ایک کامیاب کیرئیر کا انتخاب کیسے کیا جائے ؟ تجزیہ اور چند تجاویز

تحریر وتحقیق ۔۔۔رانا آصف شہزاد علی

کامیاب کیرئیر کیا ہوتا ہے؟ اور اسے کیسے اختیار کیا جائے ؟

آپ بڑے ہو کر زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں ؟

 اور کونسا پروفیشن اختیار کرنا چاہتے ہیں؟

آپ کے مستقبل کے ٹارگٹس یا  مقاصد کیا ہے ؟

ان سوالات کا جواب کیرئیر کے انتخاب اور اختیار کرنے میں بہترین رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ دیانتداری اور لگن کے ساتھ اپنے مقاصد سے جڑے رہیں تو منزلیں خود راستے بناتی چلی جاتی ہیں۔مگر یاد رہے کہ کامیابی محض خواہش سے، سوچنے سے یا خواب دیکھنے سے نہیں، بلکہ محنت تگ ودو وکوشش سے ہی ممکن ہو سکتی  ہے۔

کسی انسان کازندگی گزارنے کا طریقہ یا ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کوئی انسان جب دلچسپی کی بنیاد پہ یا اہلیت کی شرائط پہ کسی پیشے کو منتخب کرتا ہے وہ اس کا کیرئیر یا پروفیشن کہلاتا ہے۔

اگر یہ انسان کا طرزِ زندگی ہے تو پھر اس کی سوچ،اس کا علم و ہنر، اس کی عقل و دانش، اس کی صلاحیتیں اور مہارتیں اور اس کی خوبیاں اور خامیاں اور ذاتی دلچسپیاں۔یہ سب اجزاء مل کر ہی اس کی زندگی کے چلن کی تشکیل کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام اجزاء کی نشو و نما، ارتقاء لازمی طور پہ تعلیم و تربیت اور مناسب گائیڈ لائن کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا ایک مناسب تعلیم و تربیت کے حصول کے بغیر ایک بہتر اور معیاری طرزِ زندگی کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

ایک درست اور متعلقہ پروفیشن  کا انتخاب وہ کلیدی فیصلہ کن مرحلہ ہے جو آپ کی زندگی کا معیار اور ڈائریکشن تبدیل کر دے گا۔مگر اس فیصلے کے لیے بہت سوچ بچار، کتھارسس اور گہرے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کے لیے وسیع تر متعلقہ معلومات کا حصول کلیدی حیثیت کا حامل ہے اور اپنی سپیشل مہارتوں اور صلاحیتوں کا صحیح ادراک اور عمیق تجزیہ ایک درست اور ابھرتے ہوئے پروفیشنل کیرئیر کے انتخاب میں مدد کر سکتا ہے۔

اگر اپنے معاشرتی سٹرکچر اور مشاہدے کو سامنے رکھا جائے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں ۔۔۔۔۔

  • اکثر ورکرز اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتے اور پرفیکشن کے متمنی ہوتے ہیں ۔
  • اکثر اوقات لوگ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر دوبارہ موقع ملے تو کسی مختلف فیلڈ کو اختیار کریں گے۔
  • غالب اکثریت ایسے لوگوں کی ملے گی جو اپنے کیرئیر سے غیر مطمئن ہونگے۔
  • یا یہ کہ ان کا کیلیبر اور سکلز کسے اور شعبے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک جہاں کیریئر کاؤنسلنگ کے باقائدہ ادارے یا اس کلچر کی ترویج نہیں ہے  اور معلومات کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔پاکستان جیسا ملک جہاں شرح خواندگی پچاس فیصد سے بھی کم ہے اور کیرئیر کاؤنسلنگ کو ایک باقائدہ ادارے کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے معاملہ اس سے بھی زیادہ گمبھیر اور مشکل نظر آتا ہے۔

یہاں میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پہ اپنے معاشرتی سٹرکچر، رجحانات اور ان عناصر کا ذکر لازمی کرنا چاہوں گا جو پروفیشنل کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔

1-آبائی پیشے کا انتخاب:

ایک ایسا رجڈ معاشرتی کہ جہاں وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کا رجحان بہت کم ہے۔ایسے ماحول میں لوگ کسی نئے شعبے یا ذریعہ آمدنی کے انتخاب کی  بجائے اپنے آبائی پیشے یا کارو بار کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔تاہم شہروں میں بھی کیرئیر کے انتخاب کے لیے زیادہ تر اسی اصول کو اپنایا جاتا ہے۔لہٰذا یہ وہ پہلا عنصر ہے جو ایک طالبعلم کے کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

2- معاشرتی قدریں اور ماحول:

کسی شخص کا ماحول،تہذیب و ثقافت اور کلچر وہ اہم عناصر ہیں جو ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کیونکہ تہذیب و ثقافت ہماری سوچ کی تشکیل کرتے ہیں اور یہی سوچ اور اپروچ پروفیشنل کیرئیر کے انتخاب کی وجہ بنتی ہے۔

3-دولت کمانےکاجنون یا مقابلے کی دوڑ:

اکثر اوقات دولت کمانے کا جنون بھی پیشے کے انتخاب ہر اثر ڈالتا ہے۔لہٰذا جو شخص دولت مند بننا چاہتا ہے وہ نوکری کی بجائے کاروبار کو ترجیح دیتا ہے۔

4-حالات و واقعات کا تسلسل:

ہمارے ملک میں اکثر اوقات کسی فیلڈ کا انتخاب سوچ سمجھ کر یا باقائدہ پلاننگ سے نہیں کیا جاتا بلکہ حالات و واقعات یا زندگی میں اچانک رونما ہونے واقعات یا  کوئی اچانک تبدیلی ہی اس کا سبب بن جاتی ہے

5- درست اور مطلوبہ معلومات کا فقدان:

ہمارے معاشرے کا زیادہ تر طبقہ ایک محدود دائرہ کار میں زندگی بسر کرتا ہے۔اس لیے جدید معلومات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔معلومات کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔

6-معاشرتی مسائل اور الجھنیں:

ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات بے پناہ مسائل اور الجھنوں کی حد بندیاں ایک فرد کو آزادانہ کیرئیر کے انتخاب کی اجازت نہیں دیتیں اور وہ ضرورتوں کی پٹڑی پر چل کر ہی منزل پر پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

7-بدلتے دور کے نئے رجحانات:

خاص طور پر ہمارے ملک کا پڑھا لکھا طبقہ کیرئیر کے انتخاب میں نئی ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات اپنانے کو ترجیح دیتا ہے۔

8- رہنمائی یا کنسلٹیشن کا فقدان:

کیرئیر کاؤنسلنگ کا رجحان ہمارے ملک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔مناسب رہنمائی کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو شدید متاثر کرتا ہے۔

9- نیچرل ٹیلنٹ کا ادراک:

قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ کوئی صلاحیت بھی اکثر اوقات کسی خاص شعبے کے انتخاب کا سبب بنتی ہے۔مثلاً ایک رائیٹر قدرتی طور پر رائیٹر ہوتا ہے خواہ وہ اس کے لیے کوشش کرے یا نہ کرے۔

اس آرٹیکل میں حقائق کی بنیاد پہ ان عناصر اور عوامل کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پروفیشنل کیرئیر کے انتخاب و اختیار پہ براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔اوران اقدامات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے۔

حالات وواقعات،ماحول ،مستقبل سے کبھی غیر ضروری توقعات اور امیدیں وابستہ نہ کریں۔کیرئیر کے انتخاب میں خود انحصاری اور خود پہ اعتماد ایک انتہائی اہم خوبی ہے کیونکہ بیساکھی کبھی آنکھوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔اپنے حالات،اپنی پوزیشن اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور ان کے مطابق فیصلہ کریں۔تو یقینا آپ ایک درست فیصلہ کر سکیں گے۔

1- ذاتی تجزیہ 

کیرئیر کے انتخاب سے پہلے اپنی ذات کا تجزیہ ضرور کریں۔مگر یہ تجزیہ لازمی طور پر دیانتداری اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔خود سے بات کریں اور خود کی بات سنیں۔آپ کیا کر سکتے ہیں؟آپ کیا بن سکتے ہیں؟آپ کتنے ذہین ہیں؟کتنے محنتی ہیں؟آپ کی ذہنی و جسمانی صحت کا معیار کیا ہے؟آپ میں کون سی صلاحتیں موجود ہیں؟کیا خوبیاں ہیں ،کیا خامیاں ہیں۔یہ وہ سوال ہیں جن کا بہترین اور انتہائی صحیح جواب آپ کو صرف آپ کی اپنی ذات سے ہی مل سکتا ہے۔

2- دور اندیشی سے کام لینا:

مستقبل کا فیصلہ کوئی غیر سنجیدہ معاملہ نہیں بلکہ بہت غورو فکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ آنے والا وقت کیسا ہو سکتا ہے؟وقت کے تقاضے کیا ہوں گے؟اور کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کا تجزیہ ایک ذمہ دارانہ فیصلے کی بنیاد بن سکتا ہے۔لہٰذا موجودہ حالات اور مستقبل کی توقعات و خدشات کا گہرائی سے تجزیہ ایک کامیاب مستقبل کے انتخاب میں بہت مددگار ہے۔

3- آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں؟ سوچیں ۔۔۔ !

آپ خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ زندگی سے کیا پانا چاہتے ہیں؟اور کس معیار کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟کیرئیر کے انتخاب میں یہ سوال بہت اہمیت رکھتے ہیں۔یہی مقصد کا تعین کرتے ہیں۔ٖمگر یہ بہت ضروری ہے کہ ان سوالات کا جواب حقیقی سوچ پر مبنی ہونہ کہ محض خواب و خیال پر۔

4- درست اور پریکٹیکل حکمتِ عملی وضع کرنا 

اپنے فیصلے کو سوچ و بچار کے دائرے میں محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی اور راستہ وضع کریں۔اس سلسلے میں عملی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے؟ اس حکمتِ عملی کی ترتیب کے دوران کئی اہم نقاط آپ کے سامنے آئیں گے جن کا تجزیہ مزید بہترفیصلے میں مدد کر سکتا ہے۔

5- زمانے میں بدلتے رجحانات کا عمیق مشاہدہ و تجزیہ:

اکثر اوقات ایک روایتی سوچ کیریئر کے انتخاب کو بہت متاثر کرتی ہے۔تیزی سے بدلتی دنیا سوچ کے نئے زاویوں کا تقاضا کرتی ہے۔کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت جدید ٹیکنالوجی،رجحانات اور جاب مارکیٹ کا بغور جائزہ ضرور لیں۔کیونکہ یہ ایک بہتر فیصلہ کرنے میں نہایت اہم ہے اور ہو سکتا ہے لاعلمی کی بنا پر ایک بہترین انتخاب گنوا بیٹھیں۔

6-اپنے ٹیلنٹ یا صلاحیتوں کا صحیح ادراک:

اگر آپ کے اندر قدرتی طور پر کوئی ایسا ٹیلنٹ یا صلاحیت موجود ہے جو ارد گرد کے لوگوں میں موجود نہیں ہے تو قدرت کا یہ تحفہ کیرئیر کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔مثلاً اگر آپ ایک سائنٹیفک ذہن رکھتے ہیں اور آپ کے اندر معاشرے کی خدمت کا جذبہ بھی موجود ہے تو آپ بے شک ایک بہترین ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔

7- معاشرتی و مارکیٹ ڈیمانڈ کا تعین:

ایک بہترین افرادی قوت مضبوط معا شرتی بنیادوں کی تعمیر کرتی ہے۔لہٰذا معاشرتی ڈیمانڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشے کا انتخاب ہر لحاظ سے ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔کیرئیر کے انتخاب سے پہلے یہ تجزیہ ضرور کریں کہ آپ کا ماحول اور معاشرہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔مثلاً اگر آپ کے ارد گرد IT کے ماہرین کی قلت ہے   تو اس فیلڈ کا انتخاب بہترین ہو سکتا ہے۔مگر اس صورتحال میں بھی اپنے رجحان اور صلاحیتوں کے برعکس فیصلہ نہ کریں۔

8- قابل عمل اورآسان راستے کو ترجیح دیں:

کیرئیر پلاننگ میں آسان راستے کو ترجیح دیں ۔ایک راستہ آپ کی خواہشیں طے کرتی ہیں جبکہ دوسرا راستہ وہ ہوتا ہے جو آپ کے وسائل اور ماحول باآسانی فراہم کر دیتے ہیں۔مشکل راستے کی رکاوٹیں ہٹانے میں اپنی توانائیوں کو ضائع کرنے سے شاید یہ زیادہ بہتر ہے کہ ان صلاحیتوں اور توانائیوں کو آسان رستے میں لگا کر زیادہ فائدے اور ترقی کی کوشش کی جائے۔

9- وسائل کی دستیابی اور دستیاب آپشنز کا جائزہ:

اپنے وسائل کا صحیح ادراک کریں اور ان وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے کیرئیر کے انتخاب کا فیصلہ کریں۔صرف زندگی کی خواہشوں کو نہیں بلکہ حا لات کے تقاضوں کو بھی مدِنظر رکھیں۔وسائل کی عدم دستیابی کیرئیر کے انتخاب کو بری طرح متاثر کر تی ہے۔لہٰذا اس پہلو سے غفلت نہ برتیں۔

10- ترجیحی بنیاد پہ مقاصد کا تعین:

آپ زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں،آپ کا مقصد کیا ہے ؟ان سوالات کا جواب کیرئیر کے انتخاب میں بہترین رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ دیانتداری اور لگن کے ساتھ اپنے مقاصدسے جڑے رہیں تو منزلیں خود راستے بناتی ہیں۔مگر یاد رہے کہ کامیابی محض خواہش سے نہیں بلکہ محنت وکوشش سے ہی ممکن ہے۔

11- سچائی سے اور حقیقت پسندانہ اپنی مالی حیثیت کا ادراک کریں:

تعلیمی ادارے ،مضامین اور کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی مالی حیثیت کو مدِنظر رکھنا ایک دانش مندانہ سوچ کی علامت ہے۔اکثر لوگ اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ انتخاب اکثر اوقات مالی مسائل ، احساسِ کمتری اور ذہنی انتشار کو جنم دیتا ہے۔

12- ذہنی سطح، اپروچ کا تجزیہ:

کیرئیر پلاننگ میں ذہنی معیار کا تجزیہ نہایت اہم امر ہے۔ہر شعبہ ایک خاص ذہنی معیار کا تقاضا کرتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ایک عام ذہنی سطح کا حامل فرد کبھی اس فیلڈ میں ترقی نہیں کر سکتا جہاں بہترین ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہو۔

13- انٹرن شپ یا تربیتی ٹریننگ کا اہتمام: 

آج کل بہت سی کمپنیاں اور پروفیشنل ادارے سٹوڈنٹس کے لئے انٹرن شپ آفر کرتی ہیں۔کیرئیر کے حتمی فیصلے سے پہلے ایک یا زیادہ کمپنیز کے ساتھ انٹرن شپ ایک درست انتخاب میں مدد کرتی ہے۔یہ آپ کونہ صرف متعلقہ فیلڈ کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہ کرتی ہے۔لہٰذا اپنے انتخاب کو فائنل کرنے سے پہلے اگر انٹرن شپ کی آپشن موجود ہے تو یہ تجربہ ضرور کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟