پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی

موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال میں قومی ملکی منظرنامہ


‏انسان کے باشعور ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ ہر وابستگی کو پسِ پشت رکھ کر، غلط کو غلط اور درست کو درست کہے۔اپنوں کی برائی کی تاویلیں اور غیروں کی اچھائی میں کِیڑے نہ تلاش کرے۔ مگر یہاں آپ کی اس مخلصانہ کاوش کو بھی سیاسی طرف داری یا تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سچائی اور زمینی حقائق پہ مشتمل تجزیہ نہیں بلکہ لوگ وہی بات سننا چاہتے ہیں جو ان کے موقف کو سپورٹ کرے۔ اختلاف رائے کی گنجائش رکھتے ہی نہیں کہ جو سوچ اور نظریات کو سدھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دو مختلف مکتبہ فکر کے درمیان مکالمہ اور منطقی دلائل درپیش حالات اور مشکلات کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ گفتکو میں یہی اصول کارفرما ہونا چاہئیے۔

 ‏اگر ہم تحریک انصاف کے کسی ورکر یا رہنما سے شرط لگا لیں کہ وہ چند منٹ بغیر کسی پر الزام لگائے گفتگو کرے تو ہم دو منٹ میں ہی شرط جیت جائیں گے۔۔۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پی ٹی آئی کے پاس مخالفین کو چور چور کہنے کے سوا کچھ نہیں ہے مگر یہ طے ہے کہ ساڑھے تین سال میں جبکہ تمام احتسابی اداروں بشمول عدلیہ ، نیب ۔ FIA اور دیگر ایجنسیز کی سپورٹ ہونے، یہ ثابت کچھ نہ کر سکے۔ مگر انہیں گوئیبلز کے سوچ کی طرز پہ جھوٹ کی تکرار کر کے اسے سچ ثابت کروانے کا ہنر بتا دیا گیا ہے جو قابل مزمت طرز فکر ہے۔اس طرح کی غیر منطقی روش کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں کسی بھی تجزیہ کار کے لیے نیوٹرل رہنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے اگر وہ ایک ایسا تجزیہ کر دیتا ہے جو کہ فریقین میں سے کسی ایک کو بھی سپورٹ نہیں کرتا یا پسند نہیں آتا ۔۔۔ تو وہ جانبدار کہلاتا ہے۔

تجزیہ نگار سب سے پہلے درپیش حالات اور دستیاب آپشنز کی بنیاد پہ اندازہ لگاتا ہے کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں ۔ مگر ماضی کے حالات اور تجربات مسقبل بینی کرنے میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں جبکہ اخلاقیات کی بنیاد پہ کیا ہونا چاہیئے اور کیا نہیں ، اس کی باری بعد میں آتی ہے۔ اگر ملکی سیاسی کینوس پہ نظر دوڑائیں تو منکشف ہو گا اخلاقیات صرف اسے لوگ کہیں گے کہ جو ان کی سوچ کا تسلسل ہو ۔

پہلے پی ٹی آئی کی لڑائی سیاسی جماعتوں تک محدود تھی۔ پھر یہی لڑائی میڈیا تک پھیلا دی گئی۔میڈیا کی تقسیم نے بھی موجودہ حالات کی آبیاری کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے وقت کھل کر سامنے آئے ۔۔۔اوراب عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ کو بھی عدالتی حکم عدولی سے بھی مخالفت میں شامل کر لیا گیا ۔۔۔۔۔ 

تو مجھے بتائے کہ کونسا پاور پلئیر آج عمران خان کے ساتھ ہے ۔۔۔۔ کم از کم عوام کو پاور پلئیر ماننے کو تیار نہیں ہوں ۔۔۔عوام تو خود نظریاتی طور پہ تقسیم کا شکار ہے۔ اور اپنی سوچ کی ترویج دھڑلے سے اور بزور قوت منوانا چاہتی ہے۔

کیا ہو رہا ہے یہ تجزیہ ہے مگر کیا ہونا چاہیئے یہ آپ کی رائے ہو گی۔ یہ ضروری نہیں کہ آپکے تجزیے اور رائے میں تال میل ہو۔ 

پارلیمانی نظام جمہوریت میں حالات کی پیش بینی جمہوری قوتوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے طرز عمل سے کی جا سکتی ہے ۔ 

آج اگر ملکی منظر نامے پہ نگاہ دوڑائیں تو جغرافیائی اور صوبائی کینوس کو مدنظر رکھیں تو میری نظرمیں دستیاب جمہوری جماعتیں جو سیاست پہ اور حکومت سازی پہ اثر انداز ہوتی ہیں ان میں قابل ذکر مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی ، پاکستان پیپلز پارٹی ، جمیعت علمائے اسلام ف، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی ہیں جو حکومت سازی کے رجحان کا تعین کرتی ہے اس کے علاؤہ بھی کچھ سیاسی جماعتیں ہیں مگر ان کا کردار محدود ہے۔ تو دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ان میں سے پانچ ایک طرف اور اکیلی پی ٹی آئی مقابل سمت میں ہے۔ پارلیمنٹ میں فیصلہ متفقہ طور پہ ہوگا ناکہ کسی ایک سیاسی قوت کی منشاء دیکھتے ہوئے ۔تمام جمہوری قوتیں اس وقت پی ٹی آئی کے خلاف ہیں۔  اس سے مسقبل کی نقشہ وضع کیا جاسکتا ہے ان حالات کو سمجھنے میں کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت تو نہیں ہے۔

جلدانتخابات کا تقاضہ جو کہ دو مہینے پہلے تک تقریباً تمام موثر سیاسی جماعتیں کر رہی تھیں مگر اس وقت جبکہ عمران خان کے پاس اختیار بھی تھا تو اس وقت اسے درخور اعتنا سمجھا گیا اور جب حالات پی ٹی آئی کے کنٹرول سے باہر ہو گئے تو اب انتخابات کی تکرار شروع ہو گئی۔ اتنی زیادہ سیاسی تقسیم اور پولارائزیشن میں مقتدر حلقے کبھی بھی انتخابات کا انعقاد نہیں کرواتے۔ نظام مصطفیٰ کی تحریک 1977 کے تجربات کو مد نظر رکھیں۔ انتخابات کی تکرار ان کو قریب نہیں بلکہ دور لے جائے گی۔ پچھلے دو پارلیمانی ادوار کو بھی مد نظر رکھیں کہ جب پہلے دور میں یوسف رضا گیلانی اور دوسرے دور میں نواز شریف نااہل ہوئے تو کیا فوری انتخابات ہوئے ،دونوں اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ۔تو پھر اس اسمبلی کی آئینی مدت کے پورے ہونے کا انتظار کیوں نہیں کیا جائے؟

‏آپ الیکشن کمیشن کومانتے، نہ پارلیمنٹ کومانتے ہیں، نہ ایوان میں بیٹھناچاہتے ہیں، نہ نگران حکومت کی تشکیل میں حصہ لینا چاہتے ہیں توپھر الیکشن کون کرائے گا؟ اگران حالات میں الیکشن ہوبھی گئے تو کیایہ نتائج مانیں گے؟ظاہر ہےنہیں مانیں گے۔

یہ طےہے کہ آپ عدم استحکام چاہتےہیں

موجودہ حالات میں کہ جب سیاسی تقسیم کی وجہ سے امن وامان کے حالات شدید دگرگوں ہیں کسی قسم کے انتخابات حالات کو بہتر کرنے کی بجائے اور بگاڑ دیں گے۔ کیا گارنٹی ہے کہ سارے سٹیک ہولڈرز انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی اور معیشی حالات کو نارمل کیا جائے اور اختلافات کی شدت کے کم ہونے کا انتظار کیا جائے تو پھر انتخابات منعقد کیے جائیں۔

‏جو دوست دلائل کے ذریعے خان صاحب کے سپورٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ جان لیں کہ ربیکا گرانٹ کے ایک جعلی اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ کو 19 ہزار مرتبہ ریٹویٹ کیا جا چکا ہے اور خان کےخلاف سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مقابلہ صرف فسطائیت سے نہیں، پاگلپن اور جنونیت سے بھی ہے۔

‏ایک بات تو طے ہے کہ وقت کے پہیے کا چکر مکمل ہوا۔۔۔ہم پھر سے 2013 میں کھڑے ہیں۔۔۔اب یہ مشورہ دیں کہ ایک تاریخی غلطی درست کرنے پر اہلِ شمشیر کو داد دینی ہے۔۔۔یا قوم کے دس سال مزید ضائع کرنے پر ملامت کرنی ہے۔

ملکی سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنے کے لیے جو جن چھو منتر سے 2011 میں نکالا گیا تھا وہ اب بہت زیادہ منہ زور اور طاقتور ہو چکا ہے۔ اور جس کی آبیاری عملیات اور سیاسی طرف داری سے کی گئی تھی ۔ اب عامل حضرات کے لیے پریشانی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔دیکھنا یہ ہو گا کہ اس جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کے لیے کیا حکمت عملی وضع کی جاتی ہے ۔ 

گذشتہ چند برسوں سے ہائبرڈ نظام کے تجربے نے ہر سطح پہ معاشرے کو مزید کنفیوز اور تقسیم کر دیا ہے اور جن کے کندھے اور سر پہ دست شفقت رکھا گیا اُنھیں آمر اور فاشسٹ بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگایا گیا۔ ’امیر المومنین‘ بننے کا جو خواب ماضی میں دکھایا گیا، حال بھی اُس سے کچھ مختلف نہیں  بقول محترمہ عاصمہ شیرازی ،مگر لوہے کے خول چڑھا کر جن دماغوں کو چھوٹا کر دیا گیا اب اُس میں تعمیری سوچ کا گُزر ہو یہ ممکن نہیں لگتا۔

گورنر پنجاب اور صدر پاکستان کے روئیے اور چلن سے بہت کچھ آشکار ہو گیا۔ اور بظاہر پھر ثابت ہوا کہ بڑی باتیں چھوٹے اذہان کی زینت نہیں بن سکتی اور دماغ میں نہیں سما سکتی ۔‏بہتر ہوگا کہ صدر اور گورنر کےعلامتی ریاستی عہدوں کے لئے متفقہ طور پہ غیر سیاسی افراد کے انتخاب کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ یہ عہدے ان پاکستانیوں کو دیئے جائیں جنہوں نے پاکستان کے لئے غیر معمولی خدمات سر انجام دی ہیں۔

حاصل گفتگو تو یہی ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی سوچ اور اپروچ کو ری وزٹ کرنا چاہئیے۔ یوں کھلے عام عدالتوں کو للکارنا اور جانب داری کے طعنے دینے سے حالات سلجھاؤ کی طرف نہیں بلکہ الجھاؤ کی طرف جائیں گے۔ پبلک میں جاکر اگریسو ٹون رکھنا اور آئینی اداروں کو جانب دار کہنا توہین عدالت کا کیس بنا سکتا ہے ۔کہ جس کی کم ازکم سزا پانچ سال کی انتخابی نا اہلی ہو سکتی یے۔ ابھی ایک مہینہ ہوا ہے اور عمران خان سے اقتدار کی بے دخلی برداشت نہیں ہو رہی تو پانچ سال کا انتظار بہت طویل لگے گا۔ یہ سب کچھ پانچ سال پہلے نواز شریف نے بھی کیا تھا چار دن کے شوروغوغا کے بعد دوبارہ سے سسٹم کے اندر رہنے میں ہی عافیت جانی تھی۔ اصل سیاست تھیوری کی حد تک ائیڈیلسٹک ہو سکتی ہے مگر میدان عمل میں آپ کو حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا ہوتا ہے۔

        حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

        وقت کرتا ہے پرورش برسوں



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟