ہمارے سو کالڈ منتخب نمائندے
تحریر و آئیڈیا رانا آصف شہزاد علی
"ہمارے منتخب نمائندے"
نہ نو من تیل ہوگا ،نہ رادھا ناچے گی
Democracy
یعنی جمہوریت یونانی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے demot یعنی لوگ اور Kratos یعنی پاور ۔تو اس کا مطلب ہوا کہ لوگوں کے ذریعے طاقت اور اختیار حاصل کرنا، اور لوگوں یعنی سوسائٹی پہ ہی اختیارات کا استعمال۔ اس نظام حکومت میں لوگ اپنے نمائندوں کا چناؤ الیکشن کے ذریعے کرتے ہیں کہ جن کا کال عوام کے بہترین مفاد میں قانون سازی کرنا ،بنیادی ضروریاتِ زندگی مہیا کرنا، اور ایک ایسا ماحول بنا کے دینا کہ قانون کا اطلاق سب شہریوں پہ ایک جیسا ہو۔کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
آج کے ترقی یافتہ دور ہر کوئی جمہوریت کی سپرٹ سے واقف ہے اور اس نظام کی افادیت کو سمجھتا ہے مگر پھر بھی بھی اس کے اطلاق اور ماہیت کے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں اور کنفیوژن موجود ہے۔ آزادی اور جمہوریت دو مختلف الفاظ ہیں مگر ان کا مطلب ایک جیسا ہی ہے۔ جمہوریت ایک آزمایا ہوا بہترین نظام حکومت ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں بڑے پیمانے پر لاگو ہے۔ کہ جس میں لوگوں کو آزادی ہوتی ہے وہ اپنے پسند کے لوگوں کو منتخب کرکے حکومتی ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔ اور لوگ کے نفسیات، پسند ناپسند ، معاشرتی رجحانات کے مطابق کسی سوسائٹی کو چلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
جمہوری نظام حکومت عوام کے لیے مختلف حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ جس میں
- اظہار رائے کی آزادی
- مزہبی آزادی
- لوگوں سے تعلقات استوار کرنے کی آزادی بشمول خاندان
- قانون کے اطلاق اور نفاذ سب شہریوں پہ ایک جیسا ہو شامل ہیں۔
ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی ضمانت دیتی ہے اور اس کے بدلے میں لوگوں کا خلوص حب الوطنی حاصل کرتی ہے۔ عوام اس چیز پہ اندھا یقین رکھتی ہے کہ ان کو معلومات تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ حکومت و ریاستی معاملات سے آگاہ رہ سکیں۔اس ضمن میں میڈیا اور ابلاغ کا آزادانہ نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اور اس کے علاؤہ ایسے انتظامات کا بھی ضامن ہے کہ لوگوں کے نظریاتی اخلاص، سوچ ، کنڈکٹ کو بہتر کیا جائے۔
جمہوریت بہترین انتقام ہے کا سلوگن محترمہ بینظیر بھٹو نے دیا تھا مگر ان کا اشارہ ان غیر جمہوری، آمرانہ اور شاطر قوتوں کی طرف تھا کہ جو اس سسٹم کو پاکستان میں ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے -اسی طرح امریکہ کے پاپولر صدر ابراہم لنکن اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ اپنے لوگوں میں سے ہی کچھ لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے لوگوں کے ووٹوں سے تاکہ اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جائے۔ قانون سازی کی جائے۔
الیکٹرانک بو پرنٹ میڈیا پہ ہر وقت جمہوریت کے فائدے اور دوررس اثرات کا راگ الاپا جاتا ہےکہ اس کے عوام الناس کی زندگی میں بہت فائدے ہیں۔ تو آئیے ہم ان فوائد کو سوال کی شکل دیتے ہوئے اپنی سوسائٹی میں ان کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔
جمہوری سسٹم اس لیے بہتر ہے کہ اس تمام فیصلے باہم گفت و شنید اور رضا مندی سے کیے جاتے ہیں۔
اس کا جواب تو ہمیں اپنے معاشرے میں موجود تقسیم، سیاسی اختلافات، برداشت کی کمی اور اقتصادی بدحالی سے ہی مل جاتا ہے۔عوام کو تو بنیادی معلومات تک ہی رسائی نہیں ہے جو فیصلہ سازی کے لیے درکار ہوتی ہے۔ یہ سراسر جمہوری روایات کے برعکس ہے۔
یہ سسٹم اختلاف رائے اور سوچ کی تقسیم کو بہتر انداز میں ڈیل کرتا ہے۔
اختلاف رائے کو مینج اور حل کرنے کا طریقہ بہتر دلیل اور مقالمہ ہے۔ اور یہ تبی ممکن ہے جب آپ کے پاس بحث کے موضوع پہ سیر حاصل معلومات ہوں اور بہترین انداز گفتگو اور پر اثر دلیل اس میں معاون ثابت ہو گی۔ دلیل اور مقالمہ بحث اور غصے کو زائل کرتا ہے۔
یہ سسٹم ریاست اور شہریوں کی بنیادی جمہوری حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ حقوق تو اسی وقت دیے جاسکتے ہیں جب لوگوں کو اس قابل سمجھا جائے گا۔ریاست ڈنڈے کے زور پہ اپنا ایجنڈا مسلط کرے گی تو ری ایکشن بھی آئے گا ۔ یہاں پہ تو لوگوں کو ریاستی سوچ و فکر اپنانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ اختیارات کا غلط استعمال کرکے لوگ جبری غائب کر دئے جاتے ہیں۔ماورائے قتل اور شمالی علاقے جات کی سیر کی اصطلاح ہر زبان زد عام ہے۔ جو کہ اختیارات سے تجاوز اور نوکر شاہی کی من مانے کام کرنے کی بد ترین مثال ہے۔
یہ سسٹم لوگوں میں اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے یکساں اطلاق کی ضمانت دیتا ہے۔
عام شہری اپنی رائے کا اظہار کیا کرے گا یہاں تو میڈیا ہاؤسز کو چپ کروایا جاتا ہے۔صحافی اٹھا لیے جاتے ہیں ۔قتل کیے جاتے ہیں ان کی خلاصی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ ملک سے فرار ہو جائیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی کارفرمائیاں عوام کے لیے مستقل سوہان روح بن چکی ہیں۔
اور لوگوں میں اس احساس کو پروان چڑھاتا ہے کہ ترقی کے مواقع تک رسائی، قابلیت، اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پہ ہوتی ہے۔
اس صورتحال کا اندازہ اس سےلگا لیں کہ رشوت سے نوکریاں بک رہی ہیں۔ ریاستی اداروں کے اہل کار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کنٹریکٹ بیس پہ دوبارہ اپوائنٹ کیے جارہے ہیں جبکہ ملک کا پڑھا لکھا نوجوان بے روزگار ہے۔ اور قابل ذہن یہاں سے دوسرے ممالک میں نوکریوں کی تلاش میں جارہے ہیں۔
لمبی تمہید کی ضرورت یہ اعتراف کرنے کو محسوس ہوئی ہے کہ پیر کی شام ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے بعد سے میرا دل مسلسل بجھا ہوا اور من کھول رہا ہے۔مذکورہ اجلاس کے انعقاد سے دوروز قبل روایتی اور سوشل میڈیا کی بدولت مری میں ہوئے المناک واقعات نے عوام کی اکثریت کو اداس وپریشان کردیا تھا۔ہماری نمائندگی کے دعوے دار اراکین کے لئے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ مذکورہ واقعات کو نظرانداز کرتے ہوئے منی بجٹ کی حمایت یا مخالفت میں تقاریر فرمانا شروع ہوجاتے۔’’عوامی نمائندگی‘‘ کا واہمہ برقرار رکھنے کے لئے سپیکر کو لہٰذا مجبور کیا گیا کہ وہ اس دن کے ایجنڈے کو بھلاکر سانحہ مری کو زیر بحث لائیں۔ سپیکر اسد قیصر کو اس امر پر آمادہ کرنے میں ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوا۔کافی تاخیر کے بعد اجلاس شروع ہوا تو مری میں ہوئے واقعات ہی زیر بحث آئے۔
سپیکر کی جانب سے ایوان میں ادا ہوئے مذکورہ کلمات میرے اور آپ جیسے بے اختیار شہری نہیں بلکہ رعایا کو یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ قومی اسمبلی میں ’’ہمارے نمائندے‘‘ ہرگز نہیں بیٹھے ہوئے۔زندگی کی تمام را حتوں سے مالا مال افراد کا ایک طاقتورگروہ ہے جو حکومت اور اپوزیشن میں منقسم ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔اس ایوان سے ہمارے حقیقی مسائل کا حل ڈھونڈنا تو دور کی بات ہے ان کی بابت سنجیدہ بحث کی توقع بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ و ہ ’’شہرسنگ دل‘‘ ہے جسے منیر نیازی ’’جلادینا‘‘ چاہتے تھے۔ میری بھی خواہش تقریباََ ویسی ہی ہے۔میں اگرچہ ہماری زندگیوں پر نازل ہوئے آسیبوں (مہنگائی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام) کو منیر صاحب کی طرح للکارنے کی جرأت سے محروم ہوں۔
ہمیں بحثیت قوم اب سوچنا ہو گا کہ کیا ہم نے جن لوگوں کو منتخب کرکے طاقت کے ایوانوں میں بھیجا ہے وہ ہمارے صحیح ترجمان, اور انتخاب ہیں۔ شخصی غلامی اور شخصیت پرستی سے نکل کر عقل و فہم کو بنیاد بنا کر ایسے نمائندے منتخب کرنے ہوں گے ۔ جو نہ صرف ہماری زندگیوں میں بہتری لا سکیں بلکہ جمہوری روایات کو بھی مضبوط کریں۔ جمہوری ذہن بھی رکھتے ہوں اور انسانیت کا احترام جمہوری اصولوں کی پاسداری سے کریں۔
Good
ReplyDeleteGOlden Words.
ReplyDeleteMashAllah... Sir Good Work
ReplyDeleteMashaallah good work sir G
ReplyDelete