بیانیہ کیا ہوتا ہے ؟ اور معاشرتی و سیاسی بیانیہ حقائق سے ہم آہنگ کیوں ہونا چاہئیے ؟
تحریر وتحقیق ۔۔۔۔! رانا آصف شہزاد علی
بیانیہ سازی میں کن فیکٹرز کو مدنظر رکھنا چاہیے ؟
بیانیہ کسے کہتے ہیں ؟
"بیانہ صحیح معنوں میں کئی واقعات کی ایک داستان ہوتی ہے جو یکے بعد دیگرے علی الترتیب بیان ہوتے ہیں‘‘
بیانیہ دراصل کسی تحریر یا فن پارے میں کوئی واقعہ یا مختلف واقعات کی ایک ترتیب ہوتی ہے جو یکے بعد دیگرے تہہ در تہہ کھلتے ہیں۔بیانیہ اسلوب میں لکھاری یا نظریہ دینے والا کسی واقعہ‘ قصہ‘ مطالعہ یا مشاہدے کو حکایتی یا کہانی کے انداز میں پیش کرتاہے ۔
بیانیہ کاایک سرا جہاں متھ اساطیر‘ تمثیل ‘ حکایت‘ دیو مالا‘ کتھا کہانی وغیرہ جیسی قدیم لوک روایتوں سے ملتاہے تو دوسرا سرا ڈرامہ‘ ناول‘ افسانہ جیسی جدید اصناف سے ملتاہے ۔بیانیہ میں صنفی ‘موضوعاتی یا ہیئتی اعتبار سے کوئی قید نہیں ہے ۔
تاہم بیانیہ میں وقت کی قید ضرور ہے اور ہر بیانیہ وقت کا پابند ہوتاہے بقول شمس الرحمن فاروقی:
’’بیانیہ کا وجود ہی وقت پر منحصر ہے، تاکہ ایک خاص نہج پہ معتقدین کی ذہن سازی کی جائے اور مطلوبہ نتائج برآمد کیے جائیں۔
سادہ الفاظ میں بیانیہ ایسی کہانی کو کہتے ہیں جو سیاسی پارٹیاں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وقتاً فوقتاً موقع محل اور حالات حاضرہ کی مناسبت سے بنا کر پیش کرتی رہتی ہیں۔ اب سیاسی پارٹیاں مستقل طور پرخود کو لیفٹ رائٹ نظریہ کی سیاسی جماعت ڈکلئیر کروا کر محدود کرنے کی بجانے زمینی اور معروضی حالات کی روشنی میں بیانیہ کی سیاست پر کاربند نظرآتی ہیں۔
بیسویں صدی کے اختتام سے قبل سیاسی دانشوروں اور تحقیق کاروں نے حالات و واقعات کے پیش نظر بیانیہ پیش کرنے کے عمل کا آغاز کیا اور اس میں تواتراور شدت کے ساتھ اضافہ اکیسویں صدی میں الیکٹرانک میڈیا کی مقبولیت کے ساتھ دیکھنے کو ملا۔
حیران کن طور پر پچھلے چند برسوں میں سیاسی پارٹیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی اس پولیٹیکل پولرائزیشن کا تصور بہت تیزی سے معدوم ہوتا نظر آیا ہے۔ اب سیاسی پارٹیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی جگہ ’بیانیہ کی سیاست‘ نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔
سیاسی کلچر میں بیانیہ کی سیاست ۔۔۔۔۔!
حیران کن طور پر پچھلے چند برسوں میں سیاسی پارٹیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی اس پولیٹیکل پولرائزیشن کا تصور بہت تیزی سے معدوم ہوتا نظر آیا ہے۔ اب سیاسی پارٹیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی جگہ ’بیانیہ کی سیاست‘ نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔
ایک وقت تھا جب پوری دنیا کی طرح پاکستان کی سیاسی قبیل بھی دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر منقسم تھی۔ سیاست میں مذہب، روایات کو اساس سمجھنے والے یا پھر نسل، قوم پرستی کی بنیاد پر اپنے سیاسی افکار کو پروان چڑھانے والے قدامت پسند اور دائیں بازو والے کہلاتے تھے۔ دوسری طرف ترقی پسند، لبرل، سیکولر اور انقلابی نظریات اور اصلاحات کے حامی یا سوشلسٹ نظریات کے حمایتی بائیں بازو والے سیاسی کارکنان کہلاتے تھے۔
نظریات کی ان دو انتہاؤں کے وسط میں معتدل اور قدرے غیرجانبدار نظریات رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کو مرکز یا سینٹر کے سیاسی رہنما کہا جاتا تھا۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں لوگوں کی ذہن سازی کا کام بڑے پیمانے پر سیاست کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ ذمہ داری تمام سیاسی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار، سماجی انصاف، تعمیری معاشرتی سرگرمیوں، انسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور ایماندارانہ رویہ کو فروغ دیں۔ یہ آگاہی بڑے پیمانے پر میڈیا کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔
سیاسی قیادت کے دعویدار ہی بیانیہ’ تیار کرتے ہیں جسے وہ عوام کے سامنے پیش کرکے بار بار دہراتے ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔ ایک بیانیے کے صحیح یا غلط ہونے کا دارومدار اس کے مندرجات پر ہوتا ہے۔
ایک بیانیہ اس وقت پروپیگنڈا کے زمرے میں آتا ہے جب اس کے مندرجات جھوٹ اور دھوکا دہی پر مبنی ہوں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہوں۔ پروپیگنڈا پر مبنی بیانیہ لوگوں کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ایک سیاسی رہنما بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اور حمایت حاصل کر سکے۔ ایسے بیانیے کو اکثر منفی بیانیہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حقیقی سماجی مسائل کو حل نہیں کرتا اور جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ عوام کو الجھاتا ہے اور صحیح اور غلط کے فرق کو ختم کرتا ہے۔
آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ایک منفی بیانیہ آسانی سے الیکٹرانک میڈیا (بشمول سوشل میڈیا) کے ذریعے بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے اوریہ عوام کو گمراہ کرنے کا جدید اور سستا طریقہ ہے۔ مہذب معاشرے کے لوگ بڑی حد تک اس طرح کے بیانیے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور وہ اپنے لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں کہ جو ان کے لئے بہتر ہے وہ اسے قبول کریں ۔ انہیں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی بھی لیڈر اپنی انا کی تسکین کے لئے کیا ‘بیانیہ’ بیچ رہا ہے۔ بلکہ عوام کو ایسے لیڈر سے پوچھنا چاہیے کہ آپ ابھی کوئی بیانیہ نہ بیچیں بلکہ پہلے ہمیں یہ بتائیں کہ کیا آپ نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں جو آپ نے کیے تھے؟
عوام کی بہتری کے لیے آپ کی کارکردگی کیا ہے؟ کیا آپ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائے ہیں؟ یقینی طور پر ایسے سوالات کا جواب کسی پروپیگنڈے سے نہیں ملے گا، اس کے لیے حقیقی کارکردگی کی ضرورت ہے جو کہ ایک پروپیگنڈے کی قیادت کرنے والا لیڈر کبھی نہیں دے سکتا۔
تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب کہنہ مشق سیاست دانوں نے جھوٹے بیانیہ سے حکومت حاصل کی اور پھر بربادی کے ان واقعات نے جنم لیا جس نے بعض دفعہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہٹلر اور مسولینی فاشسٹ بیانیے کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔
سیاست دانوں کا سب سے اہم اوزار ان کے الفاظ ہیں۔ انہی الفاظ کے استعمال سے بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ پالیسیوں اور نظریات کے لیے عوام کی حمایت حاصل کی جائے۔ بیانیہ جب جھوٹ اور فرضی حقائق پر مبنی ہو تو اسے عرف عام میں پروپیگینڈا کہا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو دھوکا دینا ہوتا ہے۔
کئی ملکوں میں آج کل بھی جھوٹے بیانیے کی بنیاد پر حکومتیں قائم ہوئیں اور پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔ پائیدار بیانیہ وہ ہے جو حقائق پر مبنی ہو۔ ملکوں کی تقدیر ان سیاست دانوں نے بدلی جو سچ اور حقیقت پر مبنی بیانیے پر عوام کا مینڈیٹ لے کر حکومت میں آئے۔
اب ذرا اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر نظر ڈالتے ہیں۔ تحریک انصاف نے تبدیلی کا بیانیہ دیا مگر 2013 سے 2018 تک انہوں نے کبھی اس کی تشریح نہیں کی کہ تبدیلی کا مطلب کیا ہے۔ جب بھی ان سے وضاحت طلب ہوئی انہوں نے یہی وضاحت دی کہ دوسرے بڑے کرپٹ ہیں اور جب ایماندار حکومت میں آئیں گے تو کایا پلٹ جائے گی۔ لیکن جب حکومت میں آئے تو پتہ چلا کرپٹ ان کے گرد جمع ہیں اور تبدیلی صرف چہروں کی ہے۔
جاسکتا۔
فوج کا بھی ایک بیانیہ ہے۔ فوج کہتی ہے سیاست دان کرپٹ اور نااہل ہیں۔ مگر دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح جو سیاست دان ان کا حامی ہو جائے وہ محب وطن بھی ہے اور ایماندار بھی۔ فوج یہ بھی کہتی ہے کہ کسی کرپٹ سیاست دان کے ہاتھ میں ملک کا مستقبل نہیں دیا جاسکتا لیکن جس بھی ایمان دار کو وہ لے کر آئے اس نے زیادہ تباہی مچائی۔
مسلم لیگ ن کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ موٹر وے اور ترقیاتی منصوبے تمام مسائل کا حل ہیں۔ ڈیل نہیں لیں گے بھی اس بیانیہ کا حصہ رہا مگر وہ کبھی قوم کو قائل نہ کر سکے کہ پہلے مشرف اور پچھلے سال جنرل قمر باجوہ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ عوام کا شک اس وقت مزید گہرا ہوا جب ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو پزیرائی ملی مگر میاں نواز شریف کے ملک سے جاتے ہی ووٹ کی عزت کا مسئلہ ختم ہو گیا۔
جبکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی آئیڈیالوجی کی جو چمک لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی وہ مفاہمت کی قبا اوڑھ کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکی ہے۔
بیانیہ سازی میں پاکستان کی مزہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی وضاحت ہونی چاہئیے اور عوام الناس میں یہ عمومی سوچ پائی جاتی ہے کہ یہ سیاسی افراتفری کے لیے کسی طاقتور حلقے کی طرف سے اشارے کی منتظر رہتی ہیں ۔ ابھی تک مزہبی سیاسی جماعتیں عوامی و قومی مسائل کا کوئی قابل قبول حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔

Comments
Post a Comment