کام اور زندگی کا توازن ۔۔۔ ! کیا ممکن ہے ؟
تحریر وتحقیق ۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی
Work-Life Balance
کام اور متوازن زندگی
زندگی کے ہر معاملے میں متوازن سوچ، متوازن رویئے ، متوازن روٹین ایک صحت مند شخصیت اور سوچ و عمل کا بہترین امتزاج سمجھی جاتی ہے۔
اپنے آپ کو 'ریفیول' کے لیے وقفہ دیے بغیر ضرورت سے زیادہ وسائل کو کام میں لگانا برن آؤٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ آپ خالی، غیر پیداواری، حوصلہ افزائی کی کمی، غیر صحت مند یا سادہ، ناخوش محسوس کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ یہ سب جل جانے کی علامات ہیں، جو کام سے دلدل ہونے کی وجہ سے تھکن کا محض ایک جسمانی مظہر ہے ۔
ایک خوشگوار صحتمند متوازن ذاتی زندگی اور کام کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کام اور ذاتی زندگی کو پچاس پچاس فیصد کے دو حصوں میں بانٹ دیں اور بس، بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہفتے کے کچھ دن زیادہ کام کر لیں اور باقی دنوں میں اپنی ذاتی زندگی کے دیگر مشاغل کے لئے وقت نکال کر ان سے لطف اندوز ہو سکیں، یعنی ایک لچکدار منصوبہ بندی کی جانے کی ضرورت ہے جو آپ کو ذاتی زندگی اور کام کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکے۔
متوازن کام اور ذاتی زندگی کے کچھ اور بھی عوامل ہیں جو انسان کی نفسیات، صحت اور سماجی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ یعنی کام اور ذاتی زندگی دونوں جگہ طمانیت اور قلبی سکون کا احساس ہونا نہایت ضروری ہے، جن کا حصول مسلسل کاوش اور پختہ لگن کے بغیر ممکن نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ایک صحتمند و کا ر آمد توازن برائے کام و ذاتی زندگی کچھ اس طرح ہو:
کام کی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے پاس اتنا وقت ہونا چاہیے کہ کچھ وقت اہل خانہ کے ساتھ گزار سکیں، کچھ دیر اپنے دوستوں سے ملاقات کر سکیں اور ساتھ ساتھ اپنے ذاتی مشاغل سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔ تاکہ زندگی کی خوبصورتی اور چاہت برقرار رہے، اور زندگی یکسانیت و اداسی کا شکار نہ ہو جائے۔
بھرپور نیند بھی ہر انسان کے لئے نہایت ہی ضروری ہے، لہذا یہ بہت ہی اہم ہے کہ آپ پوری نیند لے رہے ہوں، نیند کی کمی بہت سی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں اور کمزوریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ساتھ ساتھ آپ متوازن اور خوراک بھی لے رہے ہوں یعنی کھانے پینے سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوں۔
جب آپ دفتر سے باہر یا گھر پر ہوں تو سر پر کام کا بوجھ یا فکر سوار نہ ہو۔ بلکہ جب آپ گھر پر ہوں تو دفتر یاد نہ آئے اور جب آپ دفتر میں ہوں تو گھر کی فکر نہ ستائے۔
کام اور زندگی کا توازن پیداواری صلاحیت کو بڑھاتا ہے ۔
کام کی زندگی کا توازن آپ کو اپنی توانائیوں کو اس طریقے سے چلانے کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اس میں کام کی جگہ پر آپ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ شامل ہے۔ جب آپ اپنے آپ کو چیزوں کو اندر لے جانے، پراسیس کرنے اور 'ریفیول' کرنے کے لیے وقت دیتے ہیں، تو آپ کے سوچنے والے انجن تیزی سے کام کریں گے۔ آپ بہتر توجہ دیں گے، کام تیزی سے کریں گے اور بہتر موڈ میں رہیں گے، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
عموماً اس کی وجہ ملازمت پر کام کی زیادتی ہوتی ہے۔ مالی مشکلات کی وجہ سے بعض آجر کم پیسوں میں بہت دیر تک کام کراتے ہیں۔ آجکل ڈیجیٹل ترقی کا دور ہے ۔کمپیوٹر اور ٹیلیفون وغیرہ کی وجہ سے ایک شخص ہر وقت کام سے جڑا رہتا ہے اور یوں ملازمت اور ذاتی زندگی میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتا۔
سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور تجارت کی تیز رفتار ترقی نے انسانی طرز زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ انسان نے زندگی کے بہت سے شعبوں میں ناقابلِ تصور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس تمام تر ترقی کے باوجود، فطرت کے قوانین آج بھی مسلمہ حقیقت ہیں۔ اس ترقی کی قیمت بعض اوقات توقع سے بھی کہیں بڑھ کر ثابت ہوتی ہے۔ کرۂ ارض کی تباہی، گلوبل وارمنگ کے اثرات، جنگیں، آلودگی، درختوں کی کٹائی اور جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں اسے تباہ کرنا،یہ وہ قیمت ہے جو ہم نے متوازن اور خوشگوار زندگی کے حصول کے لیے ادا کی ہے۔
خوشی اور توازن انسان کی زندگی کا آخری مقصد ہونا چاہئے۔ تمام ممتازاسکالرز اور مذہبی رہنماؤں نے اعتدال کا درس دیا ہے۔ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی ،جلد بازی اور متفکر فطرت نے ہمیں سکھایا ہے کہ توازن اور خوشی بیرونی ماحول میں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خوشی اور توازن اندر سےنمودار ہوتا ہے۔ دنیا کو ٹھیک کرنے سے پہلے ہمیں اپنے دماغ ، جسم اور روح کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ اندرونی توازن اور مسرت تلاش کرنے کے بعد ہی انسان کو اس نعمت کا احساس ہو سکتا ہے جسے زندگی کہتے ہیں۔ دنیا کی تمام برائیاں عدم توازن کا نتیجہ ہیں۔ یہ عدم توازن لالچ، نفرت، خوف اور الجھن سے پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ جدید دور کا مقولہ ہے، ’’لا علمی بھی ایک نعمت ہے‘‘، یہ حقیقی خوشی کی تلاش اور حصول کے حوالے سے حتمی المیہ ہے۔
آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ کاروباری زندگی اور گھریلو مصروفیات میں توازن کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے:
1 ترجیحات کا تعین کریں
لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ دفتر میں کم سے کم وقت گزاریں اور گھر پر رہیں۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ وہ دفتر پر وقت کیوں نہیں دینا چاہتے؟ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کسی نے اپنے بچے کو اسکول پہنچانا اور واپس لانا ہو گا، کسی نے اپنے بیمار والدین کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو گا۔ اپنی ترجیحات کو متعین کر لیں، پھر باس یا انتظامیہ سے گفتگو کریں۔ ترجیحات متعین ہونے کی وجہ سے آپ انتظامیہ کو بہت آسانی سے اعتماد میں لے سکیں گے۔ اگر میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں تو اپنے دفتری اوقات اس طرح ترتیب دیں کہ بچوں کو وقت دیا جا سکے۔
2-اپنے آپ کو پہچانیے!کہ آپ کتنے قابل ہیں
آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دفتر میں گزارے جانے والے طویل وقت میں سے صرف 20 فیصد وقت ہی کام میں گزرتا ہے، اس کے علاوہ 80 فیصد وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ دفتر میں گزارے جانے والے وقت کا صرف 20 فیصد یکسوئی اور تن دہی سے گزار لیں تو کام مکمل ہو سکتا ہے۔
3-کون سا کام آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا؟
گھر اور دفتر میں کون سا کام آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا؟ اس ایک سوال کا جواب تلاش کر لیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میری ترجیح کیا ہونی چاہیے۔
4 ابھی کیا کروں؟
دنیا میں کوئی بھی شخص فارغ نہیں ہوتا۔ بے شمار چھوٹے بڑے کام کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن سمجھدار لوگ ہمیشہ اپنے کاموں کی فہرست میں سے انہی کاموں کا انتخاب کرتے ہیں جو فوری طور پر اہم ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے کام اہم ہو سکتے ہیں مگر انہیں فوری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ دوسری طرف بے شمار کام فوری کرنا ہوتے ہیں مگر ان کا اہم ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس لیے ایسا کام منتخب کریں جو فوری بھی کرنا ہو اور اہم بھی ہو۔

Good job 👍
ReplyDelete