سیاسی و معاشی عدم استحکام ، وجوہات اور تدارک

 تحریر ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی

سپیشل رپورٹ

پاکستان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات


سیاسی عدم استحکام ، وجوہات اور تدارک

سیاسی عدم استحکام اور اس کی وضاحت کم از کم تین مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ ایک پہلا نقطہ نظر یہ ہوگا کہ اسے حکومت یا حکومت میں تبدیلی کی پیش کش کے طور پر بیان کیا جائے۔ دوسرا نقطہ نظر معاشرے ، جیسے مظاہرے ، قتل وغارت وغیرہ پر تشدد یا سیاسی بغاوت کے واقعات پر ہوگا۔

تیسرا نقطہ نظر حکومتوں میں عدم استحکام سے بالاتر ہوکر پالیسیوں کے عدم استحکام پر مرکوز ہوگا۔ مثال کے طور پر ، جس حد تک بنیادی پالیسیاں ، مثال کے طور پر املاک کے حقوق ، میں بار بار تبدیلی آتی ہے۔

میکس ویبر سکول آف بیوروکریسی کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔اس کے سیاسی نظریات کے مطابق ، سیاسی استحکام کا انحصار ریاست کی اتھارٹی ،قانون کی حکمرانی اور اختیارات کے جائز استعمال میں ہے جو حکومتیں عوامی طاقت کا استعمال کرتی ہیں تو اس کا انحصار ریاستی اخلاقیات اور اس کی عوامی پزیرائی میں منحصر ہے۔ سیاسی عدم استحکام انتخابی سیاست میں اتار چڑھاؤ کی نمائندگی کرنے والی ایک ناکام ریاست کے تصور سے بہت قریب سے وابستہ ہے۔

سیاسی عدم استحکام کی وجوہات

ریاست اور ریاستی معاملات میں سیاسی عدم استحکام متعدد عوامل کی وجہ سے ہوسکتا ہے ، جن میں حریف سیاسی جماعتوں کے مابین تنازعات ، ناکافی معاشی وسائل ، یا تنازعات میں شامل یا 

متحارب قوموں کے ساتھ سادہ جغرافیائی تنازعات شامل ہیں۔

یہ اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب کسی ملک میں اچانک قومی لیول پہ سوچ، نظام یا پالیسی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ یہ اچانک تبدیلیاں آبادی کو اپنے ملک کی صورتحال کے بارے میں شک میں ڈال سکتی ہیں ، جو فسادات کا باعث بن سکتی ہیں۔ فی الحال بیشتر سیاسی طور پر غیر مستحکم ممالک افریقہ اور مشرق وسطی میں واقع ہیں۔اور ایشیاء کہ جس میں ساؤتھ ایشیاء سرفہرست ہیے سیاسی و مذہبی انتہا پسندی کی کلاسک مثال سمجھا جاتا ہے۔

 عام طور پہ قومیں کچھ خصوصیات کا اشتراک کرتی ہیں عمومی طور پہ ان کی آبادی کو لگتا ہے کہ ان کے حقوق محدود ہیں اور وہ اپنے حالات سے ناخوش ہیں۔ جب مخالفت کے باوجود زیادہ دیر تک اقتدار پہ قابض قوتیں بغیر کسی جواز کے سسٹم کی ڈرائیونگ سیٹ پر فائز رہتے ہیں تو ان ممالک کی قیادتیں سیاسی عدم استحکام کا ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

اشارے

  • جس طرح سیاسی عدم استحکام کی مختلف تعریفیں ہیں ، اسی طرح مختلف ممالک میں اس کی سطح کی پیمائش کرنے کے لئے بھی مختلف اشارے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ اشارے بنیادی طور پر تعلیمی مقاصد کے لئے تیار کیے گئے ہیں ، جیسے ورلڈ بینک کے گورننس انڈیکیٹر۔
  • کچھ اور اشارے ہیں جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سیاسی خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے تشکیل دیئے گئے ہیں جن کا بعض ممالک میں سرمایہ کاری کا مطلب ہے۔ کچھ کمپنیاں اور ادارے پیشہ ورانہ انداز میں اس قسم کے اشارے پیش کرتے ہیں۔
  • فہرستوں کو بنیادی طور پر دو قسموں میں درجہ بندی کیا جاسکتا ہے ، اس کے مطابق ان کی ترقی کی گئی۔ ایک طرف ، معروضی اشاریے ہیں ، جو روایتی طور پر کچھ مظاہر (معاشرتی مظاہرے ، انقلابات ، قتل اور دیگر) کے واقعات کے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں۔

سیاسی عدم استحکام کے ذرائع 

دنیا کے مختلف حصوں میں فی الحال سیاسی عدم استحکام کی آب و ہوا موجود ہے ، جس کی وجہ مختلف عوامل ہیں۔ مشرق وسطی اور افریقہ میں آمرانہ حکومتوں کے خلاف تنازعات ، دہشت گردی اور بغاوتوں میں شدت پیدا کرنا سیاسی عدم استحکام کا ایک ذریعہ ہے۔

میپلیکوفٹ پولیٹیکل رسک اٹلس کے تازہ ترین ایڈیشن میں رپورٹ کردہ نتائج کی بنیاد پر ، جس میں کمپنیوں کو سیاسی تنازعات کی نگرانی کرنے میں 52 اشارے استعمال کیے گئے ہیں جو 197 ممالک میں کاروباری ماحول کو متاثر کرسکتے ہیں ، کچھ سرخ جھنڈے کھڑے ہیں۔

2010 کے بعد سے شام ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے سیاسی استحکام کے لحاظ سے سب سے زیادہ خراب ہوا ہے۔ آج یہ دوسرے نمبر پر ہے ، صومالیہ نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ افغانستان ، سوڈان اور جمہوری جمہوریہ کانگو نے پہلے پانچ مقامات کو ختم کیا۔

سیاسی عدم استحکام سیاسی آزادیوں اور معاشرتی فوائد جیسے نوجوان آبادی کے لئے تعلیم اور انٹرنیٹ تک رسائی کے مابین ترقی کے فرق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

2010 میں ، نام نہاد عرب بہار سے پہلے ، لیبیا ، تیونس ، ایران ، شام اور مصر کچھ ایسے ممالک تھے جن میں سیاسی آزادیوں اور معاشرتی فوائد کے مابین سب سے بڑا فرق موجود تھا۔

کچھ افریقی ممالک نے دہشت گردی ، بیڈ گورننس ، اور عوامی بغاوتوں کا شکار حکومتوں سمیت سیاسی تشدد کے خطرے میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا ہے۔ صومالیہ ، سوڈان اور جنوبی سوڈان کو "انتہائی خطرے" کے زمرے میں درجہ بندی کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ، کینیا اور ایتھوپیا کو "زیادہ خطرہ" سمجھا جاتا ہے۔

عرب بہار کے برسوں بعد ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے 60 than سے زیادہ ممالک نے سیاسی تشدد میں کافی اضافہ کیا ہے ، جو طاقت کی بنیاد پر اقتدار میں ہونے والی تبدیلیوں سے وابستہ طویل مدتی سیاسی خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔ .

مغرب میں ، عالمی مالیاتی بحران کے اثرات بے روزگاری کی اعلی سطح پر خود کو ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ حکومتی کفایت شعاری کے اقدامات کے ساتھ مل کر اس رجحان نے عدم مساوات میں اضافے اور معیارِ زندگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یوروپ اور ریاستہائے متحدہ میں سیاسی منظر نامے تیزی سے بکھری اور پولرائزڈ ہوگئے ہیں کیونکہ روایتی سیاسی جماعتوں کے ساتھ رائے دہندگان کی عدم اطمینان اور ان مظاہروں میں ان کی شمولیت کے رد عمل میں عوامی جماعتی پارٹیوں نے اس عمل کو حاصل کیا ہے۔

پاکستان کے حالات کی بابت مختصر تجزیہ

 پارلیمانی نظام حکومت کو برٹش دور میں متعارف میں کروایا گیا تھا یعنی برطانوی نوآبادیاتی دور میں، جس کا مقصد اختیاراتی و حکومتی کیک میں سے حصہ بقدر جثہ کے مطابق سیاسی پارٹیوں یا متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے لیے لالی پاپ بنایا گیا تھا۔ اور دنیا میں جہاں جہاں سیاسی پولیرائزیشن زیادہ تھی یا ہے اسے وہاں زیادہ موزوں سمجھا گیا کہ لاگو کیا جائے۔ مگر کیا کیا جائے کہ طاقت اور اختیارات نے ہر جگہ اپنی اتھارٹی و سپرمیسی منوائی ہے۔

پاکستان میں عمران خان کو سیاسی اجارہ داروں یعنی اسٹیبلشمنٹ نے نے ایک پریشر فیکٹر کے طور پہ متعارف کروایا تھا تاکہ سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور اپنی مرضی کے مطابق انہیں چلنے پہ مجبور کیا جا سکے۔ اس مقصد کی بازیابی کے لیے آؤٹ آف دے وے جا کر اس کو سپورٹ دی گئی جس سے عمران خان اب منہ زور ہو گیا ۔اور دوسری غلطی مقتدرہ سے یہ ہوئی کہ عمران خان کی سپورٹ میں باقی سیاسی جماعتوں ، رہنماؤں یا مخالف سیاسی نظریات رکھنے والوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے سامنے لٹایا گیا۔ مگر سسٹم ناتجربہ کاری سے نہ چلنا تھا اور نہ چل سکا۔اب جب اپو زیشن کو اتنا زیادہ دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا تو اس کا ردعمل بھی شدید ہو گیا ۔ اب اپوزیشن بھی اپنے سٹانس سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور عمران خان عادتیں تو مقتدرہ نے خود خراب کر لی ہیں۔ اس وجہ سے موجودہ سیاسی ماحول میں معقولیت اور اعتدال نا پید ہے۔ دونوں طرف کے رہنماؤں میں فرسٹریشن اور جلدی ہے۔ چونکہ عمران سرکار ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہے تو وہ غلطیوں کا ارتکاب زیادہ کر رہی ہے۔

سیاسی استحکام اور معاشی ترقی لازم ملزوم

ملک کے ابتر ہوتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے ہر ذی شعور پاکستانی پریشانی کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور ان عوامل پر زیادہ غوروفکرکر رہا ہے کہ آخر ملک کے معاشی حالات دن بہ دن خراب کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ ان امور کا جب گہرا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ معیشت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔کسی بھی ریاست کی سلامتی ،استحکام اور باوقار ہونے کے لیے معیشت کا مستحکم ہونا لازمی امر ہے، بالکل اسی طرح معیشت کے استحکام کے لیے ریاست میں سیاسی استحکام کا ہونا بھی لازمی امر ہے۔

سیاسی عدم استحکام کے بطن سے مستحکم معیشت کو جنم نہیں دیا جاسکتا جسکی ایک تازہ اور واضح مثال یہی ہے کہ 2017 میں نواز شریف کو جیسے ہی عدالتی احکامات پر اقتدار سے معزول کیا گیا، تیز رفتار ترقی میں رکاوٹیں حائل ہونا شروع ہوگئیں، بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ نیچے آنے لگی ، زر مبادلہ کے ذخائر گھٹنے لگے ، ترقی کی شرح میں کمی آنے لگی ، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ، ڈالرکی قدر میںاضافہ اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی آنے لگی، پی ایس ڈی پی میں ہونے والا اضافہ کمی کا شکار ہوگیا اور اس طرح کے تمام رجحانات سے جو حقیقت واضح ہوئی وہ یہ تھی کہ جس طرح کسی بھی ریاست کی معاشی ترقی کے لیے اُس ریاست میں امن و امان ، جدید انفرا اسٹرکچر ، توانائی کی وافر مقدار اور سرمایہ کاری دوست ماحول کا ہونا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ریاست میں سیاسی استحکام اور اس کے تسلسل کا ہونا بھی بیحد ضروری ہوتا ہے۔آج ملک کو جن چیلنجزکا سامنا ہے اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں غیر یقینی سیاسی حالات بھی ہیں۔

ملک اور بیرون ملک پاکستان کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی حالات اس قابل نہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کی جاسکے اور یہ تاثر حکومت کی پالیسیوں سے روز بروز زیادہ پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں کرپشن کے خلاف آپریشن کے نام پر اس وقت ملک کی حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کی گرفتاری کے بعد اُبھرنیوالا یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب ایک اور سابق وزیر اعلی اور وزیر اعظم  کوگرفتار کرلیا گیا ۔

Comments

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟