تحریک عدم اعتماد کا مسترد ہونا ، قانونی پہلو، سازش یا وقت کی ضرورت

 تحریر و ترتیب ۔۔۔ رانا آصف شہزاد علی


 سیاسی صورتِ حال اور اتوار کو قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کی اسپیکر کی رولنگ پاکستان پر پاکستان قانونی ماہرین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بیشتر وکلا کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے پاس تحریکِ عدم اعتماد کی کارروائی کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا جب کہ بعض وکلا اسے قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔

اتوار کو قومی اسمبلی میں کیا ہوا تھا؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اتوار کو ایوان کی مختصر کارروائی کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف حز ب اختلاف کی پیش کردہ تحریکِ عدم اعتماد کو بغیر ووٹنگ کروائے غیر آئینی قرار دے کر مستر کر دیا تھا۔

ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں کہا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ اس لیے نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ اسے مبینہ طور پر ایک بیرونی ملک کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت نے پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر کےفیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی کارروائی اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام ریاستی عہدے داروں کو کوئی بھی ماورائے آئین اقدام کرنے سے روک دیا ہے۔

تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری سیاسی بحران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے کے بعد ایک آئینی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی رولنگ پہ اٹھنے والے سوالات ۔۔۔۔

  • کیا ایک دفعہ جب عدم اعتماد کی تحریک کے لیے دن مخصوص ہو جائے تو کیا اسے ریجکٹ کر سکتے ہیں؟
  • عدم اعتماد کہ وجہ پہ بحث کب ہوتی ہے؟
  • بغیر وجہ پہ گفتگو کیے کیا عدم اعتماد کی تاریخ طے ہو سکتی ہے؟
  • آرٹیکل 5 کیا ہے اور کیا ڈپٹی اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ اس آرٹیکل کے تحت رولنگ دے سکے؟
  • کیا ڈپٹی اسپیکر عدم اعتماد کی تحریک کے متعلق رولنگ دے سکتا ہے؟

اس ساری سیچویشن میں ماہرین کی کیا رائے ؟

ماہرِ قانون سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ دنیا کی پارلیمانی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب اسپیکر کے اس نوعیت کے اقدامات کو عدالتوں نے غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

اُن کے بقول اگر پارلیمانی معاملات میں رکاوٹ آ رہی ہو تو عدالت اس میں مداخلت کر سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے برطانوی پارلیمنٹ میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے 'بریگزٹ' کی مثال دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'بریگزٹ' پر برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے اسپیکر نے اس معاملے پر بلایا گیا اجلاس بحث کرائے بغیر ملتوی کر دیا تھا۔ تاہم برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اسپیکر کی رولنگ مسترد کرتے ہوئے انہیں اجلاس دوبارہ بلا کر بحث کرانے کی ہدایت کی تھی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس خاص طور پر تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس مرحلے پر ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے ووٹنگ کی اجازت نہ دینا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے اور یہ آئینی ضرورت تھی کہ ووٹنگ کایہ عمل مکمل کیا جاتا۔

البتہ حکومت کے حامی بعض وکلا کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ایوان میں دی گئی اسپیکر کی رائے اور فیصلوں کو تحفظ حاصل ہے اور انہیں کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 پاکستان کی سیاست میں بیرونی مداخلت کے الزامات کی:ہ کہانی بہت پرانی ہے

اسی طرح بعض قانونی ماہرین سلمان اکرم راجہ سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔


سپریم کورٹ کے وکیل چودھری فیصل حسین ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کے اندر ہونے والی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

چودھری فیصل کا کہنا تھا کہ ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق کارروائی بھی پارلیمانی عمل کا حصہ ہوتی ہے جسے ان کے بقول آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت تحفظ حاصل ہوتاہے۔

اسی طرح مشہور آئینی و قانونی ماہر حامد خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کا یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ آرٹیکل نمبر پانچ کو اپلائی کر سکے یا اس کی وضاحت کرے۔ یہ اس کی ڈومین میں نہیں آتا۔ اور ایک دفعہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو جائے یا ڈیٹ فکس ہو جائے تو بغیر بحث کیے اس کے متعلق فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اور ایک اور اہم نکتہ کہ قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر صرف ہاؤس کو ہیڈ کر سکتا ہے وہ رولنگ پاس نہیں کر سکتا یہ اختیار اسپیکر کا ہوتا ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'پلڈاٹ' کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل پانچ، بنیادی نوعیت کا آرٹیکل ہے جس میں ملک سے وفاداری کا تذکرہ ہے۔

اُن کے بقول اس آرٹیکل کا سہارا لے کر تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کو نہیں روکا جا سکتا۔

احمد بلال کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 95 کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے جس کا تعلق عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے ہے۔

اُن کے بقول اس آرٹیکل کے تحت اگر قومی اسمبلی میں اراکین کی اکثریت قائدِ ایوان پر اعتماد نہ کرے تو وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔

احمد بلا ل کا کہنا تھاکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے آئین کی پابندی کرنا لازمی ہے اور ان کےبقول قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کی شق 37 کے مطابق جب تک تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل مکمل نہ ہوجائے اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

احمد بلال کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے فیصلے کی آئینی حیثیت کا تعین ان کے بقول سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

اُن کے بقول اگر یہ معاملہ جلد عدالت میں جلد طے نہیں ہوتا ہے تو پھر ملک کو درپیش سیاسی بحران کو عام انتخابات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل اسپیکر کے اقدامات کا تعین کرنا ضروری ہو گا کہ یہ آئینی تھے یا غیر آئینی۔

اُن کے بقول تحریکِ عدم اعتماد جو آئین اور پارلیمان کے قواعدوضوابط کے تحت پیش کی گئی تھی اس پر ووٹنگ کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار آئین میں موجود ہے جس سے انحراف ممکن نہیں ہے۔

آئینی و قانونی ماہرین کی عمومی رائے

ملک بھر کے آئینی و قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ عمران آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔ قاسم سوری نے غیر قانونی اقدام کیا۔ ان پر غداری کا مقدمہ بننا چاہیے۔ احسن بھون کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام کے خلاف سازش ہوئی۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں اسپیکر کی رولنگ خلاف آئین دکھائی دے رہی ہے۔ صلاح الدین احمد نے کہا کہ آئین و جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ راجہ خالد اور شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ڈپٹی اسپیکر کی کارروائی یقیناً کالعدم قرار دے گی۔

رشید رضوی کا کہنا تھا کہ اقتدار کے لئے آئین سے کھیلا گیا۔ سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ عدالت نے اقدام غیر قانونی قرار دیا تو تحلیل کا اقدام ریورس ہو جائے گا اور تحریک عدم اعتماد اپنی جگہ قائم رہے گی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اپوزیشن سپریم کورٹ میں بتائے کہ اجلاس کی کارروائی فکس تھی۔ حامد خان نے کہا کہ اقدام غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

Comments

  1. sir g tusi no doubt aik respectacble person ho with good nature lekin choro or lotero ko support kar k tusi saaara apna status kharab kita hoya ... 😔😏

    ReplyDelete
    Replies
    1. بیٹا چوروں کو چور ثابت کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے کیسے ممکن ہے ایک اخلاق باختہ بد زبان شخص کی بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں۔۔۔۔

      Delete

Post a Comment