جمہوریت کا مقدمہ
جمہوریت کا مقدمہ۔
از رانا آصف شہزاد علی
یہ سابقہ لاحقے، کرپٹ، آئین کے دشمن، اب کھل کے سامنے آ رہے ہیں ۔ جمہوریت پہ شب خون مارنا ان کی عادت بن گئی ہے۔اس سوچ اور اپروچ کا سد باب کرنا جمہوری قوتوں کی پہلی زمہ داری ہے۔ ان کی اصلاح کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ اب ضروری ہو گیا ہے ۔۔۔۔ صحیح معنوں میں جمہوریت کےدشمن ہیں یہ ۔۔۔ اور صدارتی سسٹم کی آڑ میں پھر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں. جیسا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے دم چھلے جنرل ایوب خان نے نوکر شاہی کو ساتھ ملا کر واردات ڈالی تھی اور محترمہ فاطمہ جناح کو غدار تک کہا تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے بھی نوے دن کا کہہ کے قوم کے گیارہ سال کھا لیے۔اگر طیارہ حادثہ نہ ہوتا شاید اب تک ضیا الحق کی شخصیت سے یہ قوم نجات نہ پاتی۔ اور پھر مشرف کہ جو سیدھی سادھی دھونس دھاندلی سے ایک منتخب سیاسی لیڈر کو ہٹا کر زبردستی اقتدار پہ قابض ہو گیا۔
جب ہم جمہوریت اور جمہوری سوچ کے نہ پنپنے کا نوحہ پڑتے ہیں تو اس میں سارا قصور عسکری اسٹبلشمنٹ کا بھی نہیں ہے۔پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ میں عدلیہ کا رول بھی کوئی آئیڈیل یا قابل فخر نہیں رہا۔ عدلیہ ہمیشہ فوجی ڈکٹیٹرز کے ساتھ ایک ہی پیج پہ نظر آئی ہے اور پاپولر سیاسی قیادت کے خلاف ہمیشہ عدلیہ کا کندھا استعمال کیا گیا۔ سیاسی قیادت یا ورکرز کے خلاف کیسسز کو فوری سنا جاتا ہے جبکہ فوجی جرنیلوں اور ریٹائرڈ ججز کے خلاف کبھی کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ ابھی حال ہی میں ثاقب نثار کا جو رول رہا ہے۔ قوم سارا کچھ جانتی ہے کہ عدلیہ کیسے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوئی۔
اسی طرح سیاسی جماعتوں اور قیادت، ورکرز کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ سیاسی پارٹیوں کو اب سیاسی ادارہ بننا چاہئیے تاکہ اس پارٹی ورکرز کی سیاسی تربیت کا اہتمام کیا جاسکے۔ ناکہ یہ سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایا میں سکون حاصل کریں۔ اور ویسے پاکستان میں تو اب تک سیاسی جماعتوں نے خود کو فیملی لمیٹڈ کمپنیاں ہی ثابت کیا ہے۔
سیاست اور قیادت کے حوالے سے پاکستان دینا کا عجیب تر ملک ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، مادر محترمہ فاطمہ جناح، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان، جنرل ضیاء الحق، محترمہ بینظیر بھٹو کی المناک شہادت کے حوالے سے سازشیں ابھی تک بے نقاب نہیں ہو سکیں۔ اسی طرح سانحہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سلسلے میں عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی نتیجے میں حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مطابق جن زمہ داروں کا تعین کیا گیا تھا ان کو ابھی تک کوئی سزا نہیں دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ یہ کمیشن رپورٹ پاکستان میں ابھی تک پبلک نہیں کی گئی۔ عوام کے ووٹ تو شاید بیلٹ بکسوں میں ہی پڑے رہتے ہیں، اور منتخب حکومتوں اور پاپولر سیاسی قیادت کو سازشوں کے ذریعے چلتا کر دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے جو کچھ کیا عوام اس سے بخوبی واقف ہے۔
کبھی معین قریشی، کبھی شوکت عزیز اور کبھی عمران خان کی صورت میں سیلیکٹڈ سرکار کہ جن کا سیاست میں کوئی کنٹربیوشن نہیں ہے۔ کوئی سیاسی نظریہ، قربانی نہیں ۔۔۔مسلط کر دیا جاتا ہے۔ اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قسمت کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ آئین پاکستان میں فوج کا کردار متعین ہے لیکن فوجی جرنیل بار بار آئین جیسی عظیم اور مقدس دستاویز کو پاؤں تلے روندتے ہیں۔ ہماری مزہبی جماعتیں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے سہولت کار کا کام دیتی ہیں۔ جمہوریت کا بار بار قتل کیا گیا اور ملک پاکستان کو نہ اسلامی رہنے دیا گیا نہ جمہوری۔۔۔۔۔۔
جمہوریت کی ترویج میں ایک دو میڈیا ہاؤسز کو چھوڑ کے باقی سارے اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور پالیسیز کے ہی گن گاتے نظر آتے ہیں۔میڈیا چینل عوامی مسائل کی ڈسکشن کے فورم ہیں ناکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہم رکاب۔ میڈیا ہاؤسز کو بغیر کسی دباؤ اور لالچ کے سچی رپورٹنگ کرنی چائیے تاکہ عوام تک سچ اور حق بات پہنچے۔ریٹنگ کی دوڑ میں اخلاقیات اور سچ کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے۔
اور اب تو حد یہ ہے کہ میڈیا پہ اپنے گھناؤنے فعلوں کی ترجمانی کے لیے ریٹائرڈ لوگوں کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں ہیں اور میڈیا کو دھونس دھاندلی سے مجبور کیا جاتا ہے کہ ان کو اپنے ٹی وی ٹاک شوز کا لازمی حصہ بنالیں۔
انہی کرپٹ جرنیلوں، اور اسٹیبلشمنٹ کے دم چھلوں نے پاکستان بننےکےبعد 26 سال تک آئین نہیں بننے دیا- اور جو عبوری آئین 1958ء یا 1962ء میں بنا ۔اسے بار بار معطل کرتے رہے۔ 1971 ء کےسیاسی بحران میں شیخ مجیب کے چھ نکات بھی ان کی یہی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں بنے۔ شیخ مجیب کا مطالبہ بھی اسی عبوری آئین کی بحالی تھا۔ کیونکہ اس وقت کا فوجی ڈکٹیٹر جنرل یہیی'خان اپنے لیے صدارت برقرار رکھناچاہتا تھا۔
ان سابقوں لاحقوں کو کوئی عقل مند سمجھائے کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس کی کچھ اکائیاں ہیں اس میں مختلف قومیت، رنگ، نسل اور علاقوں کے لوگ ہیں۔جن کے سیاسی حقوق ، پاور شئیرنگ میں رول اور نمائیندگی کی وضاحت اور حفاظت 1973ءکا آئین کرتا ہے۔پارلیمانی نظام بہترین سسٹم ہے حکومت کرنے کا۔ اب تک کا دنیا میں رولنگ سسٹم کا مطالعہ یہی بتاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں 1973ء کا آئین ایک ایسا متفقہ سوشل کنٹریکٹ ہے جو اس وقت کی مجموعی قومی، مزہبی ،سیاسی قیادت کی دور اندیشی، سیاسی بصیرت اور دانش کا نتیجہ ہے۔ اس وقت بھی 1971ء کے سانحے کے زخم اگر تازہ نہ ہوتے کیونکہ اس وقت تو فوج کا مورال انتہائی ڈاؤن تھا۔ ان کی ہی ہٹ دھرمی اور غیر لچکدار روش کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو چکا تھا۔اگرچہ یہ واردات کا الزام بھی انہوں نے سیاست دانوں کےدامن پہ لگانے کی کوشش کی۔جو کامیاب نہ ہو سکی۔ان حالات میں 1973ء کا آئین منظور ہوا۔وگرنہ اسٹیبلشمنٹ نے کسی صورت آئین منظور نہیں ہونے
دینا تھا۔
جب تحریک پاکستان چل رہی تھی تو پاکستان کے معمارو
نے پارلیمانی نظام کو ہی اس کے لیے پسند کیا تھا۔کیونکہ یہ سب سٹیک ہولڈرز کو مطمئن کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔جب کہ یہ سابقہ نوکر جو عوامی ٹیکس پہ پلتے ہیں اپنی انفرادی کم عقل دانش کو مجموعی سیاسی قیادت کی دانش سے افضل سمجھتے ہے۔جیسا کہ جنرل ضیاء الحق کہتا تھا کہ آئین کیا ہے صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے میں جب چاہوں ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں۔ صدارتی نظام آمروں کی پسند رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی پارلیمانی تاریخ میں فوجی ڈکٹیٹرز کے آنے سے جو قباحتیں، خرابیاں، اور برائیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ان کو ختم کیا جائے۔یعنی اس آئین کی فلٹریشن کی جائے۔اور نسل نو کو یہ بتانے ،سمجھانے کی ضرورت ہے کہ فوجی ڈکٹیٹرز آئین شکنی کے مرتکب ہوئے
۔موجودہ دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی سلیبس کے ذریعے اپنی نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ پاکستان کا رولنگ سسٹم یعنی ڈیموکریسی کیا ہے؟
اس کی سپرٹ کیا ہے؟
جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہاں کا حکومتی سسٹم پارلیمانی نظام کو لاگو کیا گیا۔ ظاہری بات ہے کہ اس کے کافی فائدے ہیں جو دوسرے نظاموں نظر نہیں آتے۔ حتی کہ پاکستان میں قابض ڈکٹیٹرز نے بھی مارشل لاء کے دوران اس کی معاونت سیاستدانوں سے حاصل کی۔ ڈیموکریٹک سسٹم کو صحیح معنوں میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔
Its sooo good sir
ReplyDeleteBut sir i think zia ul haq was great personalty
ReplyDeleteAlways live long sir 😘
ReplyDelete