اسٹیبلشمنٹ کیا ہے اور پاکستانی سیاست میں اس کا کیا کردار ہے ؟
تحریر ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی
پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار، اس کے اجزائے ترکیبی، اور اس کی رولنگ پالیسی پہ سیر حاصل بحث
کستان کی سیاست اور اقتدار کی جنگ میں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ وہ کیوں ملک میں حقیقی اور آزادانہ جمہوریت کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے یا یوں کہیں کہ پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتی؟
سٹیفن پی کوہن کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے کلب کی ممبر شپ کےلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے ذاتی مفادات اور بین الاقوامی سامراجی ایجنڈے کے مطابق ایک دوسرے سے مشترکہ سوچ و فکر اور اصول و نظریہ کے حامل ہوں۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب “آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے
کوہن کے مطابق پاکستان کی یہ انصرامی قوت دراصل درمیانی راستے کے نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے جیسے،
- بھارت کے ہر قدم اور ہر چال کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی لازم ہے۔
- پاکستان کے جوہری منصوبے ہی دراصل پاکستان کی بقا اور وسیع تر حفاظت کی ضمانت ہیں۔
- جنگ آزادئ کشمیر جو تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئی، کبھی بھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
- وسیع پیمانے پر ہونے والی عمرانی اصلاحات، جیسے کہ زمینوں کی مفت تقسیم وغیرہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہیں۔
- غیر تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقہ کو ہمیشہ پامال اور کچل کر رکھنا ہی حکمت ہے۔
- اسلام پسند نظریہ ہونا انتہائی موزوں بات ہے لیکن اسلام کا مکمل طور پر نفاذ ممکن نہ رہے۔
- اور یہ کہ امریکا کے ساتھ تعلقات استوار رہنے چاہیے لیکن کبھی بھی امریکا کو پاکستان پر مکمل طور پر گرفت حاصل نہ ہونے پائے۔
- پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کلیدی نکات میں یہ بھی اکثر شامل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہر حال میں ریاست کے انتظام، سیاست وغیرہ پر گرفت مضبوط رکھنی چاہیے۔
بین الاقوامی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ایک (Deep State)ہوتی ہے جو ترقی پذیر ممالک میں بااثر افراد کا جمہوریت مخالف طاقتور افراد کا ایسا گروہ ہوتا ہے جو اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کےلئے ریاست کے اندر ریاست قائم کر لیتا ہے۔ یہ نادیدہ ہاتھ کی مانند ہوتا ہے اور اس میں بین الاقوامی، ملکی ملٹری سکیورٹی، جوڈیشری اور کاروباری مافیا کے افراد شامل ہوتے ہیں۔
قارئین، پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی ہیئت، کردار، اجزائے ترکیبی، حالات و واقعات اور طاقتور بااثر افراد کی ذہنی افتاد طبع اور مائنڈ سیٹ (Mindset)کے مطابق تبدیلی ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سمجھنے کےلئے اسے دو حصوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (ا) سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ (م) سول بیورو کریسی، سول حکمران۔ وہ ممالک جہاں جمہوری ادارے مضبوط ہوتے ہیں وہاں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سول حکمرانوں کے تابع ہوتی ہے۔ امریکا کا صدر طاقتور ترین فیلڈ مارشل جنرل آرتھر کو سبکدوش کر دے تو وہ چوں و چرا نہیں کرتا۔ ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی اپنے آرمی چیف کو ملاقات کےلئے بلا کر کئی گھنٹے ویٹنگ روم میں بٹھا دیتی تھی۔ ترکی کے وزیراعظم ترکی کے وزیراعظم عبداللہ گل نے کئی جنرلوں کےخلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا مگر ہمارے ملک میں کوئی سول حکمران ایسا کرے تو اسے معزول کر دیا جاتا ہے۔ پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے یا جلا وطن کر دیا جاتا ہے اور آئین کو معطل کرنے والوں کے خلاف نہ تو حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کو قابل عمل سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی ان کےخلاف کارگل کمیشن یا ایبٹ آباد کمیشن کے ذریعے کوئی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ہماری سول اسٹیبلشمنٹ کے اہم کردار نواز شریف نے بڑی کوشش کی کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر مقدمہ درج کیا جائے مگر ایسا نہ ہو سکا بلکہ پرویز مشرف دھڑلے سے پاکستان واپس آئےگا مگر یہ حقیقت ہے کہ اسے اسکے اعمال کی سزا دینا کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ کیا ایوب یحیٰی، ضیا یا کارگل کا مس ایڈونچر کرنے والوں کا کسی نے احتساب کیا ہے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی انتخابات اور انتظام پر اثر انداز ہونے کی پالیسی بھی شامل ہے، جس کے تحت پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی جماعتیں اور اتحاد بنائے اور توڑے بھی جاتے رہے ہیں. پاکستان کے سیکولر اور لبرل خیالات کے حامل گروہ ان تمام اتحادوں اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل میں پیش پیش رہتے ہیں۔
سب سے پہلے پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کھیل جنرل محمد ایوب خان نے شروع کیا اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی جماعتوں پہ پابندی لگائی تاکہ مرضی کی ایلیٹ پیدا کی جا سکے جنرل ضیاء الحق نے بھی اسی طرح سے انصرامی سیاست کے تحت منطقی اتحاد اور پالیسیاں تشکیل دیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اس کا استعمال سیاست اور فوجی حکمت عملی میں کیا۔ افغانستان پر سوویت افواج کے حملے کے بعد، جنرل ضیاء کی نظر میں افغانستان کا شمار پاکستان کی فوجی اور سیاسی پالیسیوں کا منبع بن گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی بقاء اور استحکام دراصل اس امر میں ہے کہ پاکستان افغانستان پر مکمل طور پر اثر انداز رہے۔
کبھی کبھی مضبوط سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مزاحمت کر کے اقتدار حاصل کر لیتی ہیں مگر جب وہ عوام کی بہتری اور بھلائی کےلئے کوئی قابل قدر کارنامہ سرانجام نہیں دیتیں تو پھر پاکستان کے عوام، میڈیا اور بیورو کریسی میں یہ سوچ جڑ پکڑ لیتی ہے کہ آزادانہ جموریت سے بہتر ہے کہ کنٹرولڈ جمہوریت ہو تاکہ اسٹیبلشمنٹ کے سٹیک ہولڈرز ایک دوسرے کو فکس کرنے کی بجائے اپنے اپنے حصے کا کیک حاصل کرنے کے بعد تھوڑا بہت عوام کو ٹریکل ڈاﺅن کر دیں تو بس یہی غنیمت ہے لہٰذا عمران خان لاکھ کہیں کہ وہ وزیراعظم ہوں گے تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی حقیقتاً ان کے ماتحت ہوں گے اور وہ ان کے باس ہوں گے۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ایک لمبے عرصے سے حکومتی و ریاستی معاملات میں انوالو ہے۔عوام کا اعتبار حکومت مخالف پارٹی کیساتھ تب تک رہتا ہے جب تک وہ پارٹی خود حکومت میں نہیں آجاتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یکے بعد دیگرے کوئی بھی جماعت حکومت نہیں بنا پائی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ قوم کے اس مزاج کو سمجھتے ہوئے اسی لیے ہر الیکشن سے قبل اپنے گھوڑے کسی اور جماعت میں شامل کرنا شروع کر دیتی ہے۔
ہماری سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا ایک پہلو یہ ہے کہ ملک جنرل ایوب کے زمانے سے اب تک سیاسی عدم استحکام کا شکار چلا آرہا ہے۔ جنرل ایوب ملک میں سیاسی عدم استحکام کا رونا روتے ہوئے اقتدار میں آئے تھے، مگر جب وہ گیارہ سال کے بعد اقتدار سے محروم ہوئے تو ملک پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، یہاں تک کہ سیاسی عدم استحکام 1971ء میں آدھے ملک کو کھا گیا۔ جنرل ضیا رخصت ہوئے تو وہ بھی ایک سیاسی عدم استحکام ملک پر مسلط کرکے گئے۔ ان کے بعد بے نظیر اور میاں نوازشریف کی حکومتیں دو دو سال کے بعد برطرف ہوتی رہیں۔ جنرل پرویز کی آمریت بھی ملک کو سیاسی استحکام فراہم نہ کرسکی۔ اِس وقت بھی ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ ہمارے جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت ہی کا شاخسانہ ہے کہ وطنِ عزیز میں آئین کی کوئی قدروقیمت ہی نہیں۔ عوام کو شعور ہی نہیں کہ آئین قوموں کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اس کا تحفظ کیوں ضروری ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں آئین کے مؤثر ہونے کی بات بھی کوئی نہیں کرتا۔ ملک اگر آئین کے تحت مسلسل چلتا رہتا تو آئین ہمارے اجتماعی شعور میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کرچکا ہوتا۔



Informative
ReplyDeleteAbsolutely right sir
ReplyDeleteSir gi imrani islahat means?
ReplyDeleteعمران خان کے دور میں جو خود ساختہ روٹین قوانین متعارف کروائے گئے
DeleteNice
ReplyDelete