"ایمان،یقین اور اللہ پہ توکل"ذہنی کشمکش اور فرسٹریشن کا ممکنہ حل

 تحریر ۔۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی


ایک متوازن اور خوشحال زندگی گزارنے کے لئے بطور ایک ذی شعور انسان ،میرے کرنے کے کیا کام ہیں ؟

سیانے کہتے ہیں کہ جسے نقصان اٹھانا نہیں آتا ۔۔ اسے نہیں معلوم کہ کہ فایدہ کسے کہتے ہیں ۔اور جو ہار نے کے تجربات سے نہیں گزرا ۔۔۔ وہ جیت کی حقیقی لزت سے کبھی فیضیاب نہیں ہوسکتا ۔۔۔

موجودہ نظام حیات کی حقیقت ریل کی دو پٹڑیوں کی مانند ہے جو ہمیشہ ساتھ ساتھ تو چلتی ہیں مگر ایک دوسرے سے مل نہیں سکتی ۔۔۔۔ اور اگر مل جائیں تو ریل گاڑی کا چلنا ممکن نہیں رہے گا۔

 اختلاف ایک زندہ معاشرے کی علامت اور فطری ہے۔انسانوں کی حیاتیاتی ساخت یکساں ہونے کے باوجود،ان کے فکری اور ذہنی رجحانات یکساں نہیں ہوتے۔ یہی عدم یکسانیت مختلف خیالات کو جنم دیتی ہے۔یہ خیالات نظام ہائے فکر میں ڈھلتے اور نظری تنوع اور ذہنی کشادگی کا سبب بنتے ہیں۔یہی تنوع علم کی دنیا کا جمال ہے۔مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے رسالے ''وحدتِ امت'' میں لکھا ہے کہ ایک معاشرے میں اگر لوگ اختلاف نہیں کرتے تواس کے دو سبب ہو سکتے ہیں ۔ایک یہ کہ سب کے سب غبی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔دوسرا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ سب مفاد پرست ہیں جو اس وجہ سے اختلاف نہیں کرتے کہ کہیں اس کے نتیجے میں کسی مفاد سے محروم نہ کر دیے جائیں۔اگر یہ دو اسباب موجود نہیں تو پھر اختلاف فطری ہے۔ ہاں سوچ بچار اس پہ ہو سکتی ہے کہ اظہار رائے کا طریقہ شائستہ ہوکہ کسی کی دل آزاری کا باعث نہ بنے اور نظرئیے کا اظہار بھی ہو جائے ۔

ہمارا آج کا المیہ یہ ہے کہ اپنی ناآسودہ خواہشات اور ضروریاتِ زندگی کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ جن کو پالینا اور ناممکن ہورہا ہے ۔پیسے کی دوڑ ، زندگی میں اپنے احباب اور سوشل سرکل میں مقابلے بازی اپنی مالی استطاعت سے باہر جاکر فیصلے لینے پہ مجبور کر دیتی ہے اور ناکافی مالی ذرائع ہونے کی وجہ سے ہمارے لوگ ، بچے ذہنی دباؤ اور امراض کا شکار ہورہے ہیں ۔ اب ہر کوئی ذہنی لحاظ سے میچور نہیں ہوتا کہ اس معاملے کو مناسب اور ریشنل انداز میں ہینڈل کر لے ۔

اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ میری محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے یعنی کامیابی و کامرانی کا اپنے کھاتے میں ڈال لیتا ہے اور اس کا کریڈٹ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیتا۔

اور دوسری طرف جب اسے آزماتا ہے اور اس کے رزق میں تنگی کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے آزمائش میں ڈال دیا یا مشکل کو ، غلطی کو اور ناکامی کو قدرت کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے اور اپنی لاپرواہی و غلطی کا اعتراف نہیں کرتا ۔

ہماری آج کی نوجوان نسل اس وجہ سے بھی ذہنی کشمکش کا شکار ہے کہ نامناسب تعلیمی ماحول اور تعمیری سلیبس کا احیاء نہ ہونے سے وی فکری تربیت نہیں ہوپارہی کہ جس کی آج کے بدلتے ہوئے دور کو ضرورت ہے ۔میری نظر میں تغیر و تبدل ہی زندگی کی روانی کا باعث ہے ۔۔۔۔ باقی سب مایا ہے ۔

مقابلے کی دوڑ ، دوسروں پہ سبقت اور آگے نکلنے کی خو نے انسانیت کی قدریں کم کردیں ہیں۔ جو مقابلہ انسان نے اپنے نفس عمارہ سے، شیطان سے اور خرافات سے کرنا تھا وہ ہم نے آپس میں انسانوں کے مابین شروع کروا دیا ۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم زندگی کو صبر ،شکر اور رضائے الٰہی کی بجائے میکانکی انداز میں جینا شروع کردیا ۔

محبت کی فطرت میں ہے اس کو مان  سمان کے ساتھ سب سے بہترین درجے پہ رکھا جائے ۔

مگر ہم کیا کرتے ہیں ؟ 

ہم محبت کا مفہوم ہی غلط سمجھتے ہیں ہم بجاے ایک دوسرے کو سمجھنے  کے دکھ سکھ بانٹنے کے اپنی ذات کو  سمجھانے بیٹھ جاتے ہیں ایسی محبتیں اپنی منطقی انجام پہ نا مراد نظر  آتی ہیں۔

کتھارسس ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنے دبے ہوئے شدید جذبات و احساسات کا کسی صورت میں اظہار کرکے ذہنی سکون، تطہیر اور تجدید حاصل کرتا ہے۔

کتھارسس سے دبے ہوۓ جذبات باہر نکلتے ہیں۔اگر

یہ جذبات دبے رہیں تو یہ غصہ اور بیماریوں کی شکل میں نمودار ہوکر انسان کو پریشان کرتے ہیں۔اس لیے انسانی صحت کے لیے کتھارسس کیوں ضروری ہے۔یہ جاننا از حد ضروری ہے۔

جب انسان اپنے جذبات اور فیلنگز کو کھل کر بیان نہیں کرتا تو سٹریس میں آ جاتا ہے۔اور یہ دبے ہوۓ جذبات ادھوری داستان بن کر لا شعور میں دفن ہو کر اپنے ادھورے پن کا ماتم کرتی رہتی ہے۔

زندگی کو بھرپور جینا سیکھیں۔ خوشی کے موقعوں کو کھل کر سیلیبریٹ کریں۔جب دکھ اور تکلیف محسوس کرتے ہیں تو اس کا اظہار کریں۔ کسی کی بات بری لگی تو اس کو بتایں۔ کسی نے مدد کی تو کھل کر شکریہ ادا کریں۔ کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو کھل کر درخواست کریں۔ اگر کسی میں کوئی اچھائی نظر آتی ہے تو کھل کر تعریف کریں۔

ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے کہ اپنے منفی اور مثبت جذبات کو کھل کر باہر نکلنے کا موقع دیں۔اگر ہنسی آ رہی ہے تو کھل کر ہنسیں اگر رونا آریا ہے تو رو لیں۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو یہ ادھورے جذبات لاشعور میں جا کر اودھم مچائیں گے اور نت نئ بیماریوں کی شکل میں باہر نکلیں گے۔

اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کے کام آئیں۔ان کے دکھ درد سنیں۔انکی مدد کریں۔مالی مدد نہیں کر سکتے تو پڑھا دیں۔یہ بھی نہیں کر سکتے تو چند جملے ہمدردی کے بول دیں۔یہ بھی نہیں کر سکتے تو مسکرا دیں یہ بھی صدقہ ہے۔راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔بے لوث ہو کر جیے اپنے لیے اللہ کے لیے۔

اپنے اللہ، معبود، پالنہار کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کریں، مدد مانگیں شکایات کریں، گفتگو کریں۔ تو کون ہے جو میرے رب کے علاؤہ دعاؤں کو، التجاؤں کو سننے والا ہے ۔۔۔ !!اور اس کے بعد دل صاف کر لیں، جب اللہ کو معاملہ دے دیا تو خود بیچ سے نکل جائیں۔ بے شک میرا رب ہر معاملے کو ٹھیک کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔

اگر آپ کو یہ سب کچھ کرنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے تو کاؤنسلنگ حاصل کریں،کسی بڑے سے، کسی ماہر نفسیات کے سامنے کتھارسس کریں اور اپنے دل اور لا شعور میں سالوں پرانے دبے جذبات،خدشات کا اظہار کر کے اپنی زہنی صحت اچھی کریں اور اپنی صلاحیتیں بحال کر کے کھل کر جینا سیکھیں۔ کیونکہ آپ کے لا شعور میں چھپا ڈپریشن خو د کو تو متاثر کرتا ہی ہے آپ کے ساتھ رہنے والوں پہ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

ہماری آج کی نسل کو فرسٹریشن اور ذہنی دباؤ میں لانے کا سبب ہمارے مزہبی رہنما بھی ہیں کہ جنہوں نے قوم کو عقیدے، مسالک اور مزہبی نظریات  کی بنیادوں پہ تقسیم کردیا ہے ۔ میرے لیے تم کافر اور تمہارے لیے میں کافر ۔۔۔۔ ! ہم روشن خیال ہوگئے الحمداللہ ۔۔۔ اس ملک میں اب کوئی مسلمان رہا ہی نہیں ۔ بھئی یہ کفر اور کافر کے دعوے کہاں سے آ گئے ؟

ہر بات پہ کفر کا فتویٰ ۔۔۔ !

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے وہ سوال پوچھتے ہیں جو خدا ہم سے پوچھے گا ۔ بھئی سیدھی سی بات ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ میرے مولا ،میرے خالق کا استحقاق ہے نہ مخلوق کا ۔۔۔ 

  • یعنی تمہارا مزہب کونسا ہے؟
  • نماز کس طریقے سے پڑھتے ہو؟
  • نماز کے درمیان جب قیام کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو ٹانگوں کے درمیان میں سے دنبہ گزر سکتا ہے کہ نہیں ۔۔۔ ؟

اور آج کے دور کا سب سے کڑا اور مشکل سوال ختم نبوت کے متعلق ، کسی سے اگر بدلہ لینا ہو تو ختم نبوت کا منکر یا توہین قرآن مجید کا الزام لگا کر ذاتی عناد کا بدلہ لے لیا جائے 

ہم ایک دوسرے سے وہ سوال نہیں پوچھتے جو ہمیں پوچھنے چاہئیے ۔۔ میری تمنا ہے کہ میں جب بوڑھا ہو جاؤں تو میرا پڑوسی مجھے پوچھے کہ

  •  آصف صاحب آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟
  • گھر میں اگر کوئی دوا لانے والا نہیں ہے تو میں لا دوں ؟
  • آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟
  • آپ اپنے بچوں کو مناسب اور ضروری تعلیم کیوں نہیں دلوا رہے ؟

معاشرتی بقائے باہمی وقت کی ضرورت ہے اور دین اسلام کا روشن چہرہ بھی ہے ۔

میری نظر میں جو انسانوں کے انسانوں سے پوچھنے کے سوال ہیں اگر صرف وہی پوچھیں تو ہم روشن خیال ہیں ۔

اور اگر ہم ایک دوسرے سے وہ سوال پوچھیں جو خود خدا ہم سے پوچھے گا تو کیا ہم بہت اچھے ہوگئے ؟

خدا کے لیے 🙏 زمین پہ آجائیے اور خود کو قادر مطلق العنان سمجھنا چھوڑ دیں ۔ 

روشن خیالی میری نظر میں ذہن ، سوچ اور عمل کی پھپھوندی اتارنے کا نام ہے ۔۔۔!

روشن خیالی دل پہ سے ظلم کی کالک مٹانے کا نام ہے ۔۔۔ !

ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کا گلہ کاٹ دیا تو یہ ظلم ہے ۔۔؟ بھئی ایک چھوٹا سا جھوٹ بول دینا بھی ظلم ہے ۔۔۔۔ کسی پہ بہتان لگا دیا تو یہ بھی ظلم ہے ۔۔۔ کسی کی حق تلفی کی تو یہ بھی ظلم ہے ۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اگر حق وسچ کا پرچار نہ کریں تو کیا یہ ظلم نہیں ہوگا ۔

سچ پوچھیں تو مجھے عربی لغت کا یہ لفظ بہت پسند ہے کہ جس کا مطلب ہے حد سے بڑھ جانا ۔۔۔۔ تو بتائیے ہم سے کون حد سے نہیں بڑھتا جب موقع ملتا ہے ۔۔۔۔ تو ہم سب ظالم ہیں جو اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور خدائی اختیار میں دخل اندازی کرتے ہیں اور اپنے قادر ہونے کا اظہار کرتے ہیں ۔

یہاں میں یہ الفاظ آپ لوگوں سے ضرور کہنا چاہوں گا کہ خدا کے لیے 🙏خوش رہنا سیکھیں ۔۔۔ رب باری تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنا سیکھیں گے تو مطمئن ہو جائیں گے ۔

جو خوش رہتا ہے ۔۔۔وہ مطمئن ہوتا ہے ۔۔۔

جو مطمئن ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے ۔۔۔

جو عمل کرتا ہے وہ بامراد ہوتا ہے ۔۔۔

اور جو بامراد ہوتا ہے وہ سر خرو ہوتا ہے ۔۔۔



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟