پاکستان کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ 1906 سے لیکر 2022تک

 تحریر۔۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی


برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی مربوط سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز 1906 میں مسلم لیگ کے قیام سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس طویل سیاسی سفر کو ہم آسانی کے لئے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں پہلا حصہ جو شدید پر خلوص اور پرعزم سیاسی جدوجہد کا ہے جو 1906 سے لیکر 1947 پاکستان کے معرض وجود میں آنے تک کا ہے جبکہ دوسرا حصہ ڈگمگاتا سیاسی سفر کہلائے گا جو 1947 سے لیکر 2022 تک ہے۔

سیاسی سفر کا مقدمہ

1947 میں جب برصغیر پاک وہند کی تقسیم ہوئی تو بحثیت مجموعی قوم پاکستانی منظم قوم تھے۔ آج قوم منتشر اور منقسم ہوچکی ہے۔ قیادت اہل، دیانت دار اور پرعزم تھی۔ آج کی قیادت زوال پذیر ہے ابھی تک مستحکم جمہوری سیاسی نظام منصفانہ معیشت اور عدل اور انصاف کا قابل رشک نظام پاکستان کے عوام کو نہیں دیا جاسکا۔ جس کی وجہ بار بار کا سیاسی عمل کا روکا جانا اور کچھ عالمی طاقتوں کا حاشیہ نشین بننے کی سنگین غلطی کا بھی عمل دخل تھا۔سیاسی سفر کا کوئی دور ایسا نہیں جسے گڈ گور نینس اور قانون کی حکمرانی کا دور کہا جاسکے۔ پاکستان کے حکمران مختلف پس منظر اور شعبوں سے تعلق رکھتے تھے مگر ان میں سے ایک بھی قائد اعظم جیسا کردار پیش نہ کرسکا اور نہ ہی پاکستان کو جدید اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنا یا جاسکا۔ پاکستان کے سیاسی سفر کے دوران عوام کا کردار صرف تحریکوں اور انتخابات میں نظر آتا ہے۔ ان کو مقامی حکومتوں میں شریک نہ کیا گیا۔ یعنی سیاسی شعور کی ترویج نہ کی گئی اور نہ ہونے دی گئی۔ بلکہ الٹا سیاست کو گالی بنا دیا گیا جس کے پیچھے مقتدرہ کے ذاتی فائدے اور محکمانہ سوچ نظر آتی ہے ۔پاکستان ایک سیاسی تحریک اور جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا لیکن نظام پہ قابض نوکر شاہی ہو گئی۔

پاکستان کی 75سالہ سیاسی تاریخ کے افسوسناک اور وسیع عرصے کے بیچ میں منتخب اور غیر منتخب حکومتوں دونوں میں سے ایک مرکزی نکتہ نظر انداز ہوا ہے اور وہ ہے پاکستان کے عوام کی خواہشات۔ اگر اب بھی اُمید کی کوئی وجہ باقی ہے تو اس کا انحصار پُرجوش، محنتی سادہ مگر تخلیقی مردوزن پر ہے جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یقینی طور پر ایک دن ان (عوام) کی خواہش غلبہ حاصل کریگی۔ معروف امریکی سکالر کریگ بیکسٹر(Craig Baxter) کے خیال میں پاکستان ان بنیادی شعبوں میں ناکام ہوا ہے۔ جو ایک کامیاب ریاست کیلئے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ 

  • (1) ریاست کی تشکیل، 
  • (2)قوم کی تعمیر، 
  • (3)معاشی نظام کی تعمیر، 
  • (4) عوام کی شراکت، 
  • (5)تقسیم کا نظام۔ 
  • (6)متاثر کن سیاسی نظام کی تعمیر
  • (7) سیاسی ورکرز کی تربیت
  • (8) متفقہ قومی نصب العین
  • (9)انصاف کی فراہمی

برصغیر کے مسلمانوں کا سیاسی سفر اور ارتقائی مراحل

مسلم لیگ 1906ء میں قائم ہوئی جس کا مقصد مسلمانوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کا تحفظ تھا۔ 1937ء کے انتخابات میں کانگرس کو فتح ہوئی اس نے ہندوستان کے تمام صوبوں میں حکومتیں قائم کرلیں۔ ہندوئوں کا مسلمانوں کیخلاف عملی تعصب کھل کرسامنے آگیا۔ مسلمان اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق محفوظ نہیں ہوسکتے۔ قائداعظم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کا مقدمہ کامیابی سے لڑا۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور منظور ہوئی جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا۔ عالمی اور کوریا کی جنگوں میں مسلمانوں نے امریکہ اور برطانیہ کا ساتھ دیا جبکہ ہندو الگ تھلگ رہے۔ اس طرح برطانیہ کا مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ پیداہوگیا۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دئیے اور مسلم لیگ نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ قائداعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم بنے۔ دونوں لیڈر اپنی زندگی میں پاکستان کو آئین نہ دے سکے جس نے آزاد ریاست کی سمت متعین کرنا تھی۔

 پاکستان کے پہلے دس سال (1947-58) محلاتی سازشوں کے سال ثابت ہوئے جن کے دوران سات وزیراعظم بنے۔ دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی۔ پاکستان کے اس سیاسی دور کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ تاریخی حقائق یہ تھے کہ جب پاکستان بنا تو بانیان پاکستان یا سیاسی جدوجہد کرنے والے یا مر گئے یا مار دیئے گئے۔ جس کی وجہ سے مربوط سیاسی جدوجہد نہ ہوسکی اور سول سرونٹس اور جرنیل طاقتور ہوگئے۔اسی دور میں سیاست دانوں کے کمزور پچ پہ ہونے کے باعث عدلیہ اور عسکری نوکر شاہی نے گٹھ جوڑ کر لیا۔ چوہدری غلام محمد اقتدار کا مرکز رہے۔ 1956ء کا آئیین تشکیل پایا۔ امریکہ کا اثرورسوخ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ اس نے انتخابات میں امریکہ مخالف سیاسی رہنمائوں کی کامیابی کے خوف سے سکندر مرزا اور جنرل ایوب کے ہاتھوں مارشل لاء نافذ کرا دیا اور اس طرح مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان سیاسی و جمہوری رشتہ ہی ٹوٹ گیا۔


محمد ایوب خان (ولادت: 14 مئی 1907ء بمقام ریحانہ گاؤں، ہری پور ہزارہ، وفات: 19 اپریل، 1974ء) پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل اور سیاسی رہنما تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں جنھوں نے 1958ء کو سویلین حکومت ہٹا کر پاکستان میں مارشل لا لگایا۔

سنہرا ایوبی دور
جنرل ایوب خان کے دور کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہر ا دور بھی کہا جاتا ہے جو اس حد تک تو صحیح تھا کہ جتنے ترقیاتی کام اس دور میں ہوئے تھے ، ان کی مثال پہلے ملتی تھی نہ بعد میں۔۔!

لیکن یہ سب جنرل ایوب کا اپنا کمال نہیں تھا بلکہ ان اربوں ڈالر کی امریکی امداد کا مرہون منت تھا جو اس دور میں پاکستان کو ملی تھی۔ وہ امداد اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ امریکہ ہمارے مامے دا پتر تھا یا اس نے ہمارا کوئی قرضہ دینا تھا بلکہ وہ بھاری امداد ان خدمات کے عوض دی گئی تھی جو ایوب حکومت ، سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکہ کو فوجی اڈے دے کر انجام دے رہی تھی۔ اس امداد میں سے کچھ رقم ترقیاتی کاموں پر صرف ہوئی تھی لیکن زیادہ تر کرپشن اور اقربا ء پروری کی نظر ہوگئی تھی۔ 22 خاندانوں کی اصطلاح اسی دور کی یاد ہے۔

جنرل ایوب خان کی آمریت کے دس سالوں (1958-68) میں صنعتی ترقی ہوئی۔ تربیلا اور منگلا ڈیم تعمیر ہوئے البتہ جنرل ایوب کا صدارتی آئین 1962ء پاکستان کو قائداعظم کے نظریات اور علامہ اقبال کے تصورات کے مطابق جدید اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست نہ بن سکا۔ قومی دولت اور وسائل پر بائیس خاندان قابض ہوگئے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے پاکستان کی معاشی ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اگر جنرل ایوب صدارتی انتخاب میں دھاندلی دھونس اور دھن سے کام نہ لیتے اور مادر ملت فاطمہ جناح کو کامیاب ہونے دیا جاتا تو پاکستان سنبھل جاتا۔ جنرل ایوب خان کو دل کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ امور مملکت پر انکی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ سیاستدانوں نے ایوبی آمریت کیخلاف زبردست عوامی تحریک چلائی۔ 

آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے موقع پاتے ہی اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ البتہ سیاستدانوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کا اعلان کردیا۔ مغربی پاکستان کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، بیوروکریٹس اور جرنیلوں نے مشرقی پاکستان کو کالونی سمجھ کر استحصال کیا۔ احساس محرومی کی بناء پر چھ نکات وجود میں آئے۔ 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی نے اکثریت حاصل کرلی۔ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کیا۔ بھٹو اور مجیب سیاسی مفاہمت نہ کرپائے۔ سیاسی مسئلے کا فوجی حل نکالنے کی کوشش کی گئی۔ بھارت نے صورتحال سے فائدہ اُٹھایا اور پاکستان کو دولخت کردیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان کا اقتدار سنبھال لیا۔ 1973ء کا متفقہ آئین، ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عوامی شعور انکے یادگار کارنامے ہیں۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد پی این اے کی تحریک زور پکڑ گئی۔ امریکہ کو بھٹو کو ’’عبرت ناک مثال‘‘بنانے کا موقع مل گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کرکے مارشل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔

بیس دسمبر 1971 سے 13 اگست 1973 تک پاکستان کے صدر اور پھر 14 اگست 1973 سے وزیراعظم رہنے کے باعث ذوالفقار علی بھٹو، 1976 کے اواخر تک اقتدار کے پانچ سال مکمل کر چکے تھے۔
۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔


جنرل محمد ضیاء الحق (12 اگست 1924ء تا 17 اگست 1988ء) پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ تھے جنھوں نے 1977ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا کر مارشل لا لگایا اور بعد ازاں صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ وہ تا دم وفات، سپاہ سالار اور صدرات، دونوں عہدوں پر فائز رہے۔

1971 سے1977ء کا زمانہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی پرآشوب دور تھا۔ پورے ملک میں افراتفری پھیل چکی تھی۔حالات حد سے گزرے، لاء اینڈ آرڈر مشکل ہو گیاتو فوج نے مارشل لاء نافذ کر دیا اور ملک میں امن و امان بحال کیا۔

44 سال قبل 5 جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور پھر 4 اپریل 1979ء کو ان کو پھانسی لگنے کے بارے میں سیکڑوں کتابیں اور ہزاروں کالم لکھے جاچکے ہیں۔ سب سے زیادہ دلچسپ کتاب وہ ہے جو جنرل ضیا الحق کے نائب جنرل فیض علی چشتی نے لکھی۔ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز کتاب وہ ہے جو بھٹو صاحب کو پھانسی دینے والے بینچ کے رکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے لکھی جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ 'اس فیصلے کے لیے مجھ پر بڑا دباؤ تھا اور میں اس پر نادم رہوں گا'۔

 سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے گئے۔ روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے روس کیخلاف جہاد شروع کردیا۔ اسی ہزار جہادیوں کو اسلحہ اور تربیت دی گئی۔ روس کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ امریکہ نے کامیابی کے بعد جنرل ضیاء الحق کو تنہا چھوڑ دیا اور وہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔ 


جنرل (ر) پرویز مشرف (پیدائش: 11 اگست 1943ء، دہلی) پاکستان کے دسویں صدر تھے۔ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو بطور رئیس عسکریہ ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو جبراً معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ جس سے قبل آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو (chief executive) کہلاتے تھے۔ مشرف نے 18 اگست 2008ء کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران میں اپنے استعفی کا اعلان کیا۔ انہوں نے متواتر آئین کی کئی خلاف ورزیاں کیں اور علی الاعلان اس کو مانا۔ 17 دسمبر 2019ء کو ، پاکستان کی خصوصی عدالت نے غداری کے الزامات کے تحت انھیں سزائے موت سنائی۔

 نواز شریف کو جبراً اقتدار سے معزول کرنے کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو آف پاکستان کہلانے لگے اور قوم سے وعدہ کیا کہ ہم 3 سال کے اندر اندر الیکشن کروائیں گے تاکہ جمہوریت دوبارہ پٹڑی پر واپس لائی جاسکے۔
کچھ قیاس آرائیاں یہ بھی کہتی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کا نواز شریف کا فیصلہ بعد میں آیا جبکہ پرویز مشرف اس سے قبل ہی نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے کیلئے پلان تیار کرچکے تھے۔

بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت سے اسمبلی کو برخاست کیا اور نئے الیکشن کروائے۔

فوجی بغاوت کے بعد ذوالفقار بھٹّو نے نصرت بھٹّو کو پارٹی کا شریک سربراہ نامزد کر دیا تھا جبکہ اکتوبر 1977 میں بےنظیر کو بھی پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن مقرر کیا گیا۔

یہی وہ وقت تھا جب بےنظیر بھٹّو پارٹی کی مستقبل کی رہنما بن کر ابھریں اور پارٹی کا مقبول ترین سیاسی چہرہ بن گئیں۔ وہ اور نصرت بھٹّو جنرل ضیا کے خلاف مظاہرے اور احتجاج منظم کرتی رہیں اور جب موقع ملتا تو جیل میں ذوالفقار بھٹو سے ملاقاتیں بھی کرتیں۔

30 دسمبر 1985 کو جب جنرل ضیا نے مارشل لا کے خاتمے کا اعلان کیا تو تب ہی بےنظیر بھٹّو نے بھی وطن واپسی کا فیصلہ بھی کیا لیکن پارٹی کے بعض ارکان کا موقف تھا کہ بےنظیر بھٹّو نے اقتدار کو فوقیت دیتے ہوئے ذوالفقار بھٹّو کی سیاسی روش ترک کر کے پاکستان کی طاقتور فوج اور ریاست کے فیصلہ سازوں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ خود اُن کے بھائی مرتضیٰ بھٹّو کا موقف بھی یہی رہا۔

بےنظیر بھٹو سیاسی عمل کا حصّہ بننے کے لیے 10 اپریل 1986 کو وطن واپس پہنچیں تو لاہور میں ان کا شاندار اور تاریخی استقبال کیا گیا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔

اس فقیدالمثال استقبال اور شاندار سیاسی کامیابی کے بعد بےنظیر نے ملک بھر کے طوفانی دورے کیے اور زبردست سیاسی حمایت سمیٹی مگر انھیں ایک بار پھر گرفتار کر کے کراچی کی لانڈھی جیل میں قید کر دیا گیا۔

رہائی ملی تو انھوں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز تو کیا ہی مگر ساتھ ساتھ 18 دسمبر 1987 کو آصف علی زرداری سے شادی کر کے ایک نئی زندگی کا آغاز بھی کر دیا۔ اُن پر لکھی گئی کتابوں کے مطابق یہ ’ارینجڈ میرج‘ تھی اور آصف زرداری نصرت بھٹو کا انتخاب تھے۔

اس دوران پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیراعظم منتخب ہوئے مگر 29 مئی 1988 کو جنرل ضیا نے سانحۂ اوجڑی کیمپ کے تناظر میں محمد خان جونیجو کی حکومت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت تحلیل کر دیا۔

دو دسمبر 1988 کو بےنظیر نے پہلی بار پاکستان کی وزیر اعظم کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ بروک ایلن کے مطابق وہ پاکستان کے روشن خیال حلقوں کے لیے اُمید کی کرن تھیں اور یہی بات پاکستان کے ممتاز صحافی و دانشور غازی صلاح الدین بھی کہتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں غازی صلاح الدین نے کہا کہ ’اُس دن پہلی بار یہ اُمید پیدا ہوئی کہ اب پاکستان روشن خیالی، ترقی اور کامیابی کے راستے پر چل نکلے گا۔

میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔

25 دسمبر 1949 کو پیدا ہونے والے محمد نواز شریف نے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ان کے والد ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ ستر کی دہائی میں سیاست میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں انھیں پہلی بار حکومت میں کام کرنے کا موقع ملا جس میں وہ بطور وزیر خزانہ تعینات ہوئے۔

1985 کے غیر جماعت انتخابات کے بعد نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بن کر صوبہ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے سیاسی کیرئیر کا صحیح معنوں میں آغاز کیا ۔ 1988 کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے ابھرنے والی پارٹی کے ساتھ انھیں وفاق میں حکومت نہ مل سکی لیکن ایک بار پھر وہ وزیر اعلی بن گئے۔

لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے گرنے کے بعد 1990 کے انتخابات میں انھوں نے (آئی جے آئی) کی قیادت سنبھالی اور کامیاب انتخابی مہم چلانے کے بعد پہلی بار وزارت اعظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجا۔
لیکن محض تین سال میں صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کے باعث ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس فیصلے پر نواز شریف نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا جہاں جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں ان کی حکومت کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

دوسرے دور حکومت میں انھوں نے انڈیا سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور اس وقت کے اپنے انڈین ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کو لاہور دعوت دی۔

اس کے علاوہ 1998 میں انھیں کے دور حکومت میں پاکستان نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا جب بلوچستان میں چاغی کے مقام پر پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے
اس بار بھی نواز شریف اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے اور 1999 اکتوبر میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کی سربراہی سنھال لی۔
2006 میں اپنی روایتی حریف بینظیر بھٹو کے ساتھ لندن میں ملاقات کے دوران دونوں سابق وزرا اعظم نے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کیے اور ملک میں جمہوری دور کی واپسی اور پرویز مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا کا عہد کیا۔

سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ستمبر 2007 میں نواز شریف نے وطن واپسی کی کوشش کی لیکن مشرف انتظامیہ نے انھیں جہاز سے اترنے اجازت نہیں دی اور ائیر پورٹ سے ہی ان کے جہاز کو واپس سعودی عرب لوٹا دیا۔

لیکن صرف دو مہینے بعد انھوں نے ایک بار پھر وطن کا رخ کیا اور لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ پر ان کا فقدید المثال استقبال کیا گیا۔۔
2013 میں ہونے والے قومی انتخابات میں نواز شریف کی جماعت نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی جس کے بعد انھوں نے تیسری بار وزارت عظمیٰ سنبھالی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف (1988-99)کے دوران دو دو بار اقتدار میں رہے۔ یہ دور محاذ آرائی اور کرپشن کا دور تھا۔ بے نظیر نے افواج پاکستان کو ایٹمی میزائیل دئیے اور خواتین و نوجوانوں کو مقتدر بنانے کی کوشش کی۔ نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ کیا اور موٹر ویز تعمیر کیے۔ جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں میاں نواز شریف کو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ انکے (1999-08)دور میں سرمایہ کاری ہوئی جس کی صنعتی اور زرعی بنیاد نہیں تھی۔ جنرل مشرف نے نائن الیون کے بعد ٹیلی فون پر امریکہ کی شرطیں تسلیم کرکے پاکستان کو جنگ میں جھونک دیا جس میں اب تک اسی ہزار کے لگ بھگ معصوم اور بے گناہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں۔ اس دور میں بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی شہید ہوئے۔ 2008ء میں ایک بار پھر جمہوری دور شروع ہوا 2008-15ء کے دوران پہلے آصف علی زرداری اور اب میاں نواز شریف اقتدار میں ہیں۔ اسے مفاہمت کا دور کہا جاتا ہے گویا مل کر اقتدار انجوائے کرو۔ آج بھی سارا زور موٹرویز اور میٹروز پر ہے۔ تاریخ میں پہلی بار فوج اور سیاستدان باہم اشتراک سے کام کررہے ہیں۔ جو خوشگوار تجربہ ہے۔ اس جمہوری دور میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے سیاسی اہمیت حاصل کی ہے۔ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ تحریک انصاف اگلے انتخابات تک پی پی پی کی سیاست کو محدود کرکے پہلی یا دوسری وفاقی سیاسی جماعت بن جائیگی۔ 

2018 کے الیکشن کے نتیجے میں اور اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور طرف داری سے پاکستان تحریک انصاف الیکشن جیت کر عمران خان کو وزیراعظم کے لیے نامزد کرتی ہے اور وہ وزیراعظم بن جاتے ہیں۔

اپنی دو دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد اور اس سے پہلے بطور کرکٹر اور ملک میں کینسر کا جدید ہسپتال بنانے جیسے فلاحی منصوبوں پر کام نے عمران خان کو عوام میں مقبول تو بنایا مگر اس کے باوجود عموماً ان کی جماعت کی سنہ 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کو فوج کے پلڑے میں ڈالا جاتا ہے اور حزب اختلاف کے رہنما اکثر پارلیمان میں بھی انھیں ’سیلیکٹڈ‘ کا خطاب دیتے نظر آتے ہیں۔

اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں الزامات کا یہ سلسلہ پاکستان میں کم ہی رُکتا ہے۔ عمران خان کے اصل چیلنجز تو اِن کے معیشت، احتساب، طرز حکمرانی اور سفارت کاری کے شعبے سے متعلق وہ وعدے اور اعلانات ہیں جو ان کی انتخابی مہم اور منشور کا حصہ تھے۔

پاکستان نے 68 سالوں کے دوران کئی حوالوں سے ترقی بھی کی ہے۔ پاکستان کی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ صنعتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کی تعداد آج بہت زیادہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی بیرون ملکوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور پاکستان کو زرمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ میڈیا بڑا طاقتور ہوچکا ہے اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


Comments

  1. محب وطن تو کسی بات سے ہی واپس آئے گا مگر وقت کا فرعون ، اسٹیبلشمنٹ کا پالتو ضرور بے عزت کر کے نکالا جائے گا۔

    ReplyDelete
  2. کفار مکہ کے ظلم جب حد سے بڑھ گئے تھے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ آپ جیسے لوگ اس وقت بھی یہی آوازیں جاتے تھے۔ وقت ثابت کر دے گا۔ مگر لوگ شرمندہ نہیں ہونگے۔

    ReplyDelete
  3. جو تیرے در سے یار پھرتے ہیں
    در بدر یونہی خوار پھرتے ہیں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟