جب تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے
تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
پاکستان کے موجودہ سیاسی و آئینی بحران میں مقتدرہ کا چومکھی رول، عدلیہ کی قلا بازیاں ، سیاسی قیادت کے خلاف میڈیا وار کے تناظر میں ایک زبردست تجزیاتی تحریر
پاکستان ہمیشہ کی طرح اپنی تاریخ کے نازک موڑ پہ ۔۔🤔
جب تاج اچھالے جائیں گے
جب تخت گرائے جائیں گے
تب راج کرے گی خلق خدا
اور نام رہےگا بس اللہ کا
پاکستان میں پاور پالیٹکس ہو رہی ہے۔ طاقت کے دو مراکز ہونے سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہونچ چکا ہے۔ ایک مرکز اصلی (De-facto)اور دوسرا دکھانے (De-jure) کا- کاش کبھی ایک پارٹی اور لیڈر اور کبھی دوسری پارٹی اور لیڈر کی محبت کے گیت گانے والے خرابی کے اس بنیادی سبب کو سمجھیں اور اس کا تدارک کریں۔ باقی سب مایا ہے۔
موجودہ یاسی حالات کا ڈاکٹرائن جس نے بھی لکھا تھا یا پورٹرے کیا ۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات اس کے ساتھ میل نہیں کھا رہے اور جو چیز ذہن میں رکھ کر خان کی حکومت ختم کی گئی یا کروائی گئی تھی ۔ اس پہ اتحادی حکومت کی فیصلہ سازی کی ستی نے یا جان بوجھ کر Delay کرنے نے ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ہرکاروں کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ نواز شریف نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی کابینہ کو لندن بلا کر جو تقریباً ایک ہفتہ فیصلہ سازی کو ملتوی کروایا یا دیر کروائی ۔۔۔ اس سے اس ساری سیچویشن کو سمجھنے میں قوم کو بڑی آسانی ہو جائے گی ۔
اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ میں موجود ہینڈلرز کو شاید امید نہیں تھی کہ نواز شریف، شہباز شریف ، زرداری اور مولانا فضل الرحمان معاملات کو اور خراب اور مشکل معاشی فیصلوں کو اتنا لٹکائیں گے۔ تو اسٹیبلشمنٹ کا صبر جواب دے گیا اور کھیل خراب ہونے کا احتمال دیکھ کر عدالت عظمیٰ کو حرکت میں لایا گیا ہے تا کہ اتحادی حکومت پر دباؤ بڑھا کر ان سے ناپسندیدگی پہ مشتمل سخت اکنامک فیصلے کروائے جائیں۔ تاکہ ان کا بوجھ بھی یہی سیاسی جماعتوں کے کندھوں پر اجائے ۔ ابھی ایک دو دنوں میں ساری گھتیاں سلجھنا شروع ہو جائیں گی کیونکہ جو حالات اس وقت ملکی اقتصادی معاملات کے ہیں۔ وہ کوئی لیوریج نہیں دے رہے ۔اور زیادہ انتظار مقتدر حلقوں سے ہو نہیں سکے گا۔
قوم کو بھی اور اس ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کو ایک چیز ذہن میں بٹھا لینی چاہییے کہ موجودہ دستیاب سیاسی قوتوں سے ہی تقریباً دس سال کام لینا پڑے گا جب تک وہ کسی اور ہائیبرڈ سیاسی قوت کا انتظام نہیں کر لیتی۔ تبدیلی پراجیکٹ کو اسی طرح لانچ کیا گیا تھا۔ مگر اس سے انہیں سخت ری ایکشن کی توقع نہیں تھی۔ ابھی تو مقتدرہ نواز شریف کے لگائے زخم ہی نہیں بھولے تھے کہ اب عمران خان کی دھواں دھار باؤلنگ نے ان کو آدھ مواء کر دیا ہے۔ پرانی سیاسی جماعتوں کی آئینی و سیاسی بصیرت اور اور عمران خان کی جارحانہ تقاریر شاید مقتدرہ کو زیادہ دیر چپ نہیں رہنے دے گی۔ ۔۔۔ مگر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اب حالات چھ سات سال پہلے والے نہیں ہیں۔ مقتدرہ کو بیک فٹ پہ جانے میں پہلا رول میاں نواز شریف اور مریم نواز کا تھا۔ قوم ابھی گجرانوالہ جلسے کو نہیں بھولی ہو گی کہ جب نواز شریف نے کھل کر ان آفیسرز کا نام لیا تھا کہ جو اس سارے ڈرامے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ اب تو حالات اور سخت ہو گئے ہیں۔ اور اگر فرض کریں کہ اتحادی حکومت بھی ڈنکے کی چوٹ پہ اسٹیبلشمنٹ کی بات ماننے سے انکار کر دے ۔ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر کوئی ایسا ایکٹ نہ کیا جائے کہ عوامی مشکلات میں کسی قسم کا اصافہ ہو۔ سارے اقتصادی معاملات اور موجودہ صورت حال پہ عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔
دس سالہ رولنگ ڈاکٹرائن ڈیزائن کرنے والوں کو شاید امید نہیں تھی کہ سارا سٹیج یوں دھڑام سے گر جائے گا۔ ان پلان پہلے دس سال عمران کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرنے کا تھا مگر جب دیکھا کہ حالات و واقعات تبدیل ہو گئے ہیں تو قرہ فال شہباز شریف کے نام نکلا کیونکہ نواز شریف کو تو پہلے ہی سسٹم سے باہر کیا جا چکا ہے۔ مگر یاد رکھیں کہ سیاستدان کی طاقت عوامی حمایت ہوتی ہے جو اسے ڈٹ کے کھڑے ہونا کا حوصلہ دیتی ہے اور اسی عوام کا احتساب اسے غیر مقبول سیاسی فیصلوں سے روکتا بھی ہے۔ کب تک سیاسی کلاس پس پردہ رہ کر ملکی نظام پہ قابض ٹرائیکا کے غلط فیصلوں، کرپشن ، اختیارات سے تجاوز اور اقتصادی تباہ کاریوں کا بوجھ وسیع تر قومی تناظر ثاٹھاتے رہیں گے۔ سیاستدانوں کو بھی اب اقتدار اور کرسی کے محبت سے باہر آنا ہوگا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کا بوجھ بھٹو نے اٹھایا، کارگل کی جنگ کے ایڈونچر کا بوجھ نواز شریف نے اٹھایا، اور مشرف دور کی اسٹیبلشمنٹ کی زیاں کاریوں کا بوجھ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اٹھانا پڑا، اب سیاستدان مزید آپ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے،اگر نیوٹرل ہونے کا اعلان کر رہے ہو تو ثابت بھی کرنا ہو گا اور آئین کے تابع ہونا پڑے گا ۔ کیسیز کا سامنا کرنا ہو گا کہ جنہوں نے آئین پاکستان کی حد بندیوں سے تجاوز کیا ہے۔ اب ایسا نہیں ہو گا کہ سیاستدان دن رات محنت کر کہ معیشت سنبھالیں اور آپ پھر کوئی میمو گیٹ سکینڈل، ڈان لیکس، اقامہ یا پانامہ کی شکل میں نیا ایڈونچر لیکر میرے عزیز ہموطنو بول کر بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت میں آ جائیں آپ پہلے بھی 4بار اور پانچویں بار عمران خان کی شکل میں حکومت کر چکے لیکن معیشت سنبھالنا آپ کہ بس کی بات نہیں اس لئے اگر ملک بچانا ہے تو سب آئین کہ تابع ہو نا پڑے گا۔
جاو قوم کہ سامنے اپنی دیدہ اور نادیدہ غلطیوں کا اعتراف کرو عدالتوں کا سامنا کرو اور آئندہ سے سیاست میں نا آنے کا معاہدہ کرو
اگر منظور ہے تو پھر سیاسی کلاس محنت بھی کریے گی سخت فیصلے بھی کریں گی اور انشاءاللہ معیشت بھی سنبھالے گے
حالیہ لندن میں ہونے والی بیٹھک سے اخز کردہ نواز شریف کا اسٹبلشمنٹ کو دو ٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے اب اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا اور جن لوگوں سے بلندرز ہوئے ہیں ان کو عوام کے سامنے جاکر اعتراف اور معافی مانگنی ہو گی۔
جب اطہر من اللہ نے پر پرزے نکالے اور حنیف عباسی کو سپیشل اسسٹنٹ کے رول سے روکا تب ہی قوم کو سمجھ آ گیا کہ کیا ڈرامہ شروع ہونے لگا ہے آج سپریم کورٹ جاگ گئی ہے انتظامی معملات میں دوبارہ سے دخل اندازی کرنے کے لیے ۔
تب بھی ن لیگوالوں کو آئین و قانون سوجھا تھا اب سمجھ آ گئی ہوگی۔
ملک دیوالیہ ہونے والا ہے ،قوم کا مہنگائی اور افراط زر نے بھرکس نکال دیا ہے۔ ان بے شرموں کے ڈرامے چیک کرو ۔
بھئی سادہ سی بات ہے کہ
پی ڈی ایم نے میر جعفر کے کہنے پر جلد الیکشن کرانے سے انکار کردیا ہے،کاونٹر کرنے کے لیے اس نے سووموٹو کنپٹی پر رکھ دی ۔
عدالتوں سے ڈرنے کی بجائے ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ بے نقاب ہونے چاہئیں - اب یہ کھیل زیادہ دیر چلنے والا نہیں اور ان کھیل تماشہ والوں کو عوام کے سامنے پیش کریں- اب نہیں کبھی نہیں- اس وقت کا حکومتی اتحاد یہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔
ویسے میری نظر میں یہ وقت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت بہترین ہے کہ عمران خان کی اگریسو سیاست سے اور نواز شریف کی
Delaying Tactics in decision making
سے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پریشر میں ہے اور دباؤ میں غلطیاں کر رہی یے۔ یہ ٹائم بہت اچھا ہے اگر سیاست دان اکٹھے ہو جائیں اور اپنے کھوئے ہوئے اختیارات دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
باقی اللہ تعالیٰ بہتر علم رکھنے والا ہے۔
یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ عمران خان غصے میں اور نواز شریف کیلکولیڈڈ ماسٹر سٹروک کھیل کر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے مکروہ دھندوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
حکومت کے خلاف چیف جسٹس کے از خود نوٹس میں کہا گیا ہے “ احتساب قوانین میں تبدیلی نظام انصاف کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے “ یہ بات تبھی مانی جا سکتی ہے جب ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کا اختیار بھی نیب کو مل جائے ، 74 سالوں میں ثابت ہوچکا کوئی ادارہ اپنا احتساب خود نہیں کرسکتا.
کیا یہ ذیادہ بہتر نہ ہوتا کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لینے کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹس سے پراسیکویشن ٹیم کی تبدیلی پر رپورٹ طلب کرتی ؟ کیونکہ ٹرائیل کورٹس متعلقہ ہائیکورٹ کے برائے راست ماتحت ہوتیں ہیں۔
ابھی قوم “مداخلت” اور “سازش “ کے فرق کو اچھی طرح جان نہیں پائی کہ
عدالت نے “فیصلے “اور “رائے “کے مابین فرق کے چکر میں قوم کو ڈال دیا ....
اگر انتظامی اموربھی عدالتوں نے چلانےہیں یعنی ایگزیکٹوز کے دائرہ کار میں مداخلت کرنی ہے توپارلیمنٹ کوتالالگاکر سیاستدان خودکوگرفتاری کے لیے پیش کردیں.
اس ملک میں جب تک ججز اور جرنیلوں کے احتساب کا عمل شروع نہیں ہو گا یہ ملک انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہے گا. پانامہ ججز کا از خود نوٹس معاشی بد حالی کی سازش ہے۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس کرکے جواب طلب کیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیس میں تفتیشی افسران کیوں بدلے گئے ہیں البتہ ایک سوال کا جواب سپریم کورٹ نے نہیں دیا کہ 17 ججز میں سے جسٹس اعجاز الاحسن کیوں نہیں بدلا گیا کہ ہر سوموٹو بینچ میں ھوتا ہے .
نیوٹرل متحرک ہوچکے،ڈوبتےجہاز کے عرشے پرکھڑےکنفیوژن کا شکارکپتان میں برقت فیصلے کرنے کی ہمت ہوتوفوری طورپر یہ کہتے ہوئے حکومت چھوڑ دیں،اسمبلی تحلیل کردیں کہ انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت قبول نہیں،ہم نے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یا دوسری صورت میں بولڈ فیصلے کریں اور دل بڑا کر کے عمران خان اور اس کے ہینڈلرز سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں۔
قوم کو اب سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہتھوڑے والوں، بوٹ والوں، چھاتہ بردار سیاستدانوں اور محکمہ زراعت والوں کے چنگل سے ملک کیسے بچانا ہے ۔


Comments
Post a Comment