تخلیقی صلاحیتوں کا حصول بزریعہ اصلاح نظام تعلیم
تخلیقی صلاحیتوں کا حصول بزریعہ اصلاح نظام تعلیم
تحریر و آئیڈیا ۔ رانا آصف شہزاد علی
تخلیقی عمل کیا ہے؟
اصلا" یہ وہ عمل ہے کہ جس کی مدد سے انسان اپنے ہی وجود کی بامشقت قید سے رہائی پاتا ہے۔بالکل جیسے کوئی شے کسی مدار میں مسلسل گردش کرنے کے بعد معا" لپک کے ایک نئے اور کشادہ تر مدار میں چلی جائے۔ جسم ، معاشرہ، اسطور، تاریخ اور فن میں ہی نہیں، کائنات کے وسیع و عریض نظام میں بھی اس کا یہی اصول کارفرما ہے۔ خود حقیقت اولی' بھی ، جو وحدت الوجود کی علم بردار اور نام روپ سے بے نیاز ہے۔اپنے تخلیقی عمل میں اس کا واضح احساس دلاتی ہے۔
عملی زندگی میں سوچ وفکر میں جدت، تعمیری سوچ، نئے پہلوؤں کی جانچ، اس میں اپنی خدمات و عوامل کی بہتری مد نظر ہو تو سائنسی دنیا میں نئے مفروضات کی بنیاد بنتے ہیں اور اس طرح سے نئے قوانین کہ جن کا تعلق ہمارے معاشرے، اقتصادیات، زندگی کے چال چلن اور روئیے سے ہوتا ہے وجود میں آتے ہیں ۔یہی زندگی کی روانی میں تنوع انسانی زندگی میں بہتری کا باعث ہے اور سوشل سائنٹسٹ اس کو اہم قرار دیتے ہیں۔
دنیا کی کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نیا سوچنا
چیزوں کے پوشیدہ پہلووں پرغوروفکر کرنااورنیا آئیڈیاپیش کرنا تخلیق کہلاتا ہے۔
یقیناً خدا کی بنائی ہوئی عظیم کائنات کو دیکھنا اس پرغوروفکر کرنا،علم کے دروازوں کو کھولتا ہے۔اس کائنات میں پائی جانے والی مختلف توانائیوں اور قوتوں کا احساس،شعور و آگہی کو بیدار کرتا ہے۔ قدرت کے کمالات کی جستجو، اس کے سر بستہ رازوں کو جاننے کی کوشش ،انکشافات کا ذریعہ بنتی ہے۔اس کائنات میں موجود غیر معلوم اور ان دیکھے چیزوں کی تحقیق، دریافت کا ذریعہ بنتی ہے۔حقیقی تعلیم یہی ہے کہ طلبہ خود کی اور کائنات کی حقیقت سے روشناش ہوں ۔احساس و شعور کو بیدار کرکے تحقیق و جستجو کے ذریعہ نئے انکشافات اور دریافتیں کر سکیں
لیکن موجودہ دور میں تعلیم کے معنی کسی اسکول کے کمرے میں بیٹھ کر کسی مضمون کی کتاب کی چند سطور یاد کرلینااور امتحان میں ان یاد کی ہوئی چیزوں کو لکھ کر اچھے نمبرات حاصل کر لینا اور کسی نوکری کے اہل بننا ہے۔ لیکن اس کے ذریعےان میں اوصاف حمیدہ کی تشکیل ،ایک مضبوط شخصیت کی تعمیر اور ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے زندگی میں جن چیزوں میں مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کی کمی بہت محسوس کی جاتی ہے۔
شخصیت کی ارتقاء کے لیے اور اس کو صحیح سمت میں پروان چڑھانے کے لیے خود آگہی بہت ضروری ہے، فرد میں کون کون سی خوبیاں اور کون کون سی کمزویاں ہیں۔وہ کن باتوں میں دلچسپی لیتا ہے اور کن چیزوں میں دلچسپی نہیں لیتا۔کون سے کاموں کو بہتر طریقے سے کرسکتا ہے اور کونسے کام اس کو بھاری لگتے ہیں۔اپنی خوبیوں،خامیوں،دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو جاننے کا نام ہی خود آگہی ہے۔
تخلیقی عمل اجسام واعراض دونوں میں ہوسکتا ہے۔ مثلا
- نئے فکری زاویے اور نئی فکر
- نئے آئیڈیاز
- نئی تھیوریز
- خیا لات اور ان کی پختگی
اعراض میں تخلیق کی مثالیں ہیں۔ جبکہ اجسام میں تخلیق کی مثال میں کمپیوٹر، موبائل، مختلف مشیزی،تمام اپلائنسز پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علادہ زندگی کے عام کاموں کی انجام دہی کے لئے روایتی انداز سے ہٹ کر نئے انداز سے سوچنا اور نئے طریقوں سے ان کو انجام دینا بھی تخلیق کا حصہ ہے۔
تخلیقی صلاحیت کو انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس انسان میں تخلیقی صلاحیت جتنی زیادہ ہوگی۔ وہ عام زندگی میں اتنی ہی آسانی محسوس کرے گا ۔ اور معاملات کو کامیابی کے ساتھ نمٹانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔تخلیقی صلاحیت ہرکام کے لئے نئے راستے ڈھونڈنے اور زندگی کے عام مسائل کو بآسانی حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تخلیق کا عمل کہاں لاگو ہوتا ہے؟
تخلیقی میدان میں حواس خمسہ ا ورعقل سے حاصل شدہ علم ، جدید مادی دنیا کی تمام دریافتیں، عام انسانی زندگی کے مسائل کا حل، نیز کائنات کے تمام سربستہ راز شامل ہیں۔ ان میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی ضرورت ہے۔ اور جدت وندرت لانے کی کوششیں کرنی چاہییں۔
تخلیقی سوچ میں تین اہم عناصر ہوتے ہیں:
- (۱) جدت؛
- (۲) کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت ؛ اور
- (۳) کوئی قابل قدر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت۔
تاہم صرف جدت ہی کسی سوچ یا عمل کو تخلیقی نہیں بنا دیتی بلکہ اس میں مسائل کا حل بھی بہت ضروری ہے۔
تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں سےنمایاں کرتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق
- یہ لوگ انفرادیت پسند ہوتےہیں اور روایتی سوچ اور کردار کے مقابلے میں اپنی ذات اور سوچ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
- یہ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں
- اور اکثر معاملات میں خود مختار ہوتےہیں
- حتی کہ ان کے جاننے والے انہیں ضدی اور سرکش قرار دے دیتے ہیں۔
- ان میں عموماً لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس کم ہوتا ہے یہ مستقل مزاج ہوتےہیں،
- جس کام میں دلچسپی لیتے ہیں، اسے تندہی سے کرتے ہیں
- اور ناکامیوں اورمشکلات سے نہیں گھبراتے۔
- اگر ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ بھی جائیں تو یہ ثابت قدم رہتے ہیں۔
۔دنیا بہت تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے اور اِس تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں ہمارا نظامِ تعلیم اور اِس کے نتیجے میں حاصل کردہ ڈگری اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام بدحالی کا شکار ہے۔اِس کو ازسرِنو تعمیر کی ضرورت ہے۔اور پوری دنیا میں تعلیم کے معیار اور انداز پر اِس وقت بحث ہو رہی ہے۔اِس بات کی اہمیت کو سمجھا جا رہا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ نظامِ تعلیم میں بھی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارانظامِ تعلیم تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر رہا ہے
موجودہ نظامِ تعلیم میں لاگو ہے کہ جو کچھ کتابوں میں لکھ دیا گیا ہے وہی حرفِ آخر ہے اور جو بچے اُسے حرف بہ حرف امتحانی کاپی میں اتار لیں وہی بچے کامیاب ٹھہرائے جاتے ہیں۔
کئی دھائیوں سے ہم اسی طرح اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ماہرین تعلیم کے مطابق اِس وقت پوری دنیا میں تعلیم اصلاح طلب ہے۔ اِس کو مکمل طور پر نئے سِرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو کہ موجودہ حالات ، تقاضوں اور رجحانات پر پورا اترتی ہو۔ جدید سکلز کی تعلیم دینے والے ماہرین کہتے ہیں تعلیم میں انقلاب کی ضرورت ہے۔بچوں میں نئی چیزوں کی کھوج کے ممکنات پر بات کرنا ہو گی، سوالات پوچھنے اور ایک سوال کے مختلف انداز میں جوابات کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی.
ہمیں اس چیز کو سمجھنا ہوگا کہ علم کے دو لیولز ہیں۔ پہلا لیول کہ جس میں ہم اپنے آئیڈیالوجی کو بلڈ کرتے ہیں اور جس میں موجودہ علمی ذخیرے کو پڑھتے ہیں کہ جس میں ہماری کوئی فعالیت یا کنٹربیوشن نہیں ہوتی۔
اور جبکہ دوسرا لیول Creative علم کا ہوتا ہے جو ہم اپنے علم اور ہنر کی بنیاد پہ پروڈیوس کرتے ہیں۔ آج کی جتنی ریسرچ ہے وہ
Creative knowledge
کی بنیاد پہ ہو رہی ہے۔
V Good sir
ReplyDeleteV Good 👍
ReplyDeleteAbsolutely right sir
ReplyDeleteVery very nice
ReplyDeleteSuperb
ReplyDelete