آن لائن شاپنگ بمقابلہ روایتی شاپنگ ۔۔۔ مارکیٹ کے رجحان پہ تجزیاتی تحریر
!تحریر و تحقیق ۔۔۔
رانا آصف شہزاد علی
کیا آن لائن شاپنگ یا آی کامرس کا بیانیہ دم توڑ رہا ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں، ای کامرس اور موبائل شاپنگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن خریداری کے دوران صارفین سامان کی بغیر کسی رکاوٹ کے ترسیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ صارفین کی سابقہ تعریفوں اور صارفین کے رویوں کو دوبارہ لکھنے کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ صارفین فوری شپنگ اور مفت ایک دن کی خریداری کی تلاش میں ہیں۔ ای کامرس کی ترقی کے لیے ایک لچکدار واپسی کی پالیسی بھی ضروری ہے۔
آن لائن شاپنگ کے مثبت پہلو دیکھے جائیں تو موجودہ حالات میں ایک نعمت سے کم نہیں ۔۔ وقت اور کرایہ دونوں کی بچت ہے ، لیکن اسکی کسر برانڈز اور آنلائن سٹورز یکطرفہ قیمت کا تعین کرکے پوری کر دیتے ہیں ۔جبکہ ان پراڈکٹس کے معیار کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ، انٹرنیٹ پر خوشنما تصویریں دیکھ کر کی گئی شاپنگ اکثر صارفین کو دھوکہ ہی دیتی ہے،اس سے سب سے زیادہ متاثر وہ پھیری والے اور چھوٹے دکاندار ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ پر اپنی پراڈکٹس بیچنے کی اہلیت اور سکت نہیں رکھتے ۔
ترقی یافتہ ممالک بشمول امریکہ میں لوگوں نے سپلائی چین کو آن لائن شاپنگ سے متاثر کیا اور بہت زیادہ مقدار خرید کر اسے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر مہنگے داموں فروخت کرنے لگے۔ اور یہ ٹرینڈ خاص طور پہ کوڈ 19 کے دوران ایک متبادل اپشن کے طور پہ پاپولر ہوا ۔جبکہ ریٹیلرز نے اسے روکا اور پھر عام لوگوں کو بھی سٹور سے خریداری کرنی پڑی۔ اس لیے اب بتدریج ای شاپنگ کم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
کامن تجربہ کی بات ہےکہ چاہے یورپ ہو یا پاکستان۔ زیادہ خریداری خواتین کرتی ہیں۔ اور خواتین شاپنگ مالز میں خریداری سے زیادہ گھومنے کی شوقین ہوتی ہیں۔ بغیر گھومے وہ شاپنگ نہیں کرتیں۔ اور کسٹمرز کی تسلی بھی نہیں ہوتی۔
مگر پاکستان میں ایمازون اور اس طرح کے دوسرے ٹریننگ کورسز بیچنے والوں نے سوشل میڈیا پر کہانیاں سنا سنا کر عوام کو پاگل کیا ہوا کہ ایمازون وغیرہ پر آو اتنے پیسے کماو۔
بظاہر ای کامرس کا بیانیہ زمین بوس ہوتا نظر آرہا ہے ۔
- کورونا وبا کے دوران ایک سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا شاپنگ کا تصور ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔
- بظاہر اسکا جواب ہاں میں تھا کیونکہ جب ریٹیل سٹورز کے دروازے خریداروں کے لیے بند ہوئے تو لاکھوں صارفین نے خریداری کے لیے انٹرنیٹ کا رخ کیا۔
- تجزیاتی طور پہ دیکھا جائے توسوچ بالکل سادہ تھی کہ جب اتنی سہولت کیساتھ خریداری ہو سکتی ہے تو کسی سٹور پر کیوں جائے؟
- امریکی ادارہ شماریات کے مطابق پچھلی پانچ سہ ماہی کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ آن لائن شاپنگ کے اعدادوشمار وہیں واپس آگئے ہیں جہاں کورونا وبا سے پہلے تھے۔
- پچھلے نو ماہ کے دوران امریکی سٹاک مارکیٹ ایس اینڈ پی 500 لگ بھگ 25 فیصد گری مگر سب سے زیادہ تباہی ان کمپنیوں کے شئیرز میں برپا ہوئی جو ای کامرس سے متعلقہ تھے۔
ایمازون کا شئیر 32 فیصد گر گیا۔ اسکے شئیر کی مارکیٹ ویلیو پانچ سو ارب ڈالر کم ہوگئی۔ جی ہاں ہاف ٹریلین ڈالرز۔
شاپیفائی کا شئیر 80 فیصد مندی سے اپنی ویلیو 143 ارب ڈالر گنوا بیٹھا۔
مشہور یورپین آن لائن برانڈز Asos Plc اور Boohoo Group کے شئیرز 70 فیصد سے زیادہ گر گئے۔
ابتدائی طور پر یہ وجہ بیان کی گئی کہ چونکہ مہنگائی نے صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لہذا صارفین کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے مگر امریکی ریٹیل سیلز کے ڈیٹا نے اس بیانیے کو بھی اڑا کر رکھ دیا۔ اگست 2022 میں امریکی صارفین نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیسے خرچ کئے۔
شاپی فائی کے سی ای او نے ملازمین کو خط لکھا اور تسلیم کیا کہ آن لائن سیلز کی گروتھ کے حوالے سے ان کا تخمینہ غلط ثابت ہوا لہذا کمپنی ایک ہزار ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔
شاپی فائی کے سی ای او کے اس خط پر ایمازون اور وے فئیر نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
معروف ادارے Grupo Unicomer کے ای کامرس کے جنرل مینیجر Williams Brown نے بھی اپنے اندازے اور تخمینے کو غلط تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ آن لائن خریداری ایک مجبوری تھی، چوائس نہیں۔
ولیم براؤن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے جو لوگوں کو گھر بیٹھے ڈالرز دئیے، ان ڈالرز سے کی جانے والی خریداری نے ای کامرس انڈسٹری کو Fake Signal دیا۔
برطانیہ میں بھی ای کامرس کا حالیہ ڈیٹا کافی بھیانک ہے۔ معروف برانڈ Next جس نے کورونا وبا کے دوران اپنی 60 فیصد فروخت آن لائن کی تھی، اس برانڈ کی حالیہ فروخت کے اعدادوشمار نے کمپنی کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا میں نفسیات کی پروفیسر Wendy Wood کہتی ہیں کہ آن لائن سیلز سے متعلق تخمینوں میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ لوگوں کی عادتیں بہت جلدی بدل جائیں گی، یہ سوچنا خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ شاپنگ مالز میں جا کر خریداری کرنا بذات خود ایک تفریح ہے۔
امریکہ میں دس بڑے ریٹیل سٹورز پر ہونی والی سٹڈی میں یہ بات سامنے آئی کہ سٹور وزٹ کرنے والے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب ڈیجیٹل سٹورز بھی سنجیدگی سے یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ فزیکل سٹورز اوپن کریں۔معروف ڈیجیٹل برانڈ Warbay Parker نے دو سو فزیکل سٹور اوپن کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صارفین کا فٹ فال بڑھانے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرئے گا۔
دنیا بھر کے ریٹیل اینالسٹ اب اپنے تجزئیے میں یہی بات کہہ رہے ہیں کہ صارف کا ذہن گھر سے باہر نکل کر خریداری کرنے کا ہے۔ آن لائن شاپنگ اب بوریت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ابھی ای کامرس کو ایک جھٹکا اس لیے بھی لگا ہے کہ لوگ گھروں میں پچھلے دوسال سے بند ہیں اور سب سے بڑا فیکٹر میری نظر میں ای کامرس کی بدترین ریٹرن پالیسی ہے- دو چار فیکٹرز اور بھی ہے جو ای کامرس کے عروج و زوال کا تعین کریں گے۔
اس تجزیاتی تحریر کے آئیڈیالوجی مندرجہ ذیل ذرائع سے لی گئی ہے۔
- The Market Watch Magazine
- Bloomberg Market
- The Economist Asia
- Consumer Report monthly


Good
ReplyDelete