"کردارسازی" ایک ہمہ جہت پہلو اور متواتر عمل ہے ۔۔۔!

 تحریر و تلخیص ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی

کردار سازی ایک ہمہ جہت و متواتر عمل ۔۔۔ !

تعمیرشخصیت و آدمیت کااہم ترین پہلو کرداری سازی  ہے، کردار و اخلاق پر سمجھوتہ شخصیت کی تعمیر پر سمجھوتے کے مترادف ہے۔ اگرکردار نہیں تو تعمیر شخصیت اور احترام انسانیت کے وجود کا تصور ناممکنات کا استعارہ سمجھا جائے گا۔ 

ادبی اصطلاح میں کردار انسان میں نشوونماپانے والی ان انفرادی خصوصیات ، کیفیات اور روٹین ورک کےاظہار کو کہتے ہیں جومختلف حالات و واقعات میں ردعمل یا جزبات کے اظہار کے وقت رویوں سے عیاں ہو جاتی ہے۔

عقل وشعور اور اخلاق وکردار وہ دو بنیادی معیارات و تصورات ہیں جن سے انسانی عظمت دنیا کی تمام مخلوقات پر قائم ہے۔ اگرخود جنس انسان کے افراد کے درمیان عزت واحترام کے حوالے سے تقابل کیا جائے کہ ان میں سے کون زیادہ قابل تکریم ہے؟ تو قرآن کے مطابق جس انسان کے اندر یہ دونوں چیزیں زیادہ مقدار میں ہوں وہ اتنا ہی قابل احترام بن جاتاہے۔

علم نفسیات اور سوشیالوجی میں شخصیت کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ شخصیت کی ایک جامع و مکمل تعریف کرنا بہت مشکل ہے۔ آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی انسان کی شخصیت اس کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات  کا مجموعہ ہے۔ 

سماجی معنوں میں کردار سے  مراد ہے طرز، طریق ہائے کار، عادات، خصلت ہے۔ جو انفرادی طور پر انسان میں نشونما پاتی ہیں جن کا تعلق انسانی زندگی کی روٹین،عمل و ردّعمل و حالات میں پتہ چلتا ہے۔

انسان  کی سوچ ،فہم وفراست، عمل و ردعمل اور ا س کے مطابق ظاہر ہونے رویوں کو بھی عام طور پر کردارکہاجاتاہے۔ اخلاق اور کردار بھی آپس میں   ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ جو بطور متبادل ایک دوسرے کی جگہ  استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں میں باریک سا فرق یہ ہے کہ کردار کا اظہارعام طور پر  ردعمل ،مشکل و پیچیدہ صورت حال کے وقت  ہوتا ہے۔ جبکہ اخلاق کا اظہار کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ انسانی جبلت و طبیعت ، فطرت کا لازمی حصہ ہوتا ہے ۔ اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ نیچر کبھی تبدیل نہیں ہوتی ۔۔۔۔ ہاں مصلحت کا شکار ہو سکتی ہے ۔

عقل وشعور اور اخلاق وکردار وہ بنیادی معیارات و اسعارے ہیں جن سے نظام کائنات میں انسانی عظمت قائم ہے۔ اگرخود جنس انسان کے افراد میں تقابل کرکے دیکھا جائے۔ تو بھی یہ بات سامنے آئے گی کہ جس انسان کے اندر یہ چیزیں جتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ اتنا ہی زیادہ قابل احترام ومکرم بن جاتاہے

شخصیت افرا د کے ذہنی ،جسمانی ،شخصی ،برتاؤ ،رویوں ،اوصاف ا ور کردار کے مجموعہ کا نام ہے باالفاظ دیگر اگر سہل انداز میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو یہ انسان کے ظاہری و باطنی صفات ،نظریات اخلاقی اقدار ،افعال احساسات اور جذبات سے منسوب ہے۔ ظاہری حسن وجمال وقتی طور پر کسی کی توجہ تو مبذول کرسکتا ہے لیکن کردار کا دائمی حسن ہی انسان کو زندہ جاوید بنا تا ہے۔

ہم اگر حقائق کی کسوٹی پہ پرکھیں تو کردار بغیر خیال سازی کے نہیں بنتا۔ خیال بننا شروع ہوتا ہے ،پروان چڑھتا ہے تو ایک نئی سوچ اور فکر، نظریہ بننا شروع ہو جاتا ہے وہی سوچ اور فکر ہمارا کردار اور رویہ  بناتی ہے۔ اگر سوچ کسی اور سمت ہوگی تو کردار نہیں بن سکے گا یعنی دونوں میں یکسوئی لازم و ملزوم تصور کیے جاتے ہیں۔ خواہ کوئی بھی مثال اور نمونہ سامنے ہو۔ لیکن اس سمت ذہن و گمان نہیں جائے گا کیونکہ غلط سمت سے ہٹانا مشکل ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے، ملک، تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا ہو تو اس معاشرے و ملک کے رول ماڈل کو تبدیل کردیا جائے یا ختم کردیا جائے۔

کردار سازی: شخصی پہلو

انسان کو ارادے کی آزادی تو حاصل ہے لیکن ارادے کے مطابق عمل بھی انجام پا جائے یہ انسان کے بس میں نہیں۔ مشیت ایزدی کے بغیر انسانی ارادہ عمل کی صورت گری نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان جب کسی عمل خیر کا ارادہ کرے تو توفیق الہی کا طلبگار ہو۔ اللہ تعالی نیک ارادے کو قبول کرتا ہے اور اگر اس ارادے کے مطابق عمل میں خیر ہو تو اسے صادر ہونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اور جب نفس کی اکساہٹ کسی شر کی طرف مائل کرے تو اللہ کی پناہ کا طلبگار ہو۔ اللہ تعالی اس نفسانی ارادے پر گرفت نہیں کرتا جب تک انسان اس کے مطابق عملِ شر میں مبتلا نہ ہو جائے اور یہ بھی اللہ کی مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اگر انسان برے ارادہ کا احساس ہوتے ہی پناہ الہی طلب کر لے تو اللہ تعالی اسے برے عمل سے بچا لیتا ہے۔ اور اگر انسان ارادۃً شر پر قائم رہے تو اللہ تعالی اسے سوئے عمل کی طرف جانے سے زبردستی نہیں روکتا لیکن اسی حد تک ڈھیل دیتا ہے جتنی اللہ کی مشیت ہو۔

انسان کے عقیدے، ارادے اور عمل کے درمیان باہمی تعامل کی یہی حرکیات (dynamics) ہیں جواس کے کردار میں رونما ہوتی رہتی ہے۔ کبھی اس کا عمل اس کے ارادے کا اور اس کا ارادہ اس کے عقیدے کا مظہر ہوتا ہے تو کبھی ان میں باہم دگر تضاد رونما ہوتا ہے۔

کردار سازی: اجتماعی پہلو

کردار کے اس شخصی پہلو کا امتحان اجتماعی زندگی کے نشیب و فراز میں ہوتا ہے۔ اجتماعیت میں شخصی کردار کو دوسرے بہت سارے کرداروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مختلف کرداروں کے مابین تعلق کے نتیجے میں ٹکراؤ، نباہ یا ہم آہنگی کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہوتا ہے:

  • ٭تہذیب، رجحان و مزاج
  • ٭فہم و شعور اور کامن سنس
  • ٭ مقصد سے وابستگی

ہر شخص کو اللہ تعالی نے منفرد بنایا ہے۔ ہر شخص کی طبیعت، رجحان اور مزاج الگ الگ ہے۔ لیکن انسان کو یہ صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ وہ تہذیبِ نفس کی مسلسل مشق سے اپنی طبیعت، رجحان اور مزاج کو اجتماعیت کے لیے فائدہ مند بنا سکے اور اس کے منفی پہلوؤں پر قابو پا سکے۔ جو لوگ اس مشق میں کام یاب ہوجائیں وہ اجتماعیت کے لیے بوجھ نہیں بنتے۔

اس دنیا میں مخلص، باہمت اور بااخلاق و باکردار لوگوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے اخلاق اور کردار کو بنانے کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل عوامل پر آپ کو بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

ہمیشہ پرسکون رہیں۔۔۔!

گرم مزاجی اور ضرورت سے زیادہ ردعمل کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ کا پرسکون انداز آپ کو بہت آگے لے جاسکتا ہے۔ کیوں کہ آپ کا مستحکم اور پرسکون رویہ آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔

نامعقول محرکات سے بچ کر چلنا

بعض اوقات نامعقول محرکات سے متاثر ہونا انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں چیزوں کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں نامعقول عادات جنم لیتی ہیں۔ اگر آپ ان نامعقول محرکات کے آگے بند نہیں باندھتے تو نہ صرف یہ آپ کے آپس کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات آپ کے عقلی تقاضوں کی حدود سے بچ کر آگے نکل جاتے ہیں۔

ہمیشہ سچائی کے خواہش مند رہیں

سچائی کے خواہش مندوں کو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ مشکل اور تکلیف دہ سچ کو آرام دہ جھوٹ پر ترجیح دیتے ہیں جو کہ یقینی طور پر ’’مضبوط اخلاقی کردار‘‘ کی پہچان ہے۔

باہمت رہیں اور پیچھے مڑکر نہ دیکھیں

خوف زدہ ہونا بالکل ایک نارمل اور قدرتی عمل ہے۔ ذہنی دباؤ میں خوف محسوس کرنا ایک عام بات ہے کیوں کہ اللہ نے ہمیں جینیاتی طور پر ایسا ہی بنایا ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ خوف کو اپنے اوپر حاوی کرلیتے ہیں۔

دوسروں کے زاویہ نگاہ سے بھی دیکھیں

چیزوں کو دوسروں کے زاویہ نگاہ سے دیکھنا مضبوط کردار کے لوگوں کی ایک بہت اہم خصوصیت ہے اور دراصل یہی وہ خصوصیت ہے جو ہمیں انسان کا مقام دیتی ہے۔

اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں

خود اعتمادی ہی آپ کو پرکشش اور بااختیار بناتی ہے۔ جب آپ اپنی قابلیت کے سلسلے میں پُر اعتماد ہوتے ہیں تو لوگ آپ سے متاثر ہوکر آپ جیسا بننا چاہتے ہیں اور آپ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اپنی ساکھ اور معاشرتی مقام کا پاس ہونا

آپ کی ساکھ آپ کے قیمتی اثاثوں میں سے ایک اثاثہ ہے کیوں کہ اپنے احباب میں اس کو بنانے کے لیے سالہا سال لگ جاتے ہیں لیکن اس کے مسمار ہونے میں چند سکنڈ لگتے ہیں۔

ہــر ایک سے شائستہ اور نــــرم رویہ

شائستہ رہنے کا فیشن کبھی پرانا نہیں ہوتا کیوں کہ لوگ اچھے اخلاق کو ہمیشہ پسند کرتے ہیں۔ جہاں تک شائستگی کی بات ہے تو آپ ان لوگوں سے عموماً شائستہ ہی رہتے ہیں جنہیں آپ پسند کرتے ہیں لیکن اصل مرحلہ ان لوگوں کے ساتھ شائستہ رہنا ہوتا ہے جنہیں آپ پسند نہیں کرتے اور جب آپ یہ سب کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو آپ نے یقینا اپنا کردار بڑی حد تک مضبوط بنا لیا ہوتا ہے اور آپ کے دوست احباب یقینا اس کی قدر کرنے لگتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟