باجوہ ڈاکٹرائن کی مجموعی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ

تحریر و تحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی

 ڈاکٹرائن باجوہ کی ناکامی اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ ۔۔۔۔ ا

ز راہ قلم ۔۔۔ رانا آصف  

ہمیشہ سے ہی نرگسیت اور بے عملی کے شکار پاکستان کے معاشرے نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ ہر دور کے قومی قسمت بدلنے کے کھوکھلے نعرے، سیاسی جمالیات اور شخصیت پرستی نے اسے لیڈر اور لیڈرشپ کے تقاضوں سے بے بہرہ کردیا ہے ۔ سیاسی معاملات ، عوامی مسائل کو چھو منتر سے حل کرنے ،پرا من معاشرہ اور صاف شفاف ایڈمنسٹریشن 1947 سے ہی اس قوم کا خواب رہا ہے ۔ مختلف ادوار میں تحفے کے طور پر اسے مختلف سلوگن دئے گئے جیسا کہ ۔۔۔ 

  • جمہوریت نہیں جدت ۔۔۔
  • روٹی ،کپڑا اور مکان ۔۔۔
  • نظام مصطفیٰ کا نفاذ ۔۔۔
  • قرض اتارو ،ملک سنوارو ۔۔۔
  • سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔۔
  • اور پھر نیا پاکستان ۔۔۔۔

مداری نے اپنی پٹاری سے کون کون سے کبوتر نکال کر اس بدقسمت قوم کو نہیں دکھائے اور اس قوم نے شوق سے نہیں دیکھے ۔ اور جس کا شاخسانہ یہ قوم مہنگائی ، غربت، منصوبہ بندی کا فقدان ، انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی اور سب سے بڑا نقصان ۔۔۔ اس قوم نے Hope یعنی امید کرنا یا لگانا ہی کھو دیا ہے ۔

آج کے کالم میں ہم باجوہ ڈاکٹرائن اور پراجیکٹ عمران خان کا تنقیدی جائزہ لیں گے ۔ویسے یہ قوم ڈاکٹرائن پیش کرنے والوں سے بڑی خود کفیل ہے۔ اب ایک نیا ڈاکٹرائن عاصم منیر آیا ہی چاہتا ہے ۔بس ذرا اس کا سلوگن عیاں ہو جائے تو اس کا کتھارسس بھی کریں گے ۔

باجوہ ڈاکٹرائن کے بنیادی خدو خال 

باجوہ ڈاکٹرائن بنیادی طور پہ ن ایجنڈا پوائنٹ پہ مشتمل رہا 

1- ہائیبرڈ رجیم یعنی شئیرنگ ایڈمنسٹریشن کا تجربہ۔

2-ایڈمنسٹریشن میں چہرہ عوامی و جمہوری مگر پالیسی وہی منتخب اور روائیتی عسکری۔۔

3- پرانی سیاسی قیادت کو سیاسی منظر نامے سے ہٹا کر اپنی مرضی کی سیاسی قیادت لیکر آنا ۔۔۔

4- پاکستان کے جغرافیائی اعتبار سے تعلقات کی ترتیب نو اور وضاحت ۔۔۔

5- بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کچھ مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل ۔۔۔

6- پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے کلیم، سیاسی اور تزویراتی گہرائی کو نئی شکل دینا 

موجودہ زمانے میں اب فاشزم کی اصطلاح کو وسیع معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح اب ان آمروں کے بارے میں بھی استعمال ہوتی ہے جنہوں نے تمام اختیارات کو اپنی ذات میں جمع کر کے فوجی طاقت اور خوف کے ذریعے لوگوں پر حکومت کرتے ہیں۔

خاص طور سے جب ایشیا اور افریقہ کے ملک آزاد ہوئے تو ان کے راہنماوں نے جمہوریت کے بجائے آمرانہ طرز حکومت کو اختیار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک یہ تمام ملک بحرانوں کا شکار ہیں اور ان کے عوام غربت اور مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی فوجی آمروں کی وجہ سے جمہوری روایات فروغ نہیں پا سکیں ۔پاکستان میں نیا طریقہ واردات اختیار کیا گیا کہ ہے پبلک سلیبریٹیز کو لیڈر بنا کر پیش کیا جائے اور پھر اس کی پبلک امیجنگ کے ذریعے قد کاٹھ بڑھاکر مصنوعی لیڈر شپ بنائی جائے جس کا چہرہ تو عوامی اور جمہوری ہو مگر پالیسیز آمرانہ نہ چلیں ۔ اس کے لیے یہاں ایک نرگسیت کے شکار اور اقتدار کے رسیا عمران خان کا انتخاب کیا گیا ۔جوکہ کچھ فوجی جنرلز کا ایڈونچر ازم بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب جب پاکستان کی معیشی حالت کی ڈگر بہتر ہوئی تو انہوں نے نئے تجربات اس قوم کے ساتھ کئے۔ کوئی آمر ایسا نہیں ہوا جو اپنی ذات سے بلند ہو کر معاشرے کی اصلاح کرے جیسا کہ ترکی میں مصطفی کمال نے کیا تھا یا جو مہاتیر محمد نے ملائیشیا میں کیا اور لی کوان یو نے سنگاپور میں اور اسی طرح ڈکٹیٹر شپ کے یونیورسل لوور عمران خان نے کیا ۔۔۔۔

اسلام آباد کے بدلتے موسموں کو قریب سے سمجھنے والے شاید کئی غلطیاں نکال لیں لیکن مجھے تو باجوہ ڈاکٹرائن میں صرف ایک سقم نظر آیا اور نہیں یہ وہ غلطی نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔

عمران خان جنرل باجوہ کی یا ان کے زیر کمان ادارے کی غلطی نہیں ہیں۔ وہ ہماری 75 سالہ اجتماعی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ غلطی صرف اتنی ہے کہ اگر کسی فوج کے پاس جنگ کا کوئی منصوبہ ہوتا ہے، آنے والے سالوں کے لیے کوئی روڈ میپ ہوتا ہے تو عام طور پر اسے خفیہ رکھا جاتا ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

لیکن یہ کیسی ڈاکٹرائن تھی کہ جو میرے محترم صحافی سہیل وڑائچ سے لے کر میرے محلے کے ہر لونڈے کو پتہ تھی۔ پاکستان کے مستقبل قریب کے لیے بنائے گئے منصوبے کو زبان زدعام کرنا ہی شاید سب سے بڑی غلطی تھی۔ شاید اسی وجہ سے آئی ایس پی آر کے بنائے ہوئے گیت اب گالیوں میں بدل گئے ہیں۔

دشمن کے جن بچوں کو پڑھایا تھا اب وہ پڑھ لکھ کر استاد کے گلے پڑ رہے ہیں، فوٹو شاپ کی تربیت اب ادارے کے خلاف ہی استعمال ہو رہی ہے اور ففتھ جنریشن وار اب سوشل میڈیا کی گوریلا جنگ میں بدل گئی ہے۔ کبھی کبھی جو گڑھے کسی کے لیے کھودے جاتے ہیں اس میں خود ہی گرنا پڑتا ہے ۔

جو باجوہ ڈاکٹرائن ہم تک پہنچی تھی اس کا فلسفیانہ حصہ تو سر سے گزر گیا لیکن یہ علم تھا کہ چھ سال تک جنرل باجوہ رہیں گے۔ جب ان کی نوٹیفیکشن کے وقت بکنے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تو سر باجوہ نے خود ہی بٹھا کر اپنی ایکسٹینشن کا حکم نامہ لکھوا لیا۔ اس ڈاکٹرائن میں انھوں نے اپنا ولی عہد بھی نامزد کر دیا تھا۔

اس ولی عہد نے کمان سنبھال کر یہ بات یقینی بنانی تھی کہ عمران خان آئندہ آنے والا الیکشن بھی جیتیں۔ یہ ڈاکٹرائن پورے ملک کو پتہ تھی اور تحریک انصاف والوں کو یہ اپنے نصیب کا لکھا لگتا تھا۔

ان کے ساتھ یہ ہوا کہ جیسے ابو نے عید پر نیا موبائل فون لے کر دینے کا وعدہ کیا ہو اور عید کے دن وہ پرانا بھی ضبط کر کے کہیں کہ تم اس پر صرف نازیبا ویڈیوز دیکھتے ہو، میں نے تو تمھیں پڑھائی کے لیے لے کر دیا ہے۔

ہم جمہوریت پسند ٹائپ جمہوریت کے حسن کی تو بہت بات کرتے ہیں لیکن ادارے کے حسن کی بات نہیں کرتے۔ ادارے میں صلاحیت ہے کہ وہ اپنی غلطی مانے نہ مانے لیکن تھوڑا راستہ بدل کر آگے چل پڑتا ہے۔ سنہ 1972 میں ادارہ شکست خوردہ تھا اور پانچ سال بعد ہی ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی لگا کر ہمیں نظام مصطفیٰ کے فوائد بتا رہا تھا۔

پی ٹی آئی کے جو سیاسی کارکن فوج میں اپنی پسند کی کمان چاہتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ فوج میں ترقیاں صرف میرٹ پر ہوتی ہیں۔

شہباز شریف اپنے بیٹے کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ لگا رہے تھے۔ شاید شاہد خاقان اور سعد رفیق جیسے منھ پھٹ بھی بیعت کر لیتے۔ جنرل باجوہ اپنے کسی بھانجے یا بھتیجے کو کورکمانڈر لگوانے کی کوشش کریں تو کیا ہو گا؟

ادارے کی سوچ اتنے آگے کی ہے کہ کسی جنرل کا بیٹا یا بھانجا آپ کو فوج میں ملے گا ہی نہیں۔ تو باجوہ ڈاکٹرائن میں واحد غلطی یہ تھی کہ جنرل باجوہ نے اپنا ولی عہد نامزد کر دیا، یا ولی عہد نے قوم کو یقین دلوا دیا کہ سپہ سالاری میرے نام لکھی جا چکی ہے۔

ایسے ماحول میں باقی درجنوں جنرل جو میرٹ پر اوپر آئے ہیں اس لیے نہیں کہ کسی شریف، کسی چوہدری، کسی بھٹو نے ان کی سفارش کی تھی۔ وہ ولی عہد کی نامزدگی کیوں مان لیں؟

کیا انھوں نے 30 سال تک محنت اس لیے کی ہے کہ سلیوٹ ماریں اور پھر اپنے حصے کے پلاٹ لے کر گھر بیٹھ جائیں۔

مغلوں سے بھی پہلے کی رسم ہے کہ بادشاہ جیسے ہی ولی عہد نامزد کرتا تھا تو اس کے خلاف محلاتی سازشیں شروع ہو جاتی تھیں۔ اگر چھوٹی عمر کا ہوتا تو اس کے دودھ میں زہر ملانے کی کوشش ہوتی تھی۔ بالغ ہوتا تو اس کا جام بھرنے والے پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

لیکن نہ ہمارا ادارہ بادشاہت ہے نہ جنرل فیض حمید کوئی مغل شہزادہ کہ باقی بھائیوں کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائی پھیر کر حج پر بھیج دیں۔ نہ ہی وہ کوئی پرنس محمد بن سلمان ہیں جو ابا کو کہے اب آپ آرام کریں میں اپنی بادشاہت کے لیے آپ کے انتقال پرملال کا انتظار کب تک کروں۔

تو چاہے آپ آئی ایس پی آر کے گیت گائیں یا گالیاں دے لیں، ایک دوسرے کو بوٹ پالشیا کہہ لیں یا بچوں کی طرح مچل جائیں کہ مجھے تو وہ والا سپہ سالار ہی چاہیے۔ ادارے کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بوٹ کم، پالش زیادہ اور پالش کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

اسلام آباد کی ایک حسین لیکن سازشوں اور سرگوشیوں سے بھری شام عمران خان کو احساس ہوا تھا کہ حالانکہ انہیں چاہنے والے کپتان کپتان کہتے ہیں لیکن اب ان کی ترقی ہو چکی ہے، وہ جنرل بن چکے ہیں، چار ستاروں والے جنرل، جن کو جب کوئی آئین، قانون پسند نہیں آتا تو وہ اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔

جنرل مشرف اور اس سے پہلے جنرل ضیا آئین کو کاغذ کا ٹکڑا اور کبھی چیتھڑا کہہ چکے ہیں اور انھوں نے آئین کے ساتھ سلوک بھی ایسا ہی کیا تھا۔

عمران خان نے عدم اعتماد کے بعد اپنی صفوں کی گنتی کی، اپنے روٹھے ہوئے ارکان کو لعن طعن کی لیکن جب لگا کہ گنتی کی جنگ نہیں جیت پائیں گے تو وہی کیا جو ہمارے جنرل حضرات کرتے آئے ہیں۔ کرکٹ کے استعاروں میں بات کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ اس لونڈے کی طرح ہیں جو گلی میں میچ ہارتا دیکھ کر یا وکٹیں چرا کر بھاگ جاتا ہے یا اپنی باری لے کر یہ کہتا ہوا بیٹ لے کر گھر چلا جاتا ہے کہ امی بلا رہی ہیں۔

عمران خان نے ایسا کچھ نہیں کیا، انہوں نے وہی کیا ہے جو ضیا اور مشرف جیسے جی دار جنرل ان سے پہلے کر چکے ہیں۔ ایسی ایک شام کو جب ذرا غصہ آیا آئین کی چیتھڑے کیے، ردی کی ٹوکری میں پھینکا اور پھر ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا کہ کر لو کیا کرنا ہے؟ عدالت جاؤ گے اور اس کے بعد مجید امجد والا شعر ۔۔۔۔ !!!

  • رہ گیا گونجتا خلاؤں میں
  • وقت کا ایک قہقہ تنہا

ہمارے عمران مخالف تجزیہ نگار خان صاحب کی سیاست، اخلاقیات یا اقتدار کی بھوک کے بارے میں جتنی سینہ کوبی چاہے کر لیں، آخری لمحے تک کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ وہ یہ کر گزریں گے۔ ہماری سیاسی تاریخ ہی ایسی ہے کہ ہم فوجی طالع آزماؤں سے کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں، یعنی وہ بھٹو کو پھانسی چڑھا سکتے ہیں، بغیر کسی کو بتائے اپنے ہوائی اڈے دوسرے ملک کو دے سکتے ہیں۔

عمران خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلا کُو کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے ، بلکہ عمرا ن خان عمران خان سے بھی نہیں ڈرتے۔

اگر عمران خان نے اپنے آپ کو کپتان سے جنرل کے عہدے پر ترقی دے لی ہے تو اصلی تے وڈے جنرل کیا سوچتے ہوں گے؟

ہمارے فوجی جنرلوں کو سویلین وزیراعظم کبھی بھی اچھے نہیں لگے۔ دل پر پتھر رکھ کر سلیوٹ کر دیتے ہیں لیکن اندر سے یہی سمجھتے ہیں کہ یہ سب یا تو کرپٹ ہیں یا مغرور اور یہ ملک تو کوئی کرنل بھی چلا سکتا ہے۔ ان کی نظر میں بھٹو بہت بڑ بولا تھا، بے نظیر عورت تھی، نواز شریف لوہار کا بیٹا تھا، باقی رہے جو نیجو، گیلانی، شاہد خاقان عباسی یہ تو طاقتور سیاستدانوں کے کمی کمین تھے۔

عمران خان کی شکل میں ان کو ایک آئیڈیل امیدوار مل گیا۔ ہمارے فوج کی اعلیٰ قیادت کو ہمیشہ سے ایک گورا کمپلیکس رہا ہے کہ خاص طور پر امریکی اور یورپی گورے ہم سے کام بھی لیتے ہیں اور پھر ہمیں ذلیل بھی کرتے ہیں۔

کبھی اسلحہ دیتے ہیں کبھی روک لیتے ہیں، کبھی اپنا بھائی بنا لیتے ہیں پھر دہشت گردوں کا ساتھی ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ گورے ان کے ساتھ وہی کرتے آئے ہیں جو عمران خان جوانی سے گورے اور گوریوں کے ساتھ کرتا آیا ہے۔ ایک ایسا وزیراعظم جو کسی کمانڈو میجر جتنا فٹ ہو، فلم سٹارز کی طرح حسین ہو، اور گوروں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بتا سکتا ہو کہ میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔

عمران خان ان کی توقعات پر پورا اترے اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ تم مجھے مروانا چاہتے ہوں۔ اب عسکری قیادت یا تو ان کی اس حرکت پر عش عش کر اٹھی ہو گی یا نظریں چرا رہی ہو گی۔

سازشی ذہنوں والے یہ بھی کہتے ہیں کہ دونوں طرح کی قیادت موجود ہے۔ بلکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو نظریں بھی چرا رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس خود ساختہ کپتان سے جنرل بنے عمران خان نے وہ کر دکھایا جو اصلی جنرل بھی کبھی نہ کر سکے۔

مگر مسلہ یہ ہوگیا تھا کہ آج کا پاکستان کا جوان کپتان سے چاہتا تھا کہ آندھی آئے یا طوفان کپتان ڈٹ کر کھڑا رہے، کپتان ڈٹ کر کھڑا ہے۔

آس پاس سے آنے والے ’آسان باش‘ کے مشورے بھی نہیں سن رہا۔ نوجوان چاہتا تھا کہ چوروں لٹیروں یعنی سارے سیاستدانوں کو جیل میں بند کر کے تالے کی چابی کسی گندے نالے میں پھینک دے۔

تو اپوزیشن والے سیاستدان یا تو جیل میں ہیں یا بستر باندھ کر جیل جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک آدھ اگر جیل سے سرنگ لگا کر لندن بھاگ گیا تو اس میں کپتان کا کوئی قصور نہیں۔

کیا کپتان نے اپنے ہاتھوں سے جیل کا تالا کھولا تھا؟

غلامی کی زنجیریں توڑنے کے اس موسم میں جب کپتان نے اعلان کیا کہ وہ ربیع الاوّل کے مبارک دنوں میں نوجوانوں کو خوش خبری دیں گے تو پاکستان کا جوان سمجھا کہ عمران خان نے ’جوانوں کو پیروں کا استاد کر‘ والی جو نئی سیاست شروع کی تھی اس کا اصلی آغاز اب ہوا چاہتا ہے۔

تو مجھے وہ مصرعہ بھی یاد آ گیا جو کراچی میں ایم کیو ایم کے زمانے کے ستائے ہوئے ہمارے بزرگ دوست گنگناتے ہیں: ’تمہارا وقت آیا ہے، ہمارا دور آئے گا۔‘

تو خان صاحب کے اعلان کے بعد پاکستان کے جوانوں کے دلوں میں خوابوں اور خواہشوں کا ایک سیلاب تھا لیکن ہمارا نوجوان چاہے پسماندہ علاقے میں رہتا ہو، انٹرنیٹ تک رسائی اور سمارٹ فون کی وجہ سے خواب ہائی ڈیفینیشن میں ہی دیکھتا ہے۔

اس کے محلے میں بجلی گیس آئے نہ آئے، اسے بٹ کوائن کے بڑھتے دام اور ایلون مسک نے چاند گاڑی کیسے بنوائی، ان سب باتوں کا علم ہے۔

تو کپتان سے اُمید تھی کہ وہ نوجوانوں کو کروڑوں نوکریاں نہیں دے سکا تو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب ضرور دے گا۔

اب حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دوست روزانہ اٹک جیل میں عمران خان کو نیلسن منڈیلا ثابت کرکے، جیل میں کئی کتابیں پڑھا کے،انکو رہا کرواکر، جنرل عاصم منیر اور ندیم انجم میں اختلاف پیدا کروا کر،ندیم انجم اور فیصل نصیر کی لڑائی کرواکر اور پھر عمران خان کو دنیا کا سب سے مقبول ثابت کرکے دوبارہ وزیراعظم بنوا کر سوتے ہیں۔

‏کچھ بے لوث عمرانی لوررز کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان صاحب کو جیل میں بند کر دیا تو نیلسن منڈیلا بن جائیں گے، وہ پوچھنا یہ تھا کہ خان صاحب منڈیلا بن گئے ہیں یا ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے؟؟؟

احباب سے رہنمائی درکار ہے. 

🤔 🤔 🤔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟