟ 

کیا یہ جان بوجھ کر تو نہیں کیا گیا کہ صرف مخصوص افراد کا ایک خاص نقطہ نظر سے  ذکر کیا جائے ،بے شک مقام اہل بیت اور ان کارول دین کی ترویج ،بقا اور استحکام کے لیے سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے اور کسی بھی تنقیدی سوال سے مبرا ہے ، عام لوگ کبھی ان کی ہمسری کے دعویدار نہیں ہو سکتے۔ اصحاب امام حسین علیہ السلام کا ذکر نہ کرنا فکری بددیانتی ہی ہو سکتی ہے ۔بے شک وہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرب اصحاب ہیں۔ ہمارے تاریخ دان ، سلیبس ترتیب دینے والوں کا فرض ہے کہ امت کو فکری ایمانداری سے آگاہ کریں۔

حالانکہ کیا یہ قرین قیاس لگتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب ، دینی ، معاشرتی اور فکری کایا پلٹ میں صرف اہل بیت کا ہی رول نہیں تھا بلکہ بڑے بڑے جید صحابہ کرام کا بھی رول تھا ۔

عام قاری اس پہلو سے لاعلم ہیں۔۔۔ غور طلب پہلو ہے یہ بھی ۔۔۔۔ 

میں اپنے اس کالم میں افراد بنو ہاشم یعنی اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاؤہ ان تمام شہدا کربلا کی لسٹ بھی دوں گا ۔ان کی تعداد میں کمی بیشی ہوسکتی ہے کیونکہ تاریخ سے مختلف حوالے ملتے ہیں اس ضمن میں ۔۔۔ تاریخ دانوں میں اختلاف ہے اصل تعداد کے متعلق ۔مگر خاندان اہل بیت کی تعداد 18 سے 26 تک بتلائی جاتی ہے تاریخ کے مختلف حوالوں میں ۔۔۔۔

شہدائے کربلا وہ منتخب افراد ہیں جو واقعہ کربلا میں ایک غیر منصفانہ جنگ میں شہید کر دیئے گئے۔ جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اس وقت کے مسلم دنیا کے نئے غیر منتخب بننے والے حاکم یزید بن معاویہ کو ایک خلیفہ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یزید کے کردار میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ اور ان لوگوں کا استدلال تھا کہ جس شخص کی شخصیت میں ایسی خرابیاں یا برائیاں پائی جائیں وہ امت مسلمہ کا خلیفہ بننے کا اہل نہیں ہے۔ شہدائے کربلا کے سالار نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تھے۔

بنی ہاشم

شہدائے کربلا میں بنو ہاشم کے سب شہداء ،حضرت ابو طالب کے ہی آل اولاد (پوتے اور پڑپوتے وغیرہ) تھے۔ پہلے ان میں سے مشہور افراد کا ذکر آئےگا۔ جو تعداد میں 18 سے 26 تک  ہیں۔ 

علی بن ابی طالب کے بیٹے

1- حسین بن علی (ذبح عظیم) سالار لشکر

2- عباس بن علی (غازی عباس علمدار)

3- جعفر بن علی

4- عبد اللہ بن علی

5- عثمان بن علی

6- عمر بن علی

7- ابو بکر بن علی

حسن بن علی کے بیٹے

8- ابو بکر بن حسن

9- بشر بن حسن

10- عبد اللہ بن حسن

11- قاسم بن حسن

12- عمر بن حسن

( حسن مثنیٰ کربلا میں شدید زخمی ہوئے تھے مگر شہید نہیں ہوئے۔)

حسین بن علی کے بیٹے

13- علی اکبر بن حسین

14- علی اصغر بن حسین

عبداللہ بن جعفر و زینب بنت علی کے بیٹے

15- عون بن عبد اللہ

16- محمد بن عبد اللہ

عقیل ابن ابی طالب کی اولاد (بیٹے اور پوتے)

17- مسلم بن عقیل (جائے شہادت کوفہ)

18- عبد الرحمان بن عقیل

19- عبد اللہ اکبر بن عقیل

20- جعفر بن عقیل

21- عبد اللہ بن مسلم بن عقیل

22- عون بن مسلم بن عقیل

23- محمد بن مسلم بن عقیل

24- جعفر بن محمد بن عقیل

25- احمد بن محمد بن عقیل

26- محمد بن ابی سعید بن عقیل

شہدائے کربلا امام حسینؑ کے ان ساتھیوں کو کہا جاتا ہے جو سن 61ھ روز عاشورا کو واقعہ کربلا میں لشکر گورنر کوفہ  کے ساتھ جنگ میں شہید ہوئے۔ شہدائے کربلا کی دقیق تعداد معلوم نہیں لیکن مشہور قول کی بنا پر ان کی تعداد 72 تھیں۔ دوسرے اقوال میں ان کی تعداد 78، 87 اور 145 تک ذکر کی گئی ہیں۔ شہدائے کربلا میں سے 18 سے 26 تک شہداء بنی‌ہاشم سے تھے۔ بنی ہاشم میں امام حسینؑ، عباس بن علی اور علی اکبر جبکہ اصحاب میں حر بن یزید ریاحی، حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ کا نام شہدائے کربلا میں نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔شہدائے کربلا کو بنی اسد کے کچھ افراد نے دفن کیا۔ حر بن یزید کے علاوہ باقی تمام شہداء کربلا میں ہی مدفون ہیں۔

1. حضرت حر ابن یزید الریاحی

2. علی ابن حر الریاحی

3۔ نعیم بن العجلا الانصاری

4۔عمران بن کعب الاشجعی

5۔ حنظلہ ابن عمر الشیبانی

6۔ قاسط بن زہیر التغلبی

7۔ کردوس بن زہیر التغلبی

8۔ کنانہ بن عتیق التغلبی

9۔ عمر بن صبیقی الضبعی

10. ضرغامہ ابن مالک التغلبی

11. غامر بن مسلم العبدی

12. سیف ابن مالک العبدی

13۔ عبد الرحمان الارجبی

14.مجمع بن عبداللہ العامذی

15.حیان بن حارث السلمانی

16۔ عمرو بن عبداللہ الجندعی

17۔ حلاس بن عمر الراسبی

18 ۔ نعمان بن عمرالراسبی

19۔ سوار ابن ابی عمیر الہمدانی

20۔ عمار ابن سلامتہ الدالانی

21۔ زاہر بن عمر الکندی

22۔ جبلہ ابن علی الشیبانی

23. مسعود بن حجاج التیمی

24. حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی

25. عبداللہ ابن بشر الخثعمی

26۔ عمار ابن حسان الطائی

27۔عبداللہ ابن عمیر الکلبی

28۔ مسلم ابن کشیر الازدی

29۔ زہیر ابن سیلم الازدی

30. عبد اللہ بن یزید العبدی

31۔ بشر بن عمر الکندی

32 عبداللہ بن عروہ الغفاری

33. بریر ابن خضیر الہمدانی

34. وہب ابن عبداللہ الکلبی

35. ادہم بن امیتہ العبدی

36. امیہ بن سعد الطائی

37.سعد ابن حنظلہ التمیمی

38.عمیر ابن عبداللہ المد حجی

39. مسلم بن عوسجہ الاسدی

40. ہلال ابن نافع البجلی

41. سعید بن عبداللہ الحنفی

42.عبد الرحمن بن عبد المزنی

43. نافع بن ہلال الجملی

44. عمر ابن قرظتہ الانصاری

45. جون بن حوی غلام الغفاری

46. عمر ابن خالد الصیدادی

47. حنظلہ ابن اسعد الشبامی

48.سوید ابن عمار الاتماری

49۔یحیی بن سلیم المازنی

50. قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری

51. مالک ان انس المالکی

52. ذیاد ابن غریب الصائدی

53. عمر بن مطاع الجعفی۔

54. حجاج ابن مسروق المدحجی

55. زہیر ابن قین ابجلی

56. حبیب ابن مظاہر الاسدی

57. ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی

58. انیس بن معقل الاصبحی

59. جابر ان عروۃ الغفاری

60. سالم مولی عامر العبدی

61. جنادہ ابن کعب الخزرجی

62.عمر بن جنادۃ الانصاری

63. جنادہ بن الحرث السلمانی

64. عابس ابن شبیب الشاکری

65. شوذب ابن عبداللہ الہمدانی

66. عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری

67.حرث ابن امرو القیس الکندی

68. یزید ابن زیاد الہدلی

69. ابو عمرو النہثلی

70. جندب بن حجیر الخولانی الکندی

71. سلمان بن مضارب الانماری

72. مالک ابن عبداللہ الجابری

آپ کا مقصدِ وحید اُمت کو ضلالت و گمراہی کے گڑھے سے نکالنا اور نجات دلانے کے لئے رشدو ہدایت سے نوازنا تھا۔ آپ نے اس لیے قیام فرمایا، تاکہ اُمتِ مسلمہ کی اصلاح کرکے امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں اور اللہ کی حاکمیت کا بول بالا ہو،چناں چہ بحار الانوار میں امام عالی مقام ؓ کا مقصدِ قیام اس طرح مذکور ہے کہ میں ظلم و زیادتی ،فساد و تفریق پیدا کرنے کے لئے نہیں، بلکہ نانا ؐکی امت کی اصلاح ،معروف کا حکم دینے اور منکرات سے روکنے کے لئے قیام کررہا ہوں۔ آپ کا مقصدِ حیات نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اقوام عالم کے مابین زندگی کو رواج دینا تھا، یہی وجہ ہے کہ بشریت آپ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟