مکالمہ اور دلیل ۔۔۔ وقت کی اہم ضرورت

 


مکالمے کی عملی تعریف
مکالمے یا گفتو شنید کا مطلب کسی مسئلے یا صورتِ حال میں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے ،کسی متفقہ ایجنڈے پہ اکٹھے ہونے یا باہمی افہام و تفہیم کی کوشش ہے۔
اس کی شائد بہترین طریقے سے مندرجہ ذیل موازنے میں وضاحت 
کی جاسکتی ہے۔ ایک مباحثے میں ایک جیتنے والا کہ جو  بہترین دلیل اور استدلال سے متاثر کرتا اور ایک ہارنے والا
ہتا ہےکہ جس کی فہم وفراست یا استدلال متاثر کن نہیں ہوتا ایک فرد بہتر دلیل پیش کرتے ہوئے جیتتا ہے، دوسرا  ہارتاہے۔ 
مکالمہً جبکہ مسابقتی یا برابری کی بنیاد پہ ہوتا ہے اور اختالف رائے کو بیان کرنے سے متعلق ہے۔ 
اس طرح سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں مکالمے میں ایک دوسرے کی اہمیت اور فہم وفراست،دلائل اور استدلال کو تسلیم کرتے ہیں اور معاشرتی برابری کا اظہار کرتے ہیں۔
  ،یوں حقیقتا 
ایک مکالمے میں دونوںفریق جیتنے والے ہوتے ہیں۔ میں آپ سے سیکھتا ہوں 
آپ مجھ سے سیکھتے ہیں۔ ہم اختلاف کرنے پر سمجھوتہ یا اتفاق کر 
سکتے ہیں۔ یہ بدرجہ غائت معکوس ہوتا ہے، اور یکسانیت اور فرق 
کو مساوی طور پر تسلیم کرتا ہے۔ سکولوں کے ساتھ ہمارے کام میں ہم 
مکالمے کی وضاحت )ایک طالب علم کے نکتہ نظر سے( ایسے  کرتے ہیں: 

ایسے لوگوں کے ساتھ مقابلہ جن کے خیالات، اقدار اور عقائد مجھ سے مختلف ہو سکتے ہیں، مکالمہ ایک عمل کا نام ہے جس کے ذریعے میں 
دوسروں کی زندگیوں، اقدار اور عقائد کو بہتر سمجھتا/سمجھتی ہوں اور 
دوسرے میری زندگی، اقدار اور عقائد کو سمجھتے ہیں۔

مکالمہ: وقت کی اہم ضرورت ہے کہ یہ وقت مکالمے کا تقاضا کررہا ہے۔ وہ متحرک عمل، مکالمے کا تقاضا کررہا ہے جس نے ہمارے سماج اور معاشرے کا چہرہ بدل دیا ہے۔ معاشرے میں مختلف لوگوں کی موجودگی کہ جن کی سوچ، معاشرت اور ثقافت مختلف ہو سکتی ہے مکالمے کا تقاضا کررہی ہے۔ آج کے انسان کے دلائل پختگی اور علم کی فراوانی مکالمے کا تقاضا کررہی ہے۔ و ہ پختگی اور بلوغت جس کے حصول کے لیے سفر کا آغاز ہم نے کسی غار سے شروع کیا تھا۔ کوئی کسی بھی تہذہب،  مذہب اور  سماج سے تعلق رکھتا ہو، ہر وہ انسان جو سوچتا اور بولتا ہے ؛ اُس انسان کا وقار مکالمے کا تقاضاکر رہا ہے۔
مکالمے کا مقصد سماج میں موجود مختلف  طبقات کے درمیان اتحاد، امن وامان اور یگانگت  کیعملی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے لیے زحمت اور تکلیف کا باعث بننے کے بجائے سماج کی تعمیر و ترقی اور امن و آشتی کے لیے معاون و مددگار بن سکیں۔  مکالمے سے مُرادمختلف ثقافتوں،  مذاہب، عقائد، پس منظر کے امن پسند لوگوں اور اداروں کے مابین تنازعات کے حل پر مرکوز تعمیری فکر بھی ہے۔ لہٰذا مکالمے کی مدد سے مختلف  مذاہب، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان افہام و تفہیم، مفاہمت اور قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔چنانچہ بین المذاہب مکالمے کا مقصد نئے عقائد متعارف کروانا یا مختلف مذاہب کے نمائندوں کا اپنے اپنے مذاہب سے دست بردار ہونا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے نمائندہ افراد اور اداروں کا اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے ان کے درمیان پُرتشدد تنازعات کے  خدشات کو ختم یا کم  کرکے تعاون کی راہیں روشن کرنا ہے۔

مکالمہ کے فوائد
  • مکالمہ ضروری ہے کہ مکالمہ ایسے مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے جو پیچیدہ ہوں اور تنازعات کی وجہ بن سکتے ہوں۔
  • مکالمہ تنازعات کو طول دینے کے بجائے رُک کر ایک دُوسرے کی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھ کر تنازع کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔
  • مکالمہ ایک بار مکمل بھی ہوسکتا ہے اور متحرک بھی رہ سکتا ہے۔
  • مکالمہ ایک مسلسل تعامل کا نام ہے۔
  • مکالمہ متنوع معاشروں میں پُرامن بقائے باہمی کا بنیادی راز ہے۔
  • مکالمہ مذہب سے دست برداری یا کسی نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کا نام نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات کی روح کا اپنے رویوں کے ذریعے احیاء نو کر کے امن، احترام، محبت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کو عام کرنے کا نام ہے۔

مکالمے کے چند بنیادی اصول ہیں۔
  • مکالمہ تعاون پر مبنی ہوتا ہے: دو یا اس سے زیادہ فریقین یا افراد مسائل کے متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا مقصد معاشرتی ربط اور تعلقات میں بہتری لانا ہے۔
  • مکالمے میں ذاتی تجربے کو شعورِ ذات اور تفہیم کی بنیادی اکائی تصور کیا جاتا ہے۔
  • مکالمے میں شناخت اور اختلافات کی دریافت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
  • مکالمے میں ہر ایک اپنے بہترین خیالات سامنے لاتا ہے۔ اپنے خیالات پیش کرنے والا یہ جانتا ہے کہ دُوسرے لوگوں کی آراء و خیالات اُس کے خیال میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔
  • مکالمہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم وقتی طور پر اپنے پیشگی فیصلے  اور پہلے سے قائم مفروضے معطل کردیں۔ مکالمے کے دوران مفروضہ جات اور تعصبات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مکالمے کے دوران ایک فرد یا گروہ اپنے خیالات یا مؤقف پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔
  • مکالمے کے دوران ہم دُوسروں کی بات اس لیے سنتے ہیں تاکہ ہم اُن کے مؤقف کو جان سکیں، مشترکہ معانی تلاش کرسکیں اوروہ مقامات تلاش کرسکیں جہاں تعاون ممکن ہو۔


مکالمے کی معاشرتی اہمیت
  • مکالمے کے دوران ہماری توجہ مسئلہ پر مرکوز ہوتی ہے۔ لیکن ہم دُوسروں کو بھی پُورا موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنا مؤقف بیان کرسکیں۔
  • مکالمے کے دوران ہم دُوسروں کے مؤقف کی خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • مکالمہ تفہیم کے راستے کھولتا ہے اور ہمیں اپنے تعصبات اور غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
  • مکالمے میں جذبات لوگوں کے مؤقف، خیالات اور ضروریات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
  • مکالمے کے دوران ہمیں غلط فہمیاں دور کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے اور توجہ مثبت اور صحت مند نتائج پر مرکوز ہوتی ہے۔
  • مکالمہ متحرک اور جاری رہنے والا عمل ہے۔
  • مکالمے کا اصل مقصد مشترکات  کی تلاش مقصد ہوتا ہے۔


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟