اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟

 تحریر و آ ئیڈیا از رانا آصف شہزاد علی

مقدمہ عنوان ۔۔۔۔

انسان نے جب بھی ہست کی تہہ تک پہنچنے کی جستجو کی ہے، وہ پیچیدگی سے سادگی اور انیک سے ایک کی طرف گامزن ہوتا چلا گیا۔ اس سے بعض اوقات یہ تاثر بھی مرتب ہوا کہ رنگوں اور پرتوں کی حامل یہ وسیع کائنات ،سمندر کی سطح پہ مچلتی ہوئی ان موجوں کی مانند ہے جن کی اپنی کوئی ہستی نہیں۔ مثلاً تصوف نے کائنات کے مظاہر کو رسی میں سانپ کے مماثل قرار دیتے ہوئے انہیں سراب یا مایا کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقیقی نہیں، محض حقیقت کی پرچھائیں ہے۔،

اس کا مطلب ہے مقصود کی طلب، جستجو کی لگن ،سچائی کی تڑپ اور عمیق مشاہدہ صحیح راستے پہ لے جاتا ہے اور سچے ،کھرے،کھوٹے کی پہچان میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

زندگی جہد مسلسل کا نام ہے. یہاں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے چند امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے. ورنہ یہ جہد بہت جلد ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے. ان امور میں سب سے اہم اپنی ذات، اپنے آپ اور اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں,کوالٹیز اور رجحانات کو پہچاننا ہے.

نظام قدرت کے تحت دنیا میں آنے والا ہر ذی روح ،ہر بچہ کچھ نہ کچھ خصلت, صلاحیت ضرور لے کر آتا ہے۔ ہر بچہ  قدرتی طور پہ منفرد ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر کے پروردہ دو بچے دو انتہائی مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانا یا ان کا دب جانا دونوں ممکن ہیں۔ والدین کی ایک عظیم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو باصلاحیت بنائیں۔ بچوں کے اندر چھپی صلاحیتوں، خاصیتوں اور ٹیلینٹ کے ادراک کا فن اور اس کی صلاحیت والدین کی شخصیت کا وہ گوشہ ہے جسے خود والدین کو اپنے اندر فروغ دینا ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں ماں باپ کو اپنی انفرادی شخصیت کے ارتقاء کی طرف توجہ دینی ہوتی ہے۔ اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 

  • صلاحیتیں کہاں سے آتی ہیں؟
  •  اس کا ماخذ کہاں ہے؟
  • کیا اس کا تعلق وراثت کے ساتھ بھی ہے؟

جیسا کہ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ بچے تقریباً 34 فیصد عادات اپنے والدین سے وراثتی طور پہ لیتے ہیں۔ جو کہ موروثیت، رنگ ،نسل اور قدرتی حقیقی تعلق کی وضاحت و پہچان کرواتے ہیں۔

قدرت نے ہر شخص کو صلاحیتوں کے خزانے سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت ہی اسے کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ بے شک! کامیابی کےلیے محنت و جدوجہد ضروری ہے لیکن اس سے پہلے یہ لازم ہے کہ آدمی اپنی صلاحیت کو پہچانے، اسے پروان چڑھائے اور اس کی بنیاد پر اپنی کامیابی کی منزل کا تعین کرے۔

یہ بات ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ آپ میں یا آپ کے بچے میں صلاحیت تو موجود ہے لیکن جب تک آپ اس کی صحیح انداز میں پہچان اور نشوونما نہیں کریں گے اس سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں کرسکتے۔ بہت سے لوگوں کو اپنے اندر چھپی اس گرانقدر 

صلاحیت کا علم ہی نہیں ہوتا اور کچھ لوگ علم ہوجانے پر بھی حالات کے جبر کے باعث اس کی نشوونما نہیں کرپاتے یا پھر حوصلے کی کمی ان کے قدموں کو جکڑ لیتی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس دھن کے پکے اور حالات کے جبر کو خاطر میں نہ لانے والے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ثابت قدمی کے ساتھ اپنی صلاحیت کی نشوونما کرکے کامیابی کی منزل کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔ اس راہ میں صلاحیت ان کی سب سے بڑی طاقت، سب سے بڑی امنگ بن جاتی ہے۔ یعنی صلاحیتوں کی مناسب اور بروقت پہچان ، جدوجہد اور مقصد کی لگن راستے کے تعین کو آسان اور ممکن بنا دیتی ہے

اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار بو گی کہ ایک انسان میں بیک وقت صرف ایک ہی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ بیک وقت کئی صلاحیتوں،خاصیتوں کا مالک بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ سب صلاحیتیں ایک سی نہیں ہوتیں۔ ان میں سے کچھ اعلیٰ و ارفع درجے کی ہوتی ہیں جو انسان کے طبعی میلان، دلچسپی کا پتہ دیتی ہیں اور کچھ ادنیٰ وثانوی درجے کی۔ انسان کو اپنی اعلیٰ درجے کی صلاحیت کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے اس کی نشوونما کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ خود کرلیتے ہیں اور یہ طے کرلیتے ہیں کہ انھیں بڑا ہو کر کیا بننا ہے اس چیز کو جانے بغیر کہ اس بچے کا نیچرل ٹیلنٹ کیا ہے اور اسی کے مطابق وہ ان کو تعلیم دلواتے ہیں۔ اگر بچہ ذہین اور ہوشیار ہو تو والدین کی خواہش کو پورا کرلیتا ہے لیکن اگر اس کے برعکس ہو تو یہ خواہشات تشنہ ہی رہ جاتی ہیں۔ اگر والدین اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر اور بچے کی رائے کو بھی مقدم رکھ کے ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں تو نتائج ہمیشہ ان کی مرضی کے مطابق اور بہترین نکلیں گے۔ 

یہ بات بھی قابل توجہ ہے اور مشاہدے والی ہے کہ ماحول، کلچر کہ جس میں انسان پروان چڑھتا ہے صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور بعض صلاحیتیں صرف ماحول کی ہی پیداوار ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک ٹیچرکا بیٹا بڑا ہوکر ٹیچر ہی بنتا ہے اور نان بائی کا بیٹا نان بائی، کسی ادیب اور دانشور کا بیٹا بڑا ہوکر ادب کے شعبے کی طرف جاتا ہے تو ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر ہی بنتا ہے، یہ سب ماحول کی کارفرمائیاں ہیں۔ ماحول ہی ان سب میں یہ سب بننے کا رجحان پیدا کرتا ہے، وہ جس ماحول میں پیدا ہوتے ہیں اسی کا اثر لیتے ہیں لیکن تمام صورتوں میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ بعض اوقات صلاحیتیں انھیں ایک بالکل الگ ہی راستے پر لے جاتی ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کی صلاحیت ماحول کے برعکس زیادہ ابھر کر ان کی شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے


پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کے لیے ضروری عوامل

 ذیل میں چند ایسے اصول ہیں جنہیں اپنا کر انسان اپنے اندر جا اپنے بچوں کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان سکتا ہے، پھر انہیں بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو منوا سکتا ہے. وہ اصول و ضوابط یہ ہیں۔

  • پسندیدہ مشاغل کا مشاہدہ

اگر ہم بچوں کی پسندیدہ مشاغل کا مشاہدہ کر لیں تو ان کو پروفیشنل فیلڈ کے انٹرسٹ ایریاز کے ساتھ موازنہ کر کے اس کی جانچ کر سکتے ہیں اور موجودہ مسابقت کی مارکیٹ میں اس کی والیو چیک کی جاسکتی ہے۔

  • دلچسپ مصروفیتوں کی پہچان

سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ انسان اپنی یا اپنے بچوں کی دلچسپیوں کا جائزہ لے، کہ 

 کون سا کام اچھا لگتا ہے؟

مثلاً بعض آدمیوں کو کھانا بنانے میں بڑا مزہ آتا ہے، طرح طرح کی ڈشز تیار کرنے اور انہیں سرو کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو اس آدمی کو پہچان لینا چاہیے کہ اس میں باورچی بننے کی عمدہ صلاحیت ہے

اسی طرح بعض لوگوں کو پڑھنے، لکھنے اور لکھی چیزوں پر جائزہ لینے کی عادت ہوتی ہے، ایسے آدمیوں میں لکھاری بننے کی صلاحیت موجود ہے، اسے لکھاری بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  • تسکین و سکون کس چیز میں ہے

یہ پہچاننے کے لیے کہ مجھ میں کس کام کو کرنے کی بہترین صلاحیت ہے؟ یا اچھے سے پرفارم کر سکتا ہے۔

تو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ مجھے کون سا کام کر کے سکون ملتا ہے؟ کیونکہ پسندیدہ فیلڈ میں کام میں دلچسپی زیادہ ہوتی ہے

  •    پسندیدہ کام کو فوقیت  

اگر قدرتی طور پر میں کسی کام کو بلا وجہ فوقیت دے رہا ہوں تو سمجھیے مجھے اس کام میں دلچسپی ہے اور یہی وہ کام ہے جو مجھے کرنا چاہیے کیونکہ مجھ میں اس کام کے کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

حاصل گفتگو

یاد رکھیں اپنی قدر کریں خود کو کمتر نہ سمجھیں اور اپنی ذات، شخصیت کی سچائی ،صلاحیتوں پہ یقین کریں آپ کی زندگی میں جو شخصیت  سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ آپ خود ہیں اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ آپ تکبر میں مبتلا ہوجائیں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو غیر ضروری نہ سمجھیں۔اپنے  آپ کو جاننے کی کوشش کریں اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور سوچیں کہ آپ کیا کچھ کرسکتے ہیں ؟ کونسا ایسا کام ہے جس کے کرنے سے آپ کو ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے؟اس کے کرنے سے آپ تھکن محسوس نہیں کرتے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment