اساتذہ کرام کلاس میں تخلیقی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دیں ؟
تحریر و آئیڈیا
رانا آصف شہزاد علی
اساتذہ کرام کلاس میں تخلیقی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دیں؟
ہمارا ذہن خیالات بنانے کی مشین ہے جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے۔ ہم کچھ نہ کچھ سوچتے ہی رہتے ہیں، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی۔ مثبت سوچ کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے۔
کامیاب زندگی، مثبت سوچوں اور رویوں جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں اور رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر سوچ سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے۔
تعلیم و تربیت کا فلسفہ
تعلیم کا بنیادی مقصد خودی کی تلاش اوربازیافت ہے۔ملک و قوم اور دنیا کا مستقبل نئی نسل کی تخلیقی و ذہنی نشوو نما کے رہین منت ہے۔طلبہ کے پوشیدہ جو ہر کو دریافت کرنا اور ان کو نکھار کر ملکی و قومی تعمیر کے لئے بامعنی بنانا ابتدائے آفرینش سے ہر استاد کا شیوہ و شعار رہا ہے۔ندرت ،تخلیقیت اور انفرادیت طلبہ کی شخصیت سازی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ماضی میں تخلیقیت اور اختراعی افعال یا افکار کو اعلی ذہانت سے تعبیر کیا جاتا تھا۔زمانے کے ساتھ ساتھ تحقیق اور معلومات کی بنا پرتخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو دو مختلف عوامل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ماضی قریب میں اعلی ذہانت (I.Q)کے حامل طلبہ کو فطری طور پر تخلیقیت سے بھر پور سمجھا جاتا تھاجس کو جدید تحقیق نے محض ایک خام خیالی قراردیا ہے۔اللہ نے تما م کائنات کو بنایا بلکہ بہت خوبصورت بنایا۔ ہم کوکائنات کی ہر شئے میں ایک ربط باہم نظر آتا ہے ۔کائنا ت کی ہر شئے سے ٖخالق کائنات کا نظم و ضبط(ڈسپلن)،خوبصورتی اورحسن انتظام ہویدا ہے جس سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ڈسپلن ،خوبصورتی اور حسن انتظام کو پسند فرماتے ہیں۔ سورہ تین کے مطالعے سے ہم کو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین تقویم پر پیدا کیا ہے۔تقویم کا یہ حسن صرف ظاہر ی ،جسمانی حسن و جمال ہی نہیں ہے بلکہ اس میں انسان کی غور و فکراورتدبیر و تدبرجیسی بے شمار صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔سورہ رحمن میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ’’ہم نے انسان کو بیان کرنے کا علم دیا ‘‘اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ بیان و اظہار کے وہ تمام وسائل جس سے تعلیم و تربیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور معاشرے میں انسان مثبت تبدیلیوں کا نقیب بن سکتا ہے۔
کلاس روم میں تخلیقی سوچ کو کیسے فروغ دیں!
مختلف تحقیقات یہ ثابت کرچکی ہیںکہ تخلیقی سوچ فطری نہیں ہوتی۔ بچوں میں مختلف سرگرمیوں اور تربیت کے ذریعے تخلیقی سوچ بیدار کی جاسکتی ہے۔ اس تربیت کے لیے گھر کے علاوہ استاد کا کردار اور کلاس روم کا ماحول بھی خاص اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ تخلیقی سوچ کی بیداری کےلیے سب سے پہلے ایسا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاںطالب علم اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرسکیں، آؤٹ آف دی باکس جاکر سوچنا شروع کریں، مسائل سے گھبرانے کے بجائے ان کا حل ڈھونڈنے کی جانب غور کریں اور سب سے خاص بات یہ کہ تیزی سےمتاثر کن انداز میں سیکھنا شروع کریں۔
ممکن ہے کہ بطور استاد آپ کے ذہن میں آئے کہ سیمسٹرکے دوران نصاب مکمل کروانے کے دباؤ کی وجہ سے آپ کے لیے تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔تاہم ذیل میں ،آپ کی مدد کے لیےکچھ ایسے خاص طریقوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو کلاس روم کے دوران بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں گے۔
- کلاس روم کارنر
خیالات کا اظہار، کلاس روم کارنرتخلیقی سوچ فروغ دینے کا سب سے آسان طریقہ کلاس روم میں ہی ایک ایسی جگہ ڈیزائن کرنا ہے، جہاں بچے بلاخوف و خطر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔ اس حوالے سے نیویارک میں مقیم 5thگریڈٹیچر کی مثال سراہے جانے کے قابل ہے، جن کی جانب سےکلاس روم میں ایک کارنر کا انتخاب کرتے ہوئے اس کو ’’Think Tank‘‘ کا نام دیا گیا۔ انھوںنے بچوں کو بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ، اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں ۔
تجسس کی حوصلہ افزائ
یایک طالب علم میں دوسرے طالب علم سے مختلف طرز کا تجسس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اس تجسس کی پذیرائی کیجیے اور بچوں کی دلچسپی ومفادات کو جاننے کی کوشش کریں تاکہ حوصلہ افزائی کے طریقے اخذ کیے جاسکیں۔ مثال کے طور پر اکثر بچےخلا کے بارے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں، اگرآپ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی بچہ خلا اور خلائی جہازوں کا خاصا شوقین ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کیجیے اور اسے خلا سے متعلق کتابیںپڑھنےکی تاکید کیجیے۔ آپ آن لائن ویڈیو زکے ذریعے اس موضوع پر اس کی مدد بھی کرسکتے ہیں تاکہ مستقبل میں وہ اس شعبہ میں کامیابی حاصل کرسکے
مختلف انداز اپنائیں
کلاس روم میں بچے کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار کرنے کے لیے آپ کو مختلف روش اپنانا ہوگی۔ سوالات پوچھنے کے لیے روایتی انداز اپنانے کے بجائے ایسا انداز اپنائیں، جو انھیں سوچنے کی جانب مائل کرسکے ۔ سوچنے کی صلاحیت نت نئے آئیڈیاز کی تخلیق کا ذریعہ بنتی ہے، جس کی بنیاد پر بچہ عملی زندگی میں نئی نئی اختراعات عمل میںلاتا ہے۔ بچوں سے یہ نہ پوچھا جائے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں یا انجینئر کیونکہ سوال کرنے کا یہ انداز محدود انتخاب پر مبنی ہے بلکہ صرف یہ پوچھا جائے کہ وہ بڑے ہوکر کیا بننا چاہیں گے؟ اس طرح ہر طالب علم اپنی سوچ کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے خود جواب دے گا
بصری عکاس
بصری عکاسی کسی بھی عنوان کی وضاحت کے لیے معلومات کو زیادہ بہتر طور پر شیئر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کلاس روم میں نہ صرف زبانی لیکچرز دیے جائیں بلکہ ان کی بصری عکاسی بھی کی جائے۔ مثلاًآپ جس عنوان پر طالب علموں سے گفتگو کرنے جارہے ہوں، لیکچر سے قبل اس کے’وژولز‘تیار کرلیں (کسی چارٹ بورڈ کی صورت، اسکیچ کی صورت یا پھر بلیک بورڈ ڈائیگرام کی صورت) اور دوران لیکچرز ان کو کلاس روم میںچسپاں کردیں۔ یہ وژول ایفیکٹس نہ صرف بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار کریں گےبلکہ سیاق وسباق میں ان کی دلچسپی بڑھانے کا سبب بھی بنیں گے۔
اپنے معیار سے واقف ہوں
ایک استاد کے لیے تعلیمی معیار سےواقفیت بے حد ضروری ہے مثلاًاکثر اسکولوں کا معیار کسی خاص طریقہ کار کو منتخب کرتے ہوئے تخلیقی سوچ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ معیار سے واقفیت ہونے کے ساتھ کسی مضمون کی وضاحت کے لیے مختلف طریقہ کار سے متعلق غور و فکر کریں، مثلاًکسی مضمون کے ذریعے کیسے طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
تخلیقی مہارتوں کے متعلق تعلیم
تخلیقی مہارتوں میں اضافے کے لیے سب سے زیادہ آگہی ضروری ہے، مثلاًطلبہ کو بتائیں کہ وہ اپنے تصورات وتخیلات کا استعمال کس طرح کرسکتے ہیں، اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون کتنا ضروری ہے یا کس طرح اپنی حوصلہ افزائی خود کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام طریقۂ کار ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔
❣️❣️❣️❣️
ReplyDelete👏❤️
DeleteWhat a informative...May Allah give you Ajr-e-Azeem sir ameen thank you sir ����
ReplyDelete