عام زندگی میں صائب فیصلہ سازی اور اس کی اہمیت

 تحریر و آئیڈیا ۔۔۔رانا آصف شہزاد علی

بنی نوع انسان کے لیے عام زندگی میں میں فیصلہ سازی اللہ رب العزت کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں میں میں سے ایک خاصیت ہے۔ اور اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس کو مستند علم کا درجہ دے دیا گیا ہے۔اور اس کے سائنسی قوانین مرتب کر دئے گئے ہیں۔عام زندگی کے معاملات ہوں یا کاروباری،فیصلہ سازی کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کی بن گئی ہے۔اور اسی لیے انسان جب اپنی ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے قوائد ضوابط بچوں ، طالبعلموں کو سکھائے جاتے ہیں۔
اس چیز سے قطع نظر کی درست فیصلہ سازی کی اہمیت ہماری عام، نجی اور کاروباری زندگی بہت زیادہ ہے۔اس کی باقاعدہ مضمون کے طور پہ ترویج ہر شعبہء زندگی کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ انسان نہ صرف عام زندگی میں بلکہ کاروباری معاملات میں بھی مختلف متبادل، آپشنز اور مواقع میں سے بہترین کا انتخاب کرنے کے مسئلے سے دو چار ہوتا ہے۔درست فیصلہ کرنے کی اہلیت نہ صرف بہترین انتخاب کو ممکن بناتی ہے بلکہ نقصان سے بھی بچاتی ہے اور روٹین لائف میں غوروفکر ، جستجو اور کولیگز سے بات چیت کے نئے در کھولتی ہے۔
اس کو اتفاق کہہ لیں، رواج کہہ لیں یا کچھ اور۔۔۔بدقسمتی سے ہمارے روایتی مڈل کلاس گھرانوں میں بچوں کی تربیت میں فرمانبرداری کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ ان کی قوت فیصلہ اور اہلیت ہی سلب کر لی جاتی ہے۔ان کو زندگی کے کسی بھی معاملے، مرحلے اور حتیٰ کی شادی وغیرہ جیسے ایشوز پہ بھی فیصلے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔اس کی صائب رائے کو بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا۔والدین کا کام اور زمہ داری اولاد کو معاشرتی تحفظ دینا ہوتی ہے مگر وہ ان کی شخصیت، پرسنالٹی اور فیصلوں پہ حاوی ہو جاتے ہیں۔ اور خصوصی طور پہ جو معاملات انسان کی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں مثلاً لائف پارٹنر کا چناؤ، شعبہ تعلیم، پروفیشنل کیرئیر، کاروبار کا چناؤ جیسے اہم معاملات سے بھی الگ رکھا جاتا ہے اور کسی قسم کی رائے طلب نہیں کی جاتی۔
ایسے سخت گھٹن زدہ ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے جب عملی زندگی میں جاتے ہیں تو قوت فیصلہ کا فقدان ان سے بہت ساری ترقی کے مواقع کا انتخاب نہیں کر پاتے۔ طرح طرح کی دشواریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی عائلی و عملی کاروباری معاملات میں غلط فیصلوں کا شکار ہو کر اپنی زندگی تباہی کر لیتے ہیں۔

کسی سیانے کا مشہور قول ہے کہ ۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ درست فیصلہ کرنے پہ یقین نہیں رکھتا بلکہ پہلے ارادہ کرتا ہوں اور پھر اسے صحیح حالت کرنے کی تگ ودو اور کوشش کرتا ہوں۔ یہ رویہ اور سوچ ایک مضبوط قوت ارادی اور پختہ عظم کی علامت ہے۔
والدین کو چاہئیے کہ بچوں کی تربیت کرتے وقت رائے سازی کی اہلیت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔لیکن ان کی مرضی اور ضد میں فرق کرنا پہلے خود اور پھر بچوں کو بھی سکھائیں۔اور اساتزہ بھی اس امر کو ممکن بنائیں جب طلباء وطالبات کی تربیت کے وقت رائے سازی، برداشت، دوسروں کی بات کو سننا اور اختلاف رائے کو برداشت کرنا اور اپنی رائے کو معقول انداز میں بیان کرنا بھی سکھائیں۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کی زمہ داری صرف تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہے اور اور مختلف علوم و فنون، ہنر سکھانا بھی ہے ۔

طلباء وطالبات کی اس ہہلو سے تربیت کہ سوال کریں، دلیل اور مقالمہ کو ہتھیار بنائیں اور انداز بیان کو عقل وفہم کی کسوٹی پہ پرکھ کے پیش کریں۔ ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات ابھر کے سامنے آئی ہے کہ والدین اور اساتذہ کا کردار بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں بہت گہرا ہوتا ہے اور ایسا علم آپ کے لیے تباہی ہے کہ جو آپ کے ذہن میں کسی سوال کو جنم نہیں دیتا، غور وفکر کی دعوت نہیں دیتا، اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں مدد نہیں دیتا۔

ماہرین اور دانشور اس بات کے قائل ہیں کہ کبھی بھی غصے اور خوشی کی کیفیت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، یعنی وہ تمام حالتیں جس میں آدمی جذبات میں قید ہو، اس کیفیت میں کبھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ تمام فیصلے جو فرد نے شدید جذباتی کیفیت میں کیے جاتے ہیں زیادہ تر ان پرپچھتانا پڑتا ہے۔

حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں، غصہ وہ شیر ہے جو پورے مستقبل کو بکرا بنا کر کھا جاتا ہے ناامیدی کی حالت میں بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس حالت میں اندر کی آنکھ ایسی تصویریں دکھارہی ہوتی ہے جس سے لگتا ہے مستقبل اچھا نہیں ہے۔ اس حالت ناامیدی کے جذبات غالب ہوتے ہیں۔
جب بھی فیصلہ کریں تو دیکھیے کہ ہمارے دماغ کا حقیقت پسندانہ حصہ کتنا متحرک ہے کیونکہ وہ اعدادو شمار بناتا ہے، خطرات کا جائزہ لیتا ہے مستقبل کا سوچتا ہے اور اندازہ لگاتا ہے۔

زندگی ایک لمحے میں بدل سکتی ہے:
زندگی میں صدیوں میں، سالوں میں مہینوں میں اور دنوں میں نہیں بدلتی بلکہ زندگی ایک لمحے میں بدل جاتی ہے اور وہ لمحہ وہ ہوتا ہے کہ جب آدمی فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی بدلنی ہے۔ اگر دو سمتیں بنی ہوں، ایک پر اوسط لکھا ہو اور ایک پر یادگار اور آپ فیصلہ کرنا ہوکہ مجھے باقی کی زندگی معیاری اور اعلیٰ گزارنی ہے تو اپنیاندر کی تصویر میں یادگار کو نشان ذد کیجئے۔ اس دنیا میں مثالیں دینے والے بے شمار ہیں لیکن مثال بننے والے بہت کم ہیں۔ مثال بننے والے انسان بنیں۔ کہا جاتا ہے اس دنیا میں نہ کوئی کامیاب ہے اور نہ کوئی ناکام ہے۔ اس دنیا میں صرف انتخاب ہے اور انتخاب فیصلوں سے ہوتا ہے اپ فیصلوں میں برکت ڈال دیتا ہے۔ وہ فیصلے نہ صرف اچھے نتائج دیتے ہیں بلکہ ان فیصلوں میں برکت ڈال دیتا ہے۔اس کے علاوہ ایسے فیصلوں سے دوسروں کا بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ہم کتنے قیمتی انسان ہیں جب ہم بدلتے ہیں تو کتنا کچھ بدل جاتا ہے اس لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کیجئے۔
بے شمار لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں لیکن اس کے نتائج کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اگر آپ فیصلہ کرکے یہ کہنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں کہ اب طوفان آئے بادو باروں آئے، کچھ ہوجائے میں نتائج قبول کروں گا تو پھر یہ جرات اور یہ ہمت فیصلے کے لئے مناسب وقت تخلیق کردیتی ہے۔

زندگی میں ہر انسان کو متعدد بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں وہ صحیح فیصلہ کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔آدمی تذبذب کی کیفیت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے کسی قطعی رائے تک نہیں پہنچتا ہے۔تذبذب یا پس و پیش کی اس کیفیت کو قوت فیصلہ کی کمی یاقوت فیصلہ کا فقدان کہا جاتا ہے۔قوت فیصلہ میں کمی یا فقدان کا اہم سبب بچوں کی نا قص تربیت ہوتی ہے۔بچوں سے کیا جانے والا بے جا لاڈ پیار اور جائز و ناجائز مطالبات کی تکمیل کے علاوہ بچوں کی ضرورتوں کی تکمیل کا فریضہ دیگر افراد کی جانب سے انجام دینے کی وجہ سے بچوں میں سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے۔

خطرے مول لینے کی بنیاد علم،تربیت،محتاط مطالعہ،اعتماد اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔غلطی سے خوف زدہ ہوکرکسی پر خطر کام میں ہاتھ نہ ڈالتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح ہیں۔بالکل نہیں،بلکہ ہماری یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔فیصلہ نہ کر نا ایک بیماری ہے جو ایک متعددی بیماری سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔


قوت فیصلہ تبھی مضبوط ہوتی ہے جب ہم اپنے سامنے درپیش آپشنز کو بڑھاتے ہیں۔ اور جب ہم کسی اور کی رائے کو اہمیت نہ دے کر رد کرتے ہیں تو رائے کے متبادل، آپشنز اور ممکنہ حل کے چانسز کم کر رہے ہوتے ہیں۔ صرف اپنی ہی رائے کو کسی اور کی بات ،دلیل اور مشورہ سنے بغیر فوقیت دینا اصل میں جہالت کی علامت ہوتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کی یہ مشترکہ زمہ داری ہے کہ اگلی نسل کو اپنی ذاتی سوچ، نقطہء نظر اور علم کی حد سے آگے جانے دیں۔ان کے لیے تحقیق وجستجو کے در کھولیں تاکہ وہ دنیا کو مزید آگے لیکر جا سکیں۔


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

"فلسفہء زکوٰۃ " مسائل زکوٰۃ ، مصارف اور اہمیت

Self-Employment

اپنی اور اپنے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان کیسے کریں؟