عدالتی سیوموٹو ۔۔۔ جیوڈیشل ایکٹوزم ۔۔۔ پانامہ جے آئی ٹی پارٹ ٹو

 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی

جیوڈیشل ایکٹوزم ۔۔۔ پانامہ جے آئی ٹی پارٹ ٹو


‏مولانا فضل الرحمٰن صاحب ، خورشید شاہ صاحب اور محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے اپنی تقاریر میں نہایت اھم سوالات اٹھاۓ ھیں جو ھرپاکستانی کے دل کی آواز ھیں 

حکومت کے خلاف چیف جسٹس کے از خود نوٹس میں کہا گیا ہے “ احتساب قوانین میں تبدیلی نظام انصاف کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے “ یہ بات تبھی مانی جا سکتی ہے جب ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا اختیار بھی نیب کو مل جائے ، 74 سالوں میں ثابت ہوچکا کوئی ادارہ اپنا احتساب خود نہیں کرسکتا.

‏کیا یہ ذیادہ بہتر نہ ہوتا کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لینے کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹس سے پراسیکویشن ٹیم کی تبدیلی پر رپورٹ طلب کرتی ؟ کیونکہ ٹرائیل کورٹس متعلقہ ہائیکورٹ کے برائے راست ماتحت ہوتیں ہیں

پاکستان کے کریمنل جوڈیشل سسٹم کو اصل خطرہ نیب جیسے کالے قوانین، جانبدارانہ اور انتقامی پراسیکیوشن، عدلیہ پر سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ ، سیلیکٹڈ ججز اورنظریۂِ ضرورت کے تحت کئے جانیوالے فیصلوں سے ھے ۔

‏بُزدلی دکھانے کی بجائے اگریسو ہوکر سیاست اور حکومت کرنے کا وقت ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بُلا کر ایک قرارداد پاس کی جائے کہ آئین میں عدلیہ،مقننہ اور انتظامیہ کا الگ الگ کردار واضع ہے لہذا کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرسکتا اور نہ مداخلت برداشت کی جائے گی اور ہر ادارے کو اپنی اپنی آئینی حدود میں رہنا ھوگا۔

‏اگر انتظامی اموربھی عدالتوں نے چلانےہیں یعنی ایگزیکٹوز کے دائرہ کار میں مداخلت کرنی ہے توپارلیمنٹ کوتالالگاکر سیاستدان خودکوگرفتاری کے لیے پیش کردیں.

 اس ملک میں جب تک ججز اور جرنیلوں کے احتساب کا عمل شروع نہیں ہو گا یہ ملک انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہے گا. پانامہ ججز کا از خود نوٹس معاشی بد حالی کی سازش ہے۔

‏سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس کرکے جواب طلب کیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیس میں تفتیشی افسران کیوں بدلے گئے ہیں البتہ ایک سوال کا جواب سپریم کورٹ نے نہیں دیا کہ 17 ججز میں سے جسٹس اعجاز الاحسن کیوں نہیں بدلا گیا کہ ہر سوموٹو بینچ میں ھوتا ہے .

‏نیوٹرل متحرک ہوچکے،ڈوبتے جہاز کے عرشے پرکھڑےکنفیوژن کا شکارکپتان میں برقت فیصلے کرنے کی ہمت ہوتوفوری طورپر یہ کہتے ہوئے حکومت چھوڑ دیں،اسمبلی تحلیل کردیں کہ انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت قبول نہیں،ہم نے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یا دوسری صورت میں بولڈ فیصلے کریں اور دل بڑا کر کے عمران خان اور اس کے ہینڈلرز سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں۔

چیف جسٹس پاکستان اپنی مرضی سے بنچ تشکیل دیتا ہے ۔اور ان میں صرف وہی ججز شامل ہوتے ہیں جن کی اجازت مقتدر ٹرائیکا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔

‏چیف جسٹس بنے قریبا پانچ ماہ ہو چکے لاتعداد بینچ تشکیل دئیے لیکن کسی بھی بینچ میں جسٹس فائز عیسی جو کہ سیکنڈ موسٹ سینئیر جج ہیں موجودہ سپریم کورٹ میں، کو شامل نہیں کیا اور حالیہ صدارتی ریفرینس میں اختلاف کرنے والے ججز بھی ازخود نوٹس بینچ میں شامل نہیں

یہی وہ نظام ہے کہ جس کی میں مخالفت ہمیشہ کرتا ہوں ۔ جب بھی نواز شریف یا آصف علی زرداری کے خلاف کسی قسم کا کیس ہوگا تو دو ججز ۔۔۔۔ جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منیب اختر لازمی بنچ میں شامل ہوتے ہیں۔ پہلے یہ رول پی سی او زدہ جسٹس عظمت سعید شیخ کے پاس تھا ۔ پچھلے پانچ سال کی بنچز کی تشکیل دیکھ لیں ۔۔۔ میری بات کی تصدیق ہو جائے گی ۔

‏اب اگر کہا جائے کہ تقرر اور تبادلے نہ کرو، ہاتھ پاؤں باندھ کر کہا جائے کہ فیصلے کرو تو ملک کیسے چلے گا، دو  متوازی دو حکومتیں نہیں چل سکتیں، یعنی ریاست کے اندر ریاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔کسی کو شوق ہے اگر تو آکر خود ملک چلائے، ورنہ رکاوٹ نہ ڈالے.

‏ابھی عدالت نے آنکھ دکھائی ھے۔ مسئلہ تو تب ہو گا جب نیب یا ایف آئی اے کسی ہینڈلر کے کہنے پہ اپنے وزیر اعظم کو طلب کرے گا۔۔۔🤔

کمزور کا مقدر ذلت ھے۔۔موجودہ سیاسی قیادت مزاحمت کرنا سیکھے اور عمران خان اور مریم نواز کی پالیسی پہ چلے، ڈٹ کر چلے۔۔۔سب سیدھے ہو جائیں گے یہ سارے۔۔۔۔۔۔عدالت بلائے یا نیب لاؤ لشکر سمیت جاو، ڈٹ کر بیان دو اورخوب مقابلہ کرو!

مریم نواز اسی راستے پہ جس پہ نواز شریف ہے۔۔۔۔

سیاسی اقابرین کو اب مصلحت اور مصالحت کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ نواز شریف ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرتے رہے ہیں اس وقت ان کی ڈائریکشن غلط تھی مگر تاریخ اور حالات کے جبر نے انہیں تاریخ کی صحیح سمت میں لا کھڑا کیا۔ تو اب میچوریٹی کا ثبوت دینا ہو گا۔جھنڈے والی گاڑیوں کے آرام اور تعیش سے نکلنا ہو گا۔ اپنے لہجے کو بلند آہنگ کرنا ہو گا۔ اسی طرز سیاست کو مروج کرنا ہو گا جو نواز شریف نے پچھلے ساڑھے تین سال پہلے شروع کی تھی یا ذولفقار علی بھٹو کی جو پہچان رہی ۔اور جس کو صحیح معنوں میں مریم نواز لیکر چل سکتی ہیں۔ یاد رکھیں عمران خان کی چیری دستیوں کا توڑ صرف مریم کرے گی۔ اسی انداز کو اپنانا ہو گا جس نے پنجاب کو شعور دیا۔ اسی بیانیے کو اپنانا ہو گا جس نے ’ووٹ کی عزت‘ کا مطالبہ زباں زد عام کیا۔  

عمران خان کے مصنوعی بیانیے کا حل نرمی خوئی نہیں رہی۔ عمران خان کے انتشار پسند بیانیے کا حل مصلحت نہیں رہی۔ اس کے جواب میں اب کھل کر کھیلنا ہو گا۔ اب دبنگ لہجے میں بات کرنی ہو گی۔ اب ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔

‏"جب لاپتہ افراد بازیاب ہو کر گھر پہنچتے ہیں تو عدالتیں (سو موٹو کے ذریعے) کیوں نہیں پوچھتیں کہ کہاں سے آئے ہو؟"

‏ عمران خان نے پانچ آئی جی پولیس تبدیل کیے مگر عطا بندیال نے از خود نوٹس نہیں لیا اور نہ مظاہر نقوی نے کوئی پرچی بھیجی، پی ٹی آئی کو مکمل استثنیٰ حاصل تھی

عاصم سلیم باجوہ پر شدید نوعیت کے الزامات کرپشن کے حوالے سے لگے۔نہ کوئی تحقیق ہوئی اور نہ پوچھ گچھ۔اور تو اور نہ کوئی اس حوالے سے سیوموٹو ایکشن ہوا۔

 کرونا بحران کےدوران ویکسین کی خریداری کے حوالے سے چئیر مین این ڈی ایم اے لیفٹینینٹ محمد افضل پہ شدید نوعیت کے کرپشن الزامات لگے مگر کوئی سیوموٹو نوٹس نہ ہوا۔

سابقہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان پہ ان ریکارڈ الزامات لگائے کہ اسے آفس بلاکر اپوزیشن پہ جھوٹے مقدمات بنانے کا کہا گیا۔سیوموٹو نوٹس نے شاید ستو پئے ہوئے تھے۔

‎‏گزشتہ چار سال دوران صرف پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں ہوئی۔آئی جی تبدیل ہوئے ، گزشتہ چار سال میں وقار سیٹھ ارشد ملک مشکوک طریقہ سے اگلے جہاں پہنچائے گئے ، گزشتہ چار سال میں 68 آرڈیننس جاری ہوئے ، گزشتہ چار سال میں زلفی بخاری جیسوں کے نام تین منٹ میں ای سی ایل سے نکالے گئے

تب ازخود نوٹس نہیں ہوا؟

‏امریکی صدر عہدہ سنبھالتا ہے تو تیس ہزار لوگوں کی پوسٹنگ ٹرانسفر ہوتی ہیں۔ یہ امریکہ میں معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی نیا چیف ایگزیکٹو آتا ہے تو اپنی پسند کی انتظامی مشینری لگانا اس کا استحقاق ہے۔یہ مینڈیٹ اس کو عوام نے تفویض کیا ہوتا ہے۔وہ اسی کو اپوائینٹ کرتا ہے جس کو مناسب سمجھتا ہے۔ پاکستان میں چار سال تو سیوموٹو نوٹس ہوا نہیں، اتحادی حکومت آئی تو سو موٹو کی درد شروع ہوگئی۔۔پراجیکٹ عمران خان جل گیا مگر اس پراجیکٹ کو ڈرافٹ کرنے والوں کی تکلیف ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔اور پالنہاروں کے کس بل نہیں نکلے۔

پاکستان کے مقتدر ادارے اس سیاسی میچ میں وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ آپ کچھ بھی اندازہ نہیں کر سکتے کہ ان کا اگلا موو کیا ہو گا۔

‏یہ صدارتی نظام کی دلہن لانے کیلئیے پارلیمانی نظام کی خاتون خانہ کا سامان گھر سے باہر پھینک رہے ہیں، اس کا تجربہ ایوب دور، جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور خود ساختہ بہادر جنرل مشرف کے دور میں بھی ہو چکا ہے۔ اتنی گھناؤنی سازش کے اشارے صدر، گورنر پنجاب، سپیکر پنجاب اسمبلی، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور اب سپریم کورٹ کے ۶۳ اے اور احتساب کے عمل میں مبینہ مداخلت والے سیوموٹو اقدامات سے عیاں ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟