عدالتوں کا آئینی رول انصاف مہیا کرنا ہے اور سیاسی و انتظامی کیسز سے اجتناب ضروری ہے۔
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
عدالتوں کا آئینی رول انصاف مہیا کرنا ہے اور سیاسی و انتظامی کیسز سے اجتناب ضروری ہے۔
ایک ایسا ملک جو ڈیفالٹ کرنے کے دہانے پہ کھڑا ہے ۔اور اس کی انتظامیہ ،ائینی ادارے ،عسکری اسٹیبلشمنٹ اتنی نان سیریس ہو سکتی ہے کہ جو دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ جو ڈرامہ پورٹریٹ ہو رہا ہے ۔اس کے تانے بانے 2014 سے شروع ہوتے ہیں۔ 2014 سے 2018 کے دوران مملکت خداداد کے ساتھ اس ملک کی عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا ہے کیا اس کا کوئی جواز تھا ۔؟
ہم جیسے 2018 کے الیکشن میں ڈیوٹی دینے والے لوگ پہلے دن سے چینخ چینخ کر کہہ رہے تھے کہ پولیٹیکل مینیجمینٹ کے لیے کسی ایک جماعت کی بے جا سپورٹ حالات خراب کر دے گی۔ سیاسی کینوس پہ توازن ضروری ہوتا ہے مگر اس توازن کو بگاڑنے میں عدالت عظمٰی کا کردار واضح نظر آتا ہے۔ پہلے تو عمران خان کو غیر ضروری ، آئین پاکستان سے انحراف کرتے ہوئے سپورٹ کیا گیا اور اس کی حکومت بنوائی گئی۔ پھر ساڑھے تین سال تک ہر طرح کی جائز و ناجائز سپورٹ کرکے اس پارٹی کو من مانی کرنے روش ڈال دی گئی۔ اور یہ بات ہر زبان زد عام تھی کہ آئینی اداروں کی مکمل آشیرباد حاصل تھی پاکستان تحریک انصاف کو ۔۔۔
پہلے تو جب اسے لے آئے تھے تو پانچ سال پورے کرنے دینا چاہئیے تھا۔ مگر وہی 360ڈگری کا یوٹرن اور ساڑھے تین سال میں فارغ کر دیا گیا جو کہ اسٹیبلشمنٹ اور آئینی اداروں کا دوسرا بلنڈر تھا۔۔۔۔ او خدا کے بندو ۔۔۔ان حالات میں جب کہ حکومتیں لباس کی طرح تبدیل ہونگی تو کونسا بین الاقوامی فنانشیل انسٹیٹیوٹ آپ کے ساتھ چلنا چاہے گا۔ آج کے دور کی معیشی ترقی سیاسی استحکام اور کنسسٹنٹ پالیسیز کے ساتھ کڑی ہوئی ہے ۔ اور اب اگر عمران خان کو اتار دیا تھا تو شہباز شریف کو مکمل اختیار دو تاکہ معیشیت کی بحالی کے لیے ناگزیر فیصلے بے دھڑک کیے جاسکیں۔ مگر وہی پرانی روش ۔۔۔۔ ایک طرف ن لیگ اور دوسری اتحادی جماعتوں سے مشکل فیصلے کروا رہے ہیں اور دوسری طرف ان کو ایک غلط عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تحت الیکشن میں دھکا دے دیا گیا ۔۔۔۔ تو یہی فیصلہ آنا تھا کہ جو 17 مئی 2022 کو ایا۔
اب ملک کے اندر ایک تناؤ کی کنڈیشن ہے۔ لوگ سیاسی اور نظریاتی طور پہ تقسیم ہیں ۔اور یہ حالات ملکی وحدت اور پروڈکٹیویٹی کے لیے بہت نقصان دہ ہوتے ہیں ۔
اکثریت پرویز الہی کے پاس ہے،دوسری طرف آئینی اور جمہوری تقاضا ہےکہ وہی وزیراعلی بنیں۔کوئی بھی ایڈویچر ن لیگ کی سیاست کے لیےڈیمیجنگ ہو گا۔اگرچہ خان صاحب سینٹ میں اکثریتی امیدوار حاصل بزنجو مرحوم کو اسی طرح ایڈونچر کر کے ہرواچکے ہیں لیکن آج ریپیٹ ہونے کی صورت ملک کو سری لنکا بنتےدیکھ رہے ہیں۔
جو احباب یہ تاویل پیش کررہے ہیں کہ پارلیمانی لیڈر پرویز الہی ہیں انکی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ آئین میں پارٹی کے سربراہ کا ذکر ہے چنانچہ چوہدری شجاعت کا خط حتمی ہے اب خود پرویز الہی بھی اپنے آپ کو ووٹ نہیں دے سکتے اگر ایسا کیا تو نہ صرف یہ کہ ووٹ نہیں شمار ہوگا بلکہ نااہل بھی ہونگے۔
قانون دان جیسے کہ عابد حسن منٹو نے خبردار کیا تھا سپریم کورٹ کو, کے پارٹی سربراہ کو اتنا اختیار مت دیں کہ وہ فرعون بن جائے.آج ایک منتخب رکن اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ووٹ بھی نہیں ڈال سکتا.اس وقت PTI خوش تھی جب فیصلہ ان کے حق میں آیا تھااور آج وہی رولنگ گلے پڑ گئی تو افسوس ہو رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا 63 اے کی تشریح غلط فیصلہ تھا کیونکہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آج جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ یے۔ شاید وہ اس وقت کسی خاص جماعت کو فائدہ دینا چاہتے تھے لیکن فیصلہ اسی جماعت کے گلے پڑھ گیا!۔
تریسٹھ اے کے تفصیلی اور اکثریتی فیصلے کی اب بتی بنا لی جائے، تین معزز ججوں کے پاس ٹی وی دیکھنے سے فرصت ہوتی اور تفصیلی فیصلہ لکھ لیا جاتا تو یہ بحران نہ ہوتا، جب جج سیاست میں گھستے ہیں تو سیاستدان عدالت میں،
اپنی نااہلی کا تماشہ ٹی وی سکرینوں پر دیکھنے والے منصفوں کو کیا نام دیا جائے۔
اب معزز سپریم کورٹ کے پاس ایک ہی راہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی میں پارٹی ہیڈ کے فیصلے کو آئینی، قانونی اور بالادست قرار دے اور باقی جماعتوں میں ارکان اسمبلی کے۔
ورنہ یہ ہو نہیں سکتا کہ بطور پارٹی ہیڈ عمران خان جو فیصلہ کر سکتے ہوں وہی اختیار بطور پارٹی ہیڈ چوہدری شجاعت حسین کے پاس نہ ہو۔۔۔۔
اگر سپریم کورٹ اپنا 63 اے پر غیرآئینی، غیرجمہوری فیصلہ واپس لے لیتی ہے تو کیا پھر 25 منحرف اراکین واپس آئیں گے یا سپریم کورٹ ایک مرتبہ پھر PTI کیلئے راستہ ہموار کرنے کی خاطر کوئی نیا آمرانہ فیصلہ کریگی؟
تاریخ گواہ ہے کہ2016 سےلیکر آج تک چند جرنیل اورچند جج ہی PTI کو چلا رہےہیں۔۔۔
ساڑھے تین ماہ پہلے تحریک انصاف کہتی رہی کہ پارلیمان کی کارروائی میں مداخلت کااختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں،ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کی رولنگ کومستردکرنےکااختیارنہیں۔آج وہی تحریک انصاف سپریم کورٹ سےڈپٹی اسپیکرپنجاب کی رولنگ کومسترد کرنےکامطالبہ کررہی ہے۔۔
آئین نے اسپیکر کو رکن اسمبلی کا ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا تھا یہ اختیار سپریم کورٹ نے دیا اور ق لیگ کے وکیل اظہر صدیق کے دلائل پر دیا ۔ ہم پہلے بھی دو فاضل جج صاحبان کی رائے کے ساتھ تھے جنہوں نے کہا یہ آئین میں ترمیم کرناہے جو اختیار سپریم کورٹ کا نہیں ۔
جب سے خیالی تنخواہ نہ لینے پر سپریم کورٹ نے کالے قانون کے تحت منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت ختم اس دن سے پاکستان سنبھلا نہیں ۔ ججز اور جرنیل پیچھے ہٹ جائیں اب۔ بہت بربادی پھیلا دی آپ نے۔۔۔۔۔
موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں تو یہی لگتا ہے کہایک دن آئے گا کہ وزیر اعلی کے الیکشن سپریم کورٹ کے مقرر کردہ نگران جج کی نگرانی میں کرائے جائینگے اور پھر اسمبلیوں کی کاروائی بھی معزز ججز حضرات چلائیں گے۔ خدا کا خوف کریں اور اپنی ڈومین میں رہیں اور جس کا جو کام ہے اسے وہی کرنا چاہئیے۔ دوسرے کے آئینی رول کو بلڈوز نہ کریں اور نہ سوسائٹی کو اپنے غلط اصولوں پر چلانے کی کوشش کریں۔
پرویز الٰہی پی ڈی ایم کی طرف سے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے جب انہیں عمران خان نے الیکشن کی رات ”توڑ“ کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ وہ جائز تھا؟
آج اگر پی ڈی ایم نے ق لیگ کے سربراہ جو کہ وفاق میں حکومتی اتحادی بھی ہے کو قائل کرکے اپنے ساتھ ملا لیا ہے تو غیر آئینی اقدام ہو گیا! آپ کی دلیل کو 21 توپوں کی سلامی...
عکس عکس گماں گماں خیال سارے مسترد
تُو نہیں تو کچھ نہیں سارے سہارے مسترد
سارا ملبہ سیاستدانوں پہ ڈالنے کی بجائے عدالتوں کی اپنی اداؤں پہ زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی ججوں نے معاشرے میں جو عدالتوں کا، ان کے فیصلوں کا احترام ہونا چاہئیے ،ختم کر دیا ہے۔ عدلیہ کے کمزور اور کنفیوز فیصلوں کی وجہ سے سوسائٹی میں جو غیر یقینی صورتحال ہے ۔ اس کا اثر معیشیت، اقتصادیات، معاشرے کی تقسیم اور افراتفری کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ 2023 کے آخر میں شہباز شریف وزیراعظم نہیں ہو گا ۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ آرمی چیف رہے گا یا چلا جائے گا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت چیف جسٹس کون ہو گا ۔ سوسائٹی کا یہ جو مبہم بیانیہ ہے یا عمومی غالب رائے، اس کو ختم کرنے کے لیے عدلیہ ایک لارجر فل کورٹ بینچ تشکیل دے اور پچھلے دس سالوں کے سارے سیاسی فیصلوں کو ریویو کرے ۔لارجر پیمانے پر عوامی کنسینسز پیدا کیا جائے۔
تاریخ کا اپنا سبق ہوتا یے۔اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
ابھی طاقت نہیں ملی تھی مگر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اوقات سے باہر ہو گئے تھے۔ کوئی وزیر اعظم کو سی ڈی اے کا وزیراعظم کہہ رہا تھا۔ کوئی پولیس کے عہدے داروں اور چیف سیکرٹری کو تڑیاں لگا رہا تھا۔ جگتیں ، ٹٹھے، مزاق اور مغرور ہو گئے تھے ۔۔۔۔
اب فکر کریں کہ جو رانا ثناء اللہ خان کا رد عمل ہو گا اسے بھی ذہن میں رکھیں۔ سیاسی قوتوں نے انتہا پسندی کا جواب دینے کی پالیسی بنا لی ہے۔ بغیر تیاری اور ذہن سازی کے یہ سٹیپ نہیں لیا گیا ۔ میرے خیال میں اب پاکستان تحریک انصاف مدلل اور مناسب طرز عمل اختیار کرے ۔۔۔۔ اب اینٹ کا جواب پتھر دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ حکومتی رد عمل سے میرے کہیے کا ثبوت مل جائے گا۔

سر موجودگی حالات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے ماشاءاللہ
ReplyDelete