حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جرات وشجاعت کا عملی اظہار ۔۔۔ دربار یزید میں شہادت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد تاریخی خطاب

 تدوین و ترتیب ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی

خلاصہ: تاریخ میں بڑے بڑے عالم و مبلغ صاحبان ذی وقار لوگوں کے خطبے ملتے ہیں لیکن ایک پاکدامن خاتون ۔۔۔ ہاں گفتگو میں فصاحت و بلاغت کے امام اور علم و آگہی کے گہوارے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نڈر اور پاکباز صاحبزادی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دربار یزید میں بھائی، بھتیجے، بیٹوں کے قاتلوں کے درمیان کھڑے ہو کر ایک ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ نہ ان سے پہلے کسی نے ایسے ماحول میں خطبہ دیا اور نہ ہی کوئی تا قیامت دے سکے گا۔

واقعہ کربلا پہ کئی حوالوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے، امت مسلمہ میں تقریباً ہر فرد اپنی فہم کے مطابق اس واقعہ کے متعلق علم رکھتا ہے لیکن یاد رکھیں!داستانِ کربلا اس وقت انسان کے دل پہ لکھی جاتی ہے جب اس کو معلوم ہو کہ  میدانِ کربلا میں کن عظیم نفوس قدسیہ نے ظلم سہے- 

اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کو فرمایا کہ اے محبوب کریم (ﷺ)آپ ان لوگوں سے فرمائیے کہ مَیں فریضۂ رسالت کے ادا کرنے پہ تم سے کوئی اُجرت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا-اگر تم واقعتاً اس فریضہ کے عوض مجھے کچھ دینا چاہتے ہو تو وہ فقط اتنا ہے کہ میرے اقربا سے محبت کرو-

یزید کے دربار میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا تاریخی خطبہ ۔۔۔۔ 

اس تاریخی خطاب کو اسلام کے بنیادی حقوق و اصولوں کے چارٹر کے طور پہ شامل کرنا چاہیئے ۔۔۔۔ 

یزید کی دربار میں جب حضرت زینب کبری (علیہا السلام) کی نظر اپنے بھایی امام حسین (علیہ السلام) کے خون آلود سر پر پڑی تو آپ نے ایسی غمناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گیے : “اے حسین ، اے محبوب رسول خدا ، اے مکہ و منی کے بیٹے ! اے فاطمہ زہرا سیده نساء العالمین کے بیٹے ، اے محمد مصطفی کی بیٹی کے بیٹے “!

حضرت زینب کی اس آواز سے تاریخ لکھنے والوں نے اس موقع کی جو تصویر کشی کی ہے کہ وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو !!…۔

حضرت زینب کبری (سلام اللہ علیہا) یزید کے دربار میں کھڑی ہوگئیں فصاحت و بلاغت کے علمی شاہکار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہادر اور نڈر بیٹی نے بہترین خطبہ ارشاد فرمایا :

سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کاینات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت(علیهم السلام) پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو براییوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے[مختلف طرح سے] تنگ کر دییے ہیں اور آلِ رسول کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز هوا اور ہم رسوا ہویے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گیے۔ اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری [خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کی سانس لے۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں۔ اور ان کے لیے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے۔

اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔

تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول کی پاک دامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آیے۔ اور لوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں۔ آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں۔ آج آلِ محمد کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔

اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر کو چبایا هو۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکها ہو۔ وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت (علیهم اسلام) پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہویے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے۔

اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعاییں دیتے ہویے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں۔

اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے۔

اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے فرزند رسول خدا اور عبدالمطلب کے خاندانی ستاروں کا خون بہا کر ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناونے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔تو نے اولاد رسول کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کیے ہیں۔

تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہویے ہیں۔

آج تو آلِ رسول کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے۔ تو سمجهتا هے که وه تیری آواز سن رهے هیں؟ ! (جلدی نه کر) عنقریب تو بهی اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا۔

اے ہمارے پروردگار، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے۔ اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے۔ اور اے خدا تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اے یزید ! (خدا کی قسم ) تو نے جو ظلم کیا ہے یه اپنے ساتھ ظلم کیا ہے۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے۔ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے۔ تو رسولِ خدا کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جایے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناونے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا۔ نیز رسول کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا۔

اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلایے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گیے وہ مر چکے ہیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گیے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں۔

اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد پر ڈھایے ہیں اس پر رسول خدا ، عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے۔ اور جبراییلِ امین آلِ رسول کی گواہی دیں گے۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعه تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لیے کافی ہے۔

عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جاییں گے جنہوں نے تیرے لیے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جایے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں۔

اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد [برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جرات سخن پر تو مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے۔ لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمایش سمجھتے ہویے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ 

افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑییے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔

اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پایے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔

اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجهے معلوم ہونا چاہییے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔تو نے جس گھناونے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پایے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جاییں گے۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے۔

ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمایے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لیے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے”۔


حوالہ جات:

1۔ ان اشعار کا دوسرا شعر ، رسول خدا کے دشمن عبداللہ بن زبعری کا ہے ، اس نے یہ اشعار جنگ احد میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کے شہید ہونے کے بعد کہے تھے اور ان اشعار میں آرزو کی تھی کہ کاش جنگ بدر میں ہمارے قتل ہونے والے بزرگ ہوتے اور دیکھتے کہ قبیلہ خزرج (مدینہ کے مسلمان قبیلے ) کس طرح گریہ وزاری کررہے ہیں ۔ اس شعر سے استفادہ کرتے ہوئے باقی شعر خو د اس نے کہے ہیں ۔

2۔ خندف ، قریش کے مورث اعلی ہے جوخود یزید کا بھی دادا شمار ہوتا ہے ۔ (ر.ك: تاريخ طبرى، ج 1، ص 24ـ25.)۔

3۔ روم، آيه 10.

4۔ آل عمران، آيه 178.

5۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ابوسفیان ، معاویہ ، قریش کے بزرگ افراد اور اپنے دشمنوں کو بخش دیا تھا اور فرمایا تھا : اذھبوا فانتم الطلقاء (جائو تم آزاد ہو ) ۔ (رجوع کریں : بحارالانوار، ج 21، ص 106 و تاريخ طبرى، ج 2، ص 337) .

6۔ آل عمران، آيه 169.

7۔ مقتل الحسين مقرّم، ص 357-359 ; بحارالانوار، ج 45، ص 132 ـ 135 و احتجاج، ج 2، ص 122ـ130.


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟