Posts

اے پلس اسائنمنٹ بنانے کے لیے چند مفید مشورے اور بنیادی اصول

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی اے پلس اسائنمنٹ بنانے کے لیے چند مفید باتیں اور ٹپس پیش لفظ تحریری اسائنمنٹس تعلیم کے حصول کا لازمی حصہ ہیں اور اس میں مہارت کے لئے ہائی اسکول اور کالج میں اساتذہ کی جانب سے طلبا کو کافی مشقیں بھی کروائی جاتی ہیں۔ ہر طرح کے مضمون کی تیاری اور امتحانات کا مقصد طلبا کی مختلف مہارتوں کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ ایک دلیل والا مضمون آپ کو دلائل دینا سکھاتا ہے اور ایک وضاحتی مضمون آپ کے خیالات کو شکل دینے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے جبکہ حقائق سے متعلق مخصوص اسائنمنٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ نے کسی مضمون کو کتنی اچھی طرح سیکھا ہے۔ آپ کسی مضمون میں تحریری اور علمی مہارت حاصل کرنا اور اپنے اسائنمنٹس میںاچھے نمبر لینا چاہتے ہیں تو ذیل میں درج مشوروں پر عمل کریں۔ اے پلس اسائنمنٹ بنانے کے لیے چند مفید باتیں اور ٹپس اسائنمنٹ کی تیاری اسکول میں ملنے والے ہوم ورک کی ایک شکل ہےمگر اسائنمنٹ کا لفظ زیادہ تر کالج اور یونیورسٹی لائف میں سننے میں آتا ہے۔جو طالب علم اسائنمنٹ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں، ان کے لیےیہ مہارت نہ صرف اچھے گریڈز کی ضمانت ...

نسل نو کی تعلیم و تربیت کے ساتھ معقول طرزِفکرکا حامل ہوناضروری ہے۔

Image
  تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی علم معاشرے میں انسان کی شناخت کو مکمل کرتا ہے، تدبر، آگہی اور تشخص کی علامت ہے. اکیسویں صدی میں ہم نے اپنی نوجوان نسل کی علمی و فکری اور نظریاتی تربیت کس طرح کرنی ہے؟ اس حوالے سے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی فکر اور سوچ بہت اہم ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس قوم کی تعمیر کا راستہ صرف اقبال ہی کا راستہ ہے۔ ہمارے پاس تعمیرِ زندگی، حالات کو سمجھنے اور بطورِ تہذیب اپنے آپ کو آگے لے کر چلنے کی فکرِ اقبال کے علاوہ کوئی ایسی سبیل موجود نہیں ہے جہاں ہمیں ہمارے سوالات کا جواب ملتا ہو اور مسائل کا ایک قابلِ فہم حل میسر آسکے۔ اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ آنے والے دور یعنی مستقبل میں ہمارا کوئی بامعنی و بامقصد کردار ہو تو ہمیں نسلِ نو کی تربیت کے ذریعے نسلِ نو کے شعور میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنی ہے۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ ہم نے انہیں مقصدیت سے آشنا کرنا ہے اور انہیں ان کے منصب کا احساس دلانا ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں کرلیتے اس وقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوگا اور ہم جو کچھ بھی کرتے چلے جائیں وہ سارے کا سارا Cosmetics اور Ritual کی حد تک رہ جائ...

اساتذہ کرام کلاس میں تخلیقی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دیں ؟

Image
  تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی اساتذہ کرام کلاس میں تخلیقی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دیں؟ ہمارا ذہن خیالات بنانے کی مشین ہے جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے۔ ہم کچھ نہ کچھ سوچتے ہی رہتے ہیں، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی۔ مثبت سوچ کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے۔ کامیاب زندگی، مثبت سوچوں اور رویوں جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں اور رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر سوچ سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے ۔ تعلیم و تربیت کا فلسفہ   تعلیم کا بنیادی مقصد خودی کی تلاش اوربازیافت ہے۔ملک و قوم اور دنیا کا مستقبل نئی نسل کی تخلیقی و ذہنی نشوو نما کے رہین منت ہے۔طلبہ کے پوشیدہ جو ہر کو دریافت کرنا اور ان کو نکھار کر ملکی و قومی تعمیر کے لئے بامعنی بنانا ابتدائے آفرینش سے ہر استاد کا شیوہ و شعار رہا ہے۔ندرت ،تخلیقیت اور انفرادیت طلبہ کی شخصیت سازی میں سنگ میل ک...

طلباء وطالبات میں مثبت سوچ کا فروغ اور احیاء کیسے ممکن ہے؟

Image
  تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی پیش لفظ انسانی ذہن پر ہر لمحہ سوچوں کا غلبہ رہتا ہے یا یہ کہنا  مناسب ہو گا کہ انسان کی زندگی کا ہر زاویہ اس کی سوچ ہی سے جنم لیتا ہے ۔ اسی سوچ سے انسانی جذبات کی پرورش ہوتی ہے اور انہی کی بنیاد پر انسان کا عمل شروع ہوتا ہے۔ انسانی ذہن کا زاویہ فکر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک مثبت اور دوسرا منفی ۔ مثبت سوچ اور طرزِ فکر صحت مند اور کامیاب زندگی کے راستے دکھاتا ہے اور منفی سوچ  ناکامی کی مہیب وادیوں میں دھکیل دیتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ مثبت سوچ فرد کی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثبت سوچ سے انسان کے اندر مثبت رویہ جنم لیتا ہے اور اس کی صحت پر بھی اس کے نمایاں اثرات  مرتب ہوتے ہیں۔ منفی سوچ منفی رویوں کا سبب بنتی ہے جو انسانی صحت اور جسم کوگْھن کی طرح کھوکھلا کر دیتے ہیں اور اس کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے ۔ انسانی زندگی میں سوچ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم  نے اپنی سوچ کو بدلنے کا فن سیکھ لیا تو گویا ہم نے زندگی بدلنے کا ہنر سیکھ لیا ۔ ماہرین نف...

طلباء وطالبات متاثر کن کلاس پریزینٹیشن کیسے تیار کریں ؟

Image
  تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی بہترین کلاس پریزنٹیشن کے لیے تیاری کیسے کریں؟ عمومی طور پر اچھی پریزنٹیشن میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مواد کو حاضرین کے سامنے پیش کرنے کے لیے آپ نے کمپیوٹر اور دیگر جدید ایپس کا کس قدر مؤثر استعمال کیا ہے۔ ہرچندکہ پریزنٹیشن کے مواد کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن آج کے آرٹیکل میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ پریزنٹیشن دینے کے لیے آپ کی اپنی شخصی تیاری کیسی ہونی چاہیے اور آپ اپنی بات کس طرح اپنے حاضرین تک مؤثر انداز میں پہنچا سکتے ہیں، کیوں کہ بہرحال اسکرین پر دِکھائی جانے والی سلائیڈز اس وقت ہی پُراثر ثابت ہوسکتی ہیں، جب آپ نے مضمون کے بارے میں ٹھیک تیاری کی ہوئی ہو اور یہ جانتے ہوں کہ آپ نے اسے کس طرح پیش کرنا ہے۔ دوران پریزنٹیشن اگر آپ سامعین کے سامنےاپنے مقصد کی وضاحت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو مطلوبہ ردعمل بھی آپ کے لیےجاننا آسان ہوجائے گا۔مقصد کی وضاحت کے لیے سامعین کی شناخت کرلیں،غیر ضروری گفتگو سے بچیں ،واضح اور براہ راست طورپر گفتگو کرنے کے لیےپیشہ ورانہ انداز اپنائیں۔ یہ سوچنے کے بجائے کہ لوگ آپ کو د...

آ زادی کا مفہوم اور پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کا پس منظر

Image
  تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی مقدمہ و پس منظر آج اس یوم یکجہتی کشمیر پر ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے لیے اپنی بے لوث محبت و حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ کہ جو بحیثیت قوم انہوں نے اپنی جرت و بہادری, عزم صمیم اور منصفانہ جدوجہد سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ اور اہل کشمیر کی یہ پر عزم جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ جبر کی کوئی بھی سطح اور قسم کشمیری قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ بحیثیت پاکستانی ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ کشمیری قوم غیر قانونی تسلط اور بھارتی جبر سے آزادی حاصل کرنے کی اپنی دلیرانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہونگے۔ آزادی کا مفہوم اور اہمیت قوموں کی تاریخ میں آزادی کا دن بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔زندہ قومیں یہ دن عزم،ولولے اور جوش کے ساتھ مناتی ہیں۔باوقار قومیں اس دن اپنے لیے نصب العین اور مقاصد کا تعین کرتی ہیں۔منزل کے حصول کے لیے راہِ عمل متعین کی جاتی ہے اور ماضی کے تجربات اور اقدامات کا محاسبہ بھی کیا جاتا ہے۔ آزادی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ قوم کے افراد اپنے افکار،نظریات اور فلسفے کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔قوموں کے افکار اور نظریات صدیوں کے سفر کے بعد متعین ہوتے ہیں۔یہی ...

"مزاح نگاری" ذاتی مشاہدے کا خوش کن ذریعہ اظہار ہے

Image
تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی مزاح نگاری ُ مزاح نگاری ایک خوش کن ہنر ، ایک آرٹ اور خوشگواری محسوسات کے اظہار کا بہترین اسلوب ہے۔اور اردو ادب میں طنز و مزاح کو عموماً یکساں معنوں میں لیا اور ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے،  طنز اور مزاح میں بڑا بنیادی اور واضح  فرق ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی حدودو قیود  ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر ایک دوسرے کے متوازی بھی چل رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ایسے ملی ہوتی ہیں کہ ان کو الگ کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ طنز سے مراد طعنہ، ٹھٹھہ، تمسخر یا رمز کے ساتھ بات کرنا ہے جب کہ مزاح سے خوش طبعی، مذاق یا ظرافت مراد لیا جاتا ہے۔   بقول ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: عام طور پر ’’طنز‘‘ اور ’’مزاح ‘‘ کے الفاظ کو ملا کر بطور ایک مرکب کے استعمال کیا جاتا ہے مگر یہ دو مختلف المعانی الفاظ ہیں۔ مزاح کے لفظی معنی ہنسی مذاق، جب کہ طنز کے معنی طعنہ یا چھیڑ کے ہیں ۔ ‘‘ مزاح زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے، جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے۔‘‘ مزاح کی اس تعریف کے مطابق ایک مزاح نگار زندگی میں موجود ناہمواریوں کو نہ صرف محسوس کرت...