"مزاح نگاری" ذاتی مشاہدے کا خوش کن ذریعہ اظہار ہے

تحریر و آئیڈیا

رانا آصف شہزاد علی

مزاح نگاری

ُمزاح نگاری ایک خوش کن ہنر ، ایک آرٹ اور خوشگواری محسوسات کے اظہار کا بہترین اسلوب ہے۔اور اردو ادب میں طنز و مزاح کو عموماً یکساں معنوں میں لیا اور ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے،  طنز اور مزاح میں بڑا بنیادی اور واضح  فرق ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی حدودو قیود  ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر ایک دوسرے کے متوازی بھی چل رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ایسے ملی ہوتی ہیں کہ ان کو الگ کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ طنز سے مراد طعنہ، ٹھٹھہ، تمسخر یا رمز کے ساتھ بات کرنا ہے جب کہ مزاح سے خوش طبعی، مذاق یا ظرافت مراد لیا جاتا ہے۔

 بقول ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی:

عام طور پر ’’طنز‘‘ اور ’’مزاح ‘‘ کے الفاظ کو ملا کر بطور ایک مرکب کے استعمال کیا جاتا ہے مگر یہ دو مختلف المعانی الفاظ ہیں۔ مزاح کے لفظی معنی ہنسی مذاق، جب کہ طنز کے معنی طعنہ یا چھیڑ کے ہیں۔ ‘‘

مزاح زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے، جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے۔‘‘

مزاح کی اس تعریف کے مطابق ایک مزاح نگار زندگی میں موجود ناہمواریوں کو نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ تخلیقی سطح پر اس کا اظہار یوں کرتا ہے کہ اس سے ہنسی کو تحریک ملتی ہے۔ طنز اور مزاح میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ ایک مزاح نگار مزاح کا حصہ بن کر اس سے محظوظ ہو رہا ہوتا ہے، جب کہ طنز نگار سارے ماحول سے الگ تھلگ ہو کر اور اپنے آپ کو بچا کر چوٹ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ’’طنز میں ایک گونہ جارحیت اور ایذا کوشی کا عنصر موجود ہوتا ہے اور مزاح میں انسان دوستی کا شائبہ پایا جاتا ہے۔ ‘‘

مزاح تفکرات کو دور کرتا ہے۔ ہمارے سماجی رویہ کو ٹھیک رکھنے کے لئے مزاح پڑھنا ضروری ہے۔ دوسروں پر ہنسنا آسان اور اپنے آپ پر ہنسنا مشکل ہوتا ہے۔ مزاح نگاری بڑا مشکل کام ہے، لیکن قدرتی طور پر باصلاحیت آدمی کیلئے یہ مشکل نہیں ہے۔ مزاح نگار کو پل صراط پر چلنا پڑتا ہے، اسے بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، کہیں لوگوں کی پگڑیاں نہ اُچھل جائیں، کہیں کسی کی دل آزاری نہ ہو جائے، مزاح میں کہیں کوئی غیر اخلاقی عنصر نہ در آئے۔ مزاح میں متانت اور توازن ہونا چاہیے اور مزاح نگار کو اعلیٰ ظرف ہونا چاہیے۔جس طرح ادب لکھنے کے لئے یکسوئی ہونی چاہیے، اسی طرح مزاح لکھنے کے لئے سازگار حالات ہونے چاہئیں۔اول یہ کہ ملک میں سیاسی انتشار اور افراتفری نہ ہو اور دوسرا یہ کہ معاشی اور معاشرتی طور پر اور بین الاقوامی طور پر بھی حالات پر سکون ہوں اور پھر یہ کہ مزاح نگار کے اندر اور باہر کا موسم بھی ٹھیک ہو۔ ادب میں جو مزاح لکھا جاتا ہے، وہ طویل اور قدرے گہری سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے اور تخلیقی انداز میں لکھا جاتا ہے اور اس میں مبالغہ آرائی بھی ہوتی ہے، لہٰذا یہ طویل عرصہ تک زندہ رہتا ہے، جبکہ کالم سرسری طور پر اور جلدی میں لکھا جاتا ہے۔

طنز و مزاح کے چند فن پارے

‏حجّام کی دوکان پر لکھا ہوا پڑھا.۔۔۔۔۔

 "ہم دِل کا بوجھ تو نہیں لیکن سر کا بوجھ ضرور ہلکا کر سکتے ہیں۔"🤣🤣


لائٹ کی دوکان والے نے بورڈ کے نیچے لکھوایا....

"آپکے دِماغ کی بتی بھلے ہی جلے یا نہ جلے، مگر ہمارا بلب ضرور جلے گا"😁😁


چائے والے نے اپنے کاؤنٹر پر لکھوایا.....

"میں بھلے  ‏ہی عام ہوں مگر چائے اسپیشل بناتا ہوں"۔😄😄


ایک ریسٹورینٹ نے سب سے الگ فقرہ لکھوایا......

"یہاں گھر جیسا کھانا نہیں ملتا، آپ اطمینان سے تشریف لائیں۔"😊😊🙃

الیکٹرونک دوکان پر سلوگن پڑھا تو میں دم بہ خود رہ گیا...

"اگر آپ کا کوئی فین نہیں ہے تو یہاں سے لے جائیں۔"😅😅


گول گپے کے ‏ٹھیلے پر یوں لکھا تھا.....

"گول گپے کھانے کے لئے دِل بڑا ہو نہ ہو، منہ بڑا رکھیں، پورا کھولیں۔"😂😂


پھل والے کے یہاں تو غضب کا فقرہ لکھا دیکھا....

"آپ تو بس صبر کریں، پھل ہم دے دیں گے۔"😔🤪


گھڑی کی دوکان پر بھی ایک زبردست فقرہ دیکھا...

"بھاگتے ہوئے وقت کو اپنے بس میں رکھیں،

‏چاہے دیوار پر ٹانگیں، یا ہاتھ پر باندھیں۔"😁😀


"ایک نجومی نے اپنے بورڈ پر کُچھ یوں لکھوایا..

"آئیے... صرف 100 روپیہ میں اپنی زندگی کے آنے والے ایپیسوڈ دیکھئے"۔😄🧐


بالوں کی ایک کمپنی نے تو اپنے ہر پروڈکٹ پر لکھ دیا ھم بھی بال بال بچاتے ھیں😆😃


اور ایک دندان ساز کا لکھا فقرہ ‏پڑھا تو میں دم بہ خود رہ گیا

دانت کوئی بھی توڑے

لگا ہم دیں گے🤪😉


چٹائی بیچنے  والے نے کہا 900 روپے میں خریدیں ۔ ساری عمر بیٹھ کر کھائیں ۔۔


ایک دوکان میں لکھا دیکھا😅🧐

دوکان کے اوقات کار:

صبح 9 سے شام 6 تک،

ہم اپنی اوقات میں رہتے ہیں😀😄🤪😅



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟