آ زادی کا مفہوم اور پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کا پس منظر

 تحریر و آئیڈیا

رانا آصف شہزاد علی


مقدمہ و پس منظر

آج اس یوم یکجہتی کشمیر پر ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے لیے اپنی بے لوث محبت و حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ کہ جو بحیثیت قوم انہوں نے اپنی جرت و بہادری, عزم صمیم اور منصفانہ جدوجہد سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ اور اہل کشمیر کی یہ پر عزم جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ جبر کی کوئی بھی سطح اور قسم کشمیری قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

بحیثیت پاکستانی ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ کشمیری قوم غیر قانونی تسلط اور بھارتی جبر سے آزادی حاصل کرنے کی اپنی دلیرانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہونگے۔


آزادی کا مفہوم اور اہمیت

قوموں کی تاریخ میں آزادی کا دن بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔زندہ قومیں یہ دن عزم،ولولے اور جوش کے ساتھ مناتی ہیں۔باوقار قومیں اس دن اپنے لیے نصب العین اور مقاصد کا تعین کرتی ہیں۔منزل کے حصول کے لیے راہِ عمل متعین کی جاتی ہے اور ماضی کے تجربات اور اقدامات کا محاسبہ بھی کیا جاتا ہے۔

آزادی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ قوم کے افراد اپنے افکار،نظریات اور فلسفے کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔قوموں کے افکار اور نظریات صدیوں کے سفر کے بعد متعین ہوتے ہیں۔یہی افکار ان کے تہذیبی ورثے کی بھی آئینہ داری کرتے ہیں۔آزادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افراد اپنے اس تہذیبی ورثے کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کے ارتقاء میں معاون ہوں اور ان مزاہم قوتوں کا بھی قلع قمع کریں جو اس ورثے کوتباہ کرنے پر آمادہ ہوں۔آزادی بالعموم تاریخی،سماجی،معاشی اور تہذیبی عوامل کے تحفظ اور بقا کا نام ہوتی ہے۔

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی پس منظر

آج دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے مظلوم باشندوں پر بھارتی جابرانہ تسلط کے خلاف دنیا بھر میں آباد کشمیری آواز بلند کر رہے ہیں۔کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار‘احتجاجی مظاہروں‘جلوسوں ‘سیمیناروں اور دیگر تقریبات میں کیا جا رہا ہے۔کشمیری باشندوں سے اظہار یکجہتی کے لئے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائے جائے گی۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا احترام کرنے کا بیان جاری کیا ہے۔ بھارت نے اپنے حامی کشمیری رہنماوں کی مدد سے کئی بار کشمیریوں کو دھوکہ دیا ۔تاریخی طور پر شیخ عبداللہ اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان 1975ء میں ایک معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے نتیجے میں شیخ عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر کی وزارت اعلیٰ کا منصب قبول کیا اور بھارت سے آزادی کے طلبگار کشمیری باشندوں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔بعدازاں اس دن کی تاریخ 5فروری کر دی گئی۔1990ء کے عشرے میں اہل کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہونے لگے۔عالمی طاقتوں کی دلچسپی سرد جنگ اور اس کے بعد اپنے مفادات کو محفوظ بنانے تک محدود تھی۔بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات بحال تھے‘باہمی تنازعات پر مذاکرات بھی کبھی کبھار ہو جاتے لیکن اصل صورت حال تبدیل نہ ہوتی۔کشمیری باشندوں نے تنازع کو طے کرنے کی عالمی کوششوں کو ناکافی قرار دے کر مسلح مزاحمت کا فیصلہ کیا۔اس مزاحمت کے نتیجے میں بھارتی فورسز سے تصادم کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔بھارت نے حریت پسندوں کو باغی اور دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنا شروع کر دیا۔پاکستان کے لئے یہ صورت حال ناقابل قبول تھی۔کشمیریوں کے وکیل اور بھائی کی حیثیت سے یکجہتی کا اعلان کیا گیا۔تنازع کشمیر عالمی نظام انصاف اور انٹرنیشنل سسٹم کے لئے ایک ناکام مثال کا درجہ رکھتا ہے۔جن حالات میں کشمیر پر بھارت نے قبضہ کیا اسے کسی عالمی اصول کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔بھارت نے ایسے وقت کشمیر میں فوج داخل کی جب مہاراجہ کشمیر نے نام نہاد الحاق نامے پر دستخط نہ کئے تھے۔یہ معاہدہ قبضہ کرنے کے بعد تب ہوا جب مہاراجہ کے پاس کوئی دوسرا انتخاب نہیں تھا۔برصغیر کی تقسیم کے لئے انگریز حکومت نے جو اصول طے کیا تھا وہ خود مختار ریاستوں سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق پر زور دیتا تھا۔اگر کوئی تیسرا راستہ ہوتا تو ریاست فرید کوٹ کو مرکز بنا کر اردگرد کی سکھ ریاستوں پر مشتمل سکھستان بنانے کا مطالبہ بھی مان لیا جاتا۔بھارت نے کشمیری باشندوں کی مرضی کے بنا ان پر اپنا جبر مسلط کر دیا۔اس جبر نے مزاحمت کو جنم دیا اور دونوں نو آزاد ریاستوں کے مابین جنگ کا آغاز ہو گیا۔حریت پسندوں نے بھارت کے قبضے سے ایک بڑا علاقہ آزاد کرا لیا ۔

آزاد کشمیر اب تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے۔بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ گئے اور سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی درخواست گزاری۔سلامتی کونسل کے روبرو بھارتی وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ حریت پسند اور پاکستان فائر بند کر دیں تو وہ استصواب رائے کے لئے تیار ہیں۔چونکہ کشمیری عوام کی اکثریتی آبادی پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہاں تھی اس لئے پاکستان کو یہ شرط تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نظر نہ آئی۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب استصواب رائے کے وعدے سمیت بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے فرار ہوتا رہا۔بی جے پی کا اقتدار میں آنا مسلمانوں کی سیاسی مشکلات کے ساتھ سماجی اعتبار سے بھی آزمائش کا سبب بنا ہے۔بی جے پی کی سیاست مسلمانوں سے نفرت اور انہیں دبانے کے گرد گھومتی ہے۔پورے بھارت میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا دیا گیا ہے۔حکمران جماعت کے اہم رہنما جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس اکثریت کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی کسی قدر مزاحمت ہو رہی ہے۔وزیر اعظم مودی نے 5اگست 2019ء کو بھارتی آئین سے وہ شقیں خارج کرا دیں جو شیخ عبداللہ کے کہنے پر کشمیریوں کے سیاسی اور علاقائی حقوق کا تحفظ کرنے اور ان کو خصوصی درجہ دینے کے لئے شامل کی گئی تھیں۔35اے اور شق 370ختم ہونے کے بعد اب غیر ریاستی افراد کشمیر کا ڈومیسائل بنوا سکیں گے۔یہ لوگ اقوام متحدہ کی جانب سے متنازع قرار دیے گئے علاقے میں زمین خرید رہے ہیں۔بھارت ایک منصوبے کے ذریعے دوسرے علاقوں سے ہندوئوں کو لا کر کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا سکے‘یوں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کا کام ہو رہا ہے۔ کشمیری باشندے 80ہزار جانیں تحریک آزادی کی نذر کر چکے ہیں۔اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے کہ کشمیریوں کو اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے چند ہفتے قبل اپنے بیان میں کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کی تھی۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے اپنی رپورٹوں میں کشمیریوں پر غیر انسانی مظالم کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ان حالات میں عالمی برادری کا خاموش رہنا گویا ایک سفاک اور مجرمانہ طرز عمل ہے جو کسی مظلوم کو ظالم سے بچانے کی جرات نہیں کرتا۔اہل کشمیر کی جدوجہد ہر لحاظ سے قانونی اور جائز ہے۔پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے مطالبہ آزادی کی حمایت کرتی اور عہد کرتی ہے کہ سیاسی و سفارتی سطح پر کشمیریوں کی بھر پور مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔






Comments

  1. Musharaf NY Kashif jatah krva Lia tha. Nawaz Sharif NY ghaddari Kar k afwaj e Pakistan wapis kiu bulvai?

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟